حدیث نمبر: 2317
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه وعلي بن حَمْشاذَ العَدْل، قالا: حدثنا بِشر بن موسى، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان [حدثنا عمرو بن دينار] (1) قال: سمعت أبا المِنْهال يقول: سمعتُ إياسَ بن عبدٍ المُزَني، ورأى رجلًا يبيع الماء، فقال: لا تَبيعوا الماءَ، فإني سمعتُ رسول الله ﷺ يَنهى عن بَيع الماءِ (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2286 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ایاس بن عبد مزنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو پانی بیچتے ہوئے دیکھا تو فرمایا: پانی مت بیچو، کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو پانی کی بیع سے منع فرماتے سنا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2317
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير الأسدي المكي، وأبو المنهال: هو عبد الرحمن بن مُطعم البُناني.» [ترقيم الرساله 2317] [ترقيم الشركة 2299] [ترقيم العلميه 2286]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) سقط اسمُ عمرو بن دينار من النسخ الخطية، وسقط هذا الطريق برمّته على ابن حجر فلم يذكره في "إتحاف المهرة" (2047)، فاستدركنا ذكر عمرو بن دينار من "سنن البيهقي الكبرى" 6/ 15، حيث رواه عن أبي عبد الله الحاكم، وهو كذلك في "مسند الحميدي" (912). على أنَّ سفيان - وهو ابن عيينة - لم يُدرك أبا المنهال، لأنَّ مولده بعد وفاة أبي المنهال بسنة تقريبًا.
فنی نکتہ: قلمی نسخوں سے عمرو بن دینار کا نام گر گیا تھا، ہم نے اسے بیہقی (6/ 15) اور مسند حمیدی (912) سے درست کیا ہے۔
اہم نکتہ: سفیان بن عیینہ کی ملاقات ابوالمنہال سے ثابت نہیں کیونکہ ان کی پیدائش ابوالمنہال کی وفات کے ایک سال بعد ہوئی (اس لیے درمیان میں عمرو بن دینار کا واسطہ ضروری ہے)۔
(2) إسناده صحيح. الحُميدي: هو عبد الله بن الزُّبَير الأسدي المكي، وأبو المنهال: هو عبد الرحمن بن مُطعم البُناني.
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔ حمیدی سے مراد عبد اللہ بن زبیر مکی اور ابوالمنہال سے مراد عبد الرحمن بن مطعم بنانی ہیں۔
وأخرجه أحمد 28/ (17236)، وابن ماجه (2476)، والنسائي (6212)، وابن حبان (4952) من طرق عن سفيان بن عيينة، بهذا الإسناد. زاد أحمد وابن حبّان في روايتهما: لا يدري عمرو أيُّ ماء هو.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن ماجہ، نسائی اور ابن حبان نے سفیان بن عیینہ کے طرق سے روایت کیا ہے۔ احمد اور ابن حبان کی روایت میں یہ بھی ہے کہ: "عمر کو معلوم نہیں تھا کہ وہ کون سا پانی ہے"۔
وسيأتي بعده من طريق ابن جُرَيج عن عمرو بن دينار، وبرقم (2391) من طريق داود بن عبد الرحمن المكي عن عمرو بن دينار.
تفصیلِ روایت: یہ روایت آگے ابن جریج اور داود بن عبد الرحمن (نمبر 2391) کے طرق سے بھی آئے گی۔
قال الخطابي: الماء إذا جمعه صاحبُه في صهريج أو بركة، أو خزنه في جُبٍّ، أو قَراهُ في حوض ونحوه، فإنَّ له أن يمنعه وهو شيء قد حازه على سبيل الاختصاص لا يَشْرَكُه فيه غيره، وهو مخالف لماء البئر، لأنه لا يُستخلَف استخلاف ماء الآبار، ولا يكون له فضل في الغالب كفضل مياه الآبار، والحديث إنما جاء في منع الفضل دون الأصل، ومعناه ما فضل عن حاجته وعن حاجة عياله وماشيته وزرعه، والله أعلم.
مجموعی اصول / قاعدہ: امام خطابیؒ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص ٹینک، حوض یا تالاب میں پانی جمع کر لے تو وہ اس کا مالک ہے اور اسے روکنے کا حق رکھتا ہے، کیونکہ یہ کنویں کے پانی سے مختلف ہے۔ حدیث میں جس پانی کی ممانعت ہے وہ "فضل" (ضرورت سے زائد پانی) ہے تاکہ دوسروں کی ضرورت (مویشی اور زراعت) پوری ہو سکے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2317 سے ماخوذ ہے۔