المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
النَّهْيُ عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ باب: پانی بیچنے سے ممانعت ہے۔
حدیث نمبر: 2319
أخبرَناه أبو الحسين محمد بن أحمد بن تَميم الحَنْظلي، حدثنا أبو قِلَابة عبد الملك بن محمد الرَّقَاشي، حدثنا أبو عاصم، أخبرنا ابنُ جُرَيج، عن أبي الزُّبَير، عن جابر: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بَيع الماء، وعن ضِراب الجَمَل، وأن يبيعَ الرجلُ أرضَه وماءَه (2). وهذه أسانيد كلُّها صحيحةٌ على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1). وأحسنُ ما في هذا الباب حديث الحسين بن واقِد الذي:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2288 - على شرط مسلم_x000D_
أَخْبَرَنَاهُ أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْحَنْظَلِيُّ، ثنا أَبُو قِلَابَةَ عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّقَاشِيُّ، ثنا أَبُو عَاصِمٍ، أَنْبَأَ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «نَهَى عَنْ بَيْعِ الْمَاءِ، وَعَنْ ضِرَابِ الْجَمَلِ، وَأَنْ يَبِيعَ الرَّجُلُ أَرْضَهُ وَمَاءَهُ» وَهَذِهِ أَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَأَحْسَنُ مَا فِي هَذَا الْبَابِ حَدِيثُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ» الَّذِي:حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پانی کی بیع، اونٹ کی جفتی کی اجرت لینے، اور کسی شخص کے اپنی زمین (یا اس کے) پانی کے حقوق بیچنے سے منع فرمایا ہے۔
یہ تمام اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے انہیں روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل محمد بن أحمد بن تَميم، وقد توبع، وابن جُرَيج قد صرَّح بسماعه عند مسلم وغيره، وكذا أبو الزُّبَير: وهو محمد بن مسلم بن تدرس. أبو عاصم: هو الضحّاك بن مَخْلَد.
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند محمد بن احمد بن تمیم کی وجہ سے حسن ہے۔ ابن جریج اور ابوزبیر (محمد بن مسلم بن تدرس) کا سماع مسلم وغیرہ میں ثابت ہے۔
وأخرجه ابن حبان (5155) من طريق محمد بن معمر، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد. لكنه اقتصر على قصة ضِراب الجمل.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5155) نے ابوعاصم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں صرف اونٹ کی جفتی (ضراب) کا ذکر ہے۔
وأخرجه مسلم (1565)، وابن ماجه (2477)، وابن حبان (4953) من طريق وكيع بن الجرّاح، ومسلم (1565) من طريق يحيى بن سعيد القطان، ومسلم (1565) من طريق روح بن عُبادة، والنسائي (4682) و (6221) من طريق حجّاج بن محمد أربعتهم عن ابن جُرَيج، به. واقتصر وكيع والقطان على ذكر النهي عن بيع فضل الماء. هكذا بذكر الفضل دون الأصل، لكن زاد ابن حبان في روايته: نهى عن بيع فضل الماء ليُمنَع به الكلأُ.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1565)، ابن ماجہ (2477) اور ابن حبان (4953) نے وکیع، یحییٰ القطان اور روح بن عبادہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔ ابن حبان کی روایت میں ہے: "ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے روکا تاکہ اس کے ذریعے گھاس (چراگاہ) کو نہ روکا جائے"۔
ولفظ رواية روح: نهى رسول الله ﷺ عن بيع ضراب الجمل، وعن بيع الماء والأرض لتُحرث.
ولفظ حجاج: نهى رسول الله ﷺ عن بيع ضراب الجمل، وعن بيع الماء، وبيع الأرض لتحترث، يبيع الرجل أرضه وماءه.
تفصیلِ روایت: روح کی روایت کے الفاظ ہیں کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی جفتی کا معاوضہ لینے، پانی بیچنے اور کاشتکاری کے لیے زمین (کرائے پر) دینے سے منع فرمایا۔ حجاج کی روایت میں بھی یہی مفہوم ہے۔
وسيأتي برقم (2390) من طريق حماد بن سلمة عن أبي الزُّبَير. مقتصِرًا على ذكر النهي عن بيع فضل الماء.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (2390) پر حماد بن سلمہ کے طریق سے آئے گی جس میں صرف زائد پانی کی فروخت کی ممانعت ہے۔
وسيأتي بعده مقتصرًا على هذا الحرف كذلك من طريق عطاء بن أبي رباح عن جابر.
نوٹ / توضیح: عطاء بن ابی رباح کی روایت میں بھی یہی ٹکڑا آئے گا۔
وقد ظهر من رواية روح وحجاج أنَّ المنهي عنه بيعُ ضراب الجمل، لا ضراب الجمل نفسُه، فهو مندوب إليه كما في حديث آخر لجابر عند مسلم (988) قال فيه النبي ﷺ: "ومن حقها إطراق فحلها". وانظر ما تقدم برقم (2312).
فنی نکتہ: روح اور حجاج کی روایات سے واضح ہے کہ ممانعت جفتی کے "معاوضے" (بیع) کی ہے، جفتی کی نہیں۔ نر جانور کو جفتی کے لیے دینا مستحب ہے جیسا کہ مسلم (988) کی حدیث میں ہے۔
ولمنع بيع فضل الماء انظر ما تقدم برقم (2317).
حوالہ / مصدر: ضرورت سے زائد پانی کی بیع کی ممانعت کے لیے سابقہ نمبر (2317) ملاحظہ فرمائیں۔
وظهر أيضًا من رواية روح وحجاج أنَّ معنى بيع الرجل أرضه وماءه، هو لأجل الحرث، أي: إجارتها للزرع، وهذا مقيَّد بما يكون فيه جهالة وغرر كما تقدم في حديث رافع بن خديج الذي أخرجه البخاري (2343 - 2345)، ومسلم (1547).
