حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الربيع بن سليمان، حدثنا الخَصِيب بن ناصِح، حدثنا عبد العزيز بن محمد الدَّرَاوَردي، عن موسى بن عُقبة، عن نافع، عن ابن عمر: أنَّ النبي ﷺ نَهَى عن بيع الكالئِ بالكالئِ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم (2)، ولم يُخرجاه. وقيل: عن موسى بن عقبة عن عبد الله بن دينار:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2342 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم (2)، ولم يُخرجاه. وقيل: عن موسى بن عقبة عن عبد الله بن دينار:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2342 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «كالي بالكالي» (ادھار کے بدلے ادھار) کی بیع سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدَّثَناه أحمد بن محمد بن إسماعيل بن مِهْران، حدثنا أبي، حدثنا المِقدام بن داود الرُّعَيني، حدثنا ذؤيب بن عِمامة، حدثنا حمزة بن عبد الواحد، عن موسى بن عُقبة، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، عن النبي ﷺ: أنه نهى عن بيع الكالئِ بالكالئِ (1). سمعت الأستاذ أبا الوليد يقول: النهي عن بيع الكالئِ بالكالئ: هو النَّسيئة بالنَّسيئة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2343 - ذؤيب واه
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2343 - ذؤيب واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے «كالي بالكالي» (ادھار کے بدلے ادھار) کی بیع سے منع فرمایا۔ میں نے استاد ابوالولید کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ «كالي بالكالي» کی بیع سے مراد ادھار کے بدلے ادھار کی بیع ہے۔