حدیث نمبر: 2402
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا عُبيد بن عبد الواحد، حدثنا سعيد بن أبي مريم، أخبرنا يحيى بن أيوب، أخبرني عمرو بن الحارث، أن بكر بن سَوَادة أخبره عن أبي سالم الجَيْشاني، عن زيد بن خالد الجُهَني، أَنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن آوى ضالَّةً فهو ضالٌّ ما لم يُعرِّفْها" (2). صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2371 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کسی گمشدہ جانور کو ٹھکانہ دیا (اور اس کا اعلان نہ کیا) تو وہ خود بھی گمراہ ہے جب تک کہ وہ اس کی (باقاعدہ) تشہیر نہ کر دے۔“
اس کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2402
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب» [ترقيم الرساله 2402] [ترقيم الشركة 2384] [ترقيم العلميه 2371]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل يحيى بن أيوب - وهو الغافقي - وقد توبع.
درجۂ حدیث: "حدیث صحیح" ہے، اور یحییٰ بن ایوب الغافقی کی وجہ سے سند "حسن" ہے، نیز اس کے متابعات بھی ثابت ہیں۔
أبو سالم الجيشاني: هو سفيان بن هانئ.
نوٹ / توضیح: ابو سالم الجیشانی کا اصل نام سفیان بن ہانی ہے۔
وأخرجه أحمد 28/ (17055)، ومسلم (1725)، والنسائي (5774)، وابن حبان (4897) من طريق عبد الله بن وهب، عن عمرو بن الحارث، بهذا الإسناد. فاستدراك الحاكم له ذهولٌ منه.
حوالہ / مصدر: یہ حدیث صحیح مسلم (1725) میں موجود ہے، اس لیے مستدرک میں اس کا استدراک امام حاکم کی بھول ہے۔
وأخرجه أحمد (17055) من طريق عبد الله بن لَهيعة، عن بكر بن سوادة، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابن لہیعہ کے طریق سے بھی روایت کیا ہے۔
قال النووي في "شرح مسلم" 12/ 28: هذا دليل للمذهب المختار أنه يلزمه تعريف اللقطة مطلقًا سواءًا أراد تملّكها أو حفظها على صاحبها، وهذا هو الصحيح. ويجوز أن يكون المراد بالضالة هنا ضالة الإبل ونحوها مما لا يجوز التقاطه للتملك، بل إنها تُلتقط للحفظ على صاحبها، فيكون معناه: من آوى ضالة فهو ضالٌّ ما لم يعرّفها أبدًا. والمراد بالضالّ المفارق للصواب.
فقہی نکتہ: امام نووی کے مطابق یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ "لقطہ" (گری ہوئی چیز) کی تشہیر (تعریف) ہر حال میں واجب ہے، چاہے اسے خود رکھنے کی نیت ہو یا مالک تک پہنچانے کی۔ "ضالّ" (گمراہ) کا مطلب یہاں "حق سے ہٹنے والا" ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2402 سے ماخوذ ہے۔