مجموعی اصول / قاعدہ: زمین اور پانی کی بیع سے مراد اسے کاشتکاری کے لیے کرائے (اجارہ) پر دینا ہے، اور یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اس میں "جہالت" یا "دھوکہ" (غرر) ہو، جیسا کہ رافع بن خدیج کی بخاری و مسلم والی روایت میں گزر چکا ہے۔
(1) قد أخرجه مسلم، لكن مقتصرًا على ذكر النهي عن بيع فضل الماء!
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے، لیکن صرف ضرورت سے زائد پانی (فضل الماء) کی فروخت کی ممانعت کے ذکر پر اکتفا کیا ہے!
درجۂ حدیث: یہ حدیث صحیح ہے اور اس کی سند محمد بن احمد بن تمیم کی وجہ سے حسن ہے۔ ابن جریج اور ابوزبیر (محمد بن مسلم بن تدرس) کا سماع مسلم وغیرہ میں ثابت ہے۔
وأخرجه ابن حبان (5155) من طريق محمد بن معمر، عن أبي عاصم، بهذا الإسناد. لكنه اقتصر على قصة ضِراب الجمل.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان (5155) نے ابوعاصم کے طریق سے روایت کیا ہے، مگر اس میں صرف اونٹ کی جفتی (ضراب) کا ذکر ہے۔
وأخرجه مسلم (1565)، وابن ماجه (2477)، وابن حبان (4953) من طريق وكيع بن الجرّاح، ومسلم (1565) من طريق يحيى بن سعيد القطان، ومسلم (1565) من طريق روح بن عُبادة، والنسائي (4682) و (6221) من طريق حجّاج بن محمد أربعتهم عن ابن جُرَيج، به. واقتصر وكيع والقطان على ذكر النهي عن بيع فضل الماء. هكذا بذكر الفضل دون الأصل، لكن زاد ابن حبان في روايته: نهى عن بيع فضل الماء ليُمنَع به الكلأُ.
حوالہ / مصدر: اسے مسلم (1565)، ابن ماجہ (2477) اور ابن حبان (4953) نے وکیع، یحییٰ القطان اور روح بن عبادہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔ ابن حبان کی روایت میں ہے: "ضرورت سے زائد پانی بیچنے سے روکا تاکہ اس کے ذریعے گھاس (چراگاہ) کو نہ روکا جائے"۔
ولفظ رواية روح: نهى رسول الله ﷺ عن بيع ضراب الجمل، وعن بيع الماء والأرض لتُحرث.
ولفظ حجاج: نهى رسول الله ﷺ عن بيع ضراب الجمل، وعن بيع الماء، وبيع الأرض لتحترث، يبيع الرجل أرضه وماءه.
تفصیلِ روایت: روح کی روایت کے الفاظ ہیں کہ نبی ﷺ نے اونٹ کی جفتی کا معاوضہ لینے، پانی بیچنے اور کاشتکاری کے لیے زمین (کرائے پر) دینے سے منع فرمایا۔ حجاج کی روایت میں بھی یہی مفہوم ہے۔
وسيأتي برقم (2390) من طريق حماد بن سلمة عن أبي الزُّبَير. مقتصِرًا على ذكر النهي عن بيع فضل الماء.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے نمبر (2390) پر حماد بن سلمہ کے طریق سے آئے گی جس میں صرف زائد پانی کی فروخت کی ممانعت ہے۔
وسيأتي بعده مقتصرًا على هذا الحرف كذلك من طريق عطاء بن أبي رباح عن جابر.
نوٹ / توضیح: عطاء بن ابی رباح کی روایت میں بھی یہی ٹکڑا آئے گا۔
وقد ظهر من رواية روح وحجاج أنَّ المنهي عنه بيعُ ضراب الجمل، لا ضراب الجمل نفسُه، فهو مندوب إليه كما في حديث آخر لجابر عند مسلم (988) قال فيه النبي ﷺ: "ومن حقها إطراق فحلها". وانظر ما تقدم برقم (2312).
فنی نکتہ: روح اور حجاج کی روایات سے واضح ہے کہ ممانعت جفتی کے "معاوضے" (بیع) کی ہے، جفتی کی نہیں۔ نر جانور کو جفتی کے لیے دینا مستحب ہے جیسا کہ مسلم (988) کی حدیث میں ہے۔
ولمنع بيع فضل الماء انظر ما تقدم برقم (2317).
حوالہ / مصدر: ضرورت سے زائد پانی کی بیع کی ممانعت کے لیے سابقہ نمبر (2317) ملاحظہ فرمائیں۔
وظهر أيضًا من رواية روح وحجاج أنَّ معنى بيع الرجل أرضه وماءه، هو لأجل الحرث، أي: إجارتها للزرع، وهذا مقيَّد بما يكون فيه جهالة وغرر كما تقدم في حديث رافع بن خديج الذي أخرجه البخاري (2343 - 2345)، ومسلم (1547).
مجموعی اصول / قاعدہ: زمین اور پانی کی بیع سے مراد اسے کاشتکاری کے لیے کرائے (اجارہ) پر دینا ہے، اور یہ ممانعت اس صورت میں ہے جب اس میں "جہالت" یا "دھوکہ" (غرر) ہو، جیسا کہ رافع بن خدیج کی بخاری و مسلم والی روایت میں گزر چکا ہے۔
(1) قد أخرجه مسلم، لكن مقتصرًا على ذكر النهي عن بيع فضل الماء!
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم نے بھی روایت کیا ہے، لیکن صرف ضرورت سے زائد پانی (فضل الماء) کی فروخت کی ممانعت کے ذکر پر اکتفا کیا ہے!
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2319 سے ماخوذ ہے۔