کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جس نے ماں اور اس کے بچے کو جدا کیا اللہ قیامت کے دن اسے اس کے پیاروں سے جدا کر دے گا۔
حدثنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، من أصل كتابه غيرَ مرة، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا شعبة، عن الحَكَم، عن عبد الرحمن بن أبي ليلى، عن عليّ، قال: قدم على النبي ﷺ سَبْيٌ، فأمرني ببيع أخوَين، فبعتُهما وفَرّقتُ بينهما، ثم أتيتُ النبي ﷺ فأخبرتُه، فقال: "أدرِكْهُما فارتجِعهما، وبِعْهُما جميعًا ولا تُفرّقْ بينَهما" (1)
هذا حديث غريب (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن الحَكَم عن ميمون بن أبي شَبِيب عن علي، وهو صحيح أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2331 - على شرط البخاري ومسلم غريب
هذا حديث غريب (1) صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وقد قيل: عن الحَكَم عن ميمون بن أبي شَبِيب عن علي، وهو صحيح أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2331 - على شرط البخاري ومسلم غريب
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ کے پاس کچھ قیدی آئے تو آپ ﷺ نے مجھے دو بھائیوں کو فروخت کرنے کا حکم دیا، میں نے انہیں فروخت کر دیا اور ان کے درمیان جدائی کر دی، پھر میں نے نبی کریم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہو کر آپ کو بتایا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان کے پیچھے جاؤ اور انہیں واپس لے کر آؤ، اور ان دونوں کو اکٹھے ہی فروخت کرو، ان کے درمیان ہرگز جدائی نہ کرو۔“
یہ حدیث غریب ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ایک قول کے مطابق یہ روایت حکم سے ميمون بن ابی شبيب کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ بھی صحیح ہے:
یہ حدیث غریب ہے اور شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا، اور ایک قول کے مطابق یہ روایت حکم سے ميمون بن ابی شبيب کے واسطے سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے اور وہ بھی صحیح ہے:
أخبرَناه عبد الرحمن بن حَمْدان الجَلّاب، حدثنا أبو حاتم الرازي، حدثنا عبد المؤمن بن علي الرازي، حدثنا عبد السلام بن حَرْب، عن يزيد بن عبد الرحمن أبي خالد الدَّالاني، عن الحَكَم، عن ميمون بن أبي شَبِيب، عن علي بن أبي طالب: أنه باعَ جاريةً وولدَها، ففرَّق بينَهما، فنهاهُ رسولُ الله ﷺ عن ذلك (2). هذا متن آخر بإسناد صحيح.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2332 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2332 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک لونڈی اور اس کے بچے کو فروخت کیا اور ان کے درمیان جدائی کر دی، تو رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس کام سے منع فرما دیا۔
یہ ایک اور سند کے ساتھ صحیح متن ہے۔
یہ ایک اور سند کے ساتھ صحیح متن ہے۔
حدثنا أبو علي الحسين بن علي الحافظ، أخبرنا عبد الله بن محمد بن ناجِية، حدثنا عبد الرحمن بن يونس السَّرّاج، حدثنا أبو بكر بن عيّاش، عن سليمان التيمي، عن طُلَيق بن محمد، عن عِمران بن حُصين، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَلعُونٌ مَن فَرّقَ" (1). هذا إسناد صحيح، ولم يُخرجاه. وتفسيرُه في حديث أبي أيوب الأنصاري الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2333 - صحيح
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2333 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”وہ شخص ملعون ہے جو (ماں اور بچے کے درمیان) جدائی ڈالے۔“
یہ سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تشریح سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں موجود ہے:
یہ سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی تشریح سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کی اس حدیث میں موجود ہے:
أخبرَناه أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا سليمان بن عبد الرحمن الدمشقي، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني حُيَيّ بن عبد الله، عن عبد الله بن يزيد الحُبُلي، عن أبي أيوب الأنصاري، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن فَرّق بين والدةٍ وولدِها، فَرّق اللهُ بينه وبين أحبّتِه يومَ القيامة" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص ماں اور اس کے بچے کے درمیان جدائی پیدا کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان جدائی ڈال دے گا۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