کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو شخص قرض لیتا ہے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا، پھر مر جاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلائے گا۔
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنّى، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا بِشر بن نُمير، عن القاسم، عن أبي أمامة، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن تَداين بدَين، وفي نفسه وفاؤُه، ثم مات، تجاوز الله عنه، وأرضَى غريمَه بما شاء، ومَن تَداين بدَين وليس في نفسه وفاؤُه، ثم مات، اقتصَّ اللهُ لغَريمِه منه يومَ القيامة" (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2206 - بشر متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے کوئی قرض لیا اور اس کے دل میں اسے ادا کرنے کی نیت تھی، پھر وہ (ادائیگی سے پہلے) فوت ہو گیا، تو اللہ تعالیٰ اس سے درگزر فرمائے گا اور اس کے قرض خواہ کو جس طرح چاہے گا راضی کر دے گا، اور جس نے قرض لیا جبکہ اس کے دل میں ادائیگی کی نیت نہ تھی، پھر وہ مر گیا، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے قرض خواہ کے لیے اس سے بدلہ لے گا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2237
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف بمرةٍ
تخریج حدیث «إسناده تالف بمرةٍ، بشر بن نمير متروك الحديث، واتهمه بعضهم بالكذب.» [ترقيم الرساله 2237] [ترقيم الشركة 2219] [ترقيم العلميه 2206]
حدثنا الأستاذ أبو الوليد حَسّان بن محمد وأبو بكر محمد بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا عُمارة بن أبي حفصة، عن عِكْرمة، عن عائشة، قالت: كان على رسول الله ﷺ بُردان قِطْريان غَليظان خَشِنان، فقلت: يا رسول الله، إنَّ ثوبَيك خَشِنان غليظان، وإنك تَرشَحُ فيهما فيَثقُلان عليك، وإنَّ فلانًا قَدِمَ له بَزٌّ من الشام، فلو بعثتَ إليه فأخذْتَ منه ثوبَين بنَسيئةٍ إلى مَيسَرة، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ، فقال: قد علمتُ ما يريدُ محمدٌ، يريدُ أن يَذهَبَ بِثَوبيَّ ويَمطُلَني بهما، فأتى الرسولُ إلى النبيِّ ﷺ فأخبره، فقال النبيُّ ﷺ: "قد كَذَبَ، قد عَلِمُوا أني أتقاهُم لله وآدَاهُم للأمانة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد روي عن شعبة عن عُمارة بن أبي حفصة مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2207 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قطر کے بنے ہوئے دو موٹے اور کھردرے کپڑے (چادریں) تھیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے یہ دونوں کپڑے بہت کھردرے اور موٹے ہیں، اور آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے جس سے وہ آپ پر بوجھل ہو جاتے ہیں، فلاں شخص کے پاس شام سے کچھ عمدہ کپڑا آیا ہے، کاش آپ اس کی طرف پیغام بھیجتے اور اس سے دو جوڑے میسر آنے (سہولت) تک ادھار لے لیتے، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ محمد (ﷺ) کیا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ میرا کپڑا لے جائیں اور پھر اس میں ٹال مٹول کریں۔ قاصد نے آکر نبی کریم ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ بولا ہے، وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان سب میں زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے شعبہ نے عمارہ بن ابی حفصہ سے مختصراً بھی روایت کیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2238
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2238] [ترقيم الشركة 2220] [ترقيم العلميه 2207]
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، حدثنا عمرو بن مرزوق وعمرو بن حَكّام، قالا: حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن بشار ومحمد بن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عُمارة بن أبي حفصة، عن عكرمة، عن عائشة، قالت: قلت: يا رسول الله، ثوباك غَليظانِ فلو نَزَعْتَهما وبعثتَ إلى فلانٍ التاجرِ، فأرسَلَ إليك ثوبين إلى المَيسَرة، قال: فأرسَلَ إليه: "ابعَثْ إِليَّ ثَوبَينِ إِلى المَيسَرةِ"، فأَبَى (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے کپڑے موٹے ہیں، کاش آپ انہیں اتار دیتے اور فلاں تاجر کے پاس پیغام بھیجتے کہ وہ آپ کو سہولت ہونے تک دو جوڑے ادھار بھیج دے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے پیغام بھیجا کہ: ”میرے پاس سہولت ہونے تک دو جوڑے بھیج دو۔“ تو اس نے انکار کر دیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2239
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2239] [ترقيم الشركة 2221]
أخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا محمد بن سعيد بن الأصبهاني. وأخبرنا أبو بكر أحمد (2)، حدثنا محمد بن أيوب والحسين بن بشار، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي؛ قالا: حدثنا شَريك، عن سماك بن حَرْب، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، قال: قَدِمَتْ عِيرٌ فابتاع النَّبِيُّ ﷺ منها بيعًا، فربح أَوَاقيَّ (3) من ذَهَبٍ، فتصدَّق بها بين أبناء بني عبد المطّلب، وقال: "لا أَشتَري ما ليس عِندي ثمنُه" (1). قد احتجَّ البخاريُّ بعِكْرمة، واحتجَّ مسلمٌ بِسماكٍ وشريكٍ، والحديث صحيح، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2209 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک تجارتی قافلہ آیا تو نبی کریم ﷺ نے اس سے کچھ مال خریدا، جس پر آپ ﷺ کو سونے کے چند اوقیہ نفع ہوا، آپ ﷺ نے وہ نفع بنو عبدالمطلب کے بچوں میں تقسیم کر دیا اور فرمایا: ”میں ایسی چیز نہیں خریدتا جس کی قیمت میرے پاس موجود نہ ہو۔“
امام بخاری نے عکرمہ سے اور امام مسلم نے سماک و شریک سے استدلال کیا ہے، یہ حدیث صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2240
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، شريك - وهو ابن عبد الله النخعي - قد تفرَّد به عن سماك بن حرب، واختُلف في وصله وإرساله، كما قال الحافظ ابن حجر في "الفتح" 7/ 511، وسماك في روايته عن عكرمة اضطراب، وقد أشار البخاري في "صحيحه" - كما قال الحافظ - إلى ضعف هذا الحديث ...» [ترقيم الرساله 2240] [ترقيم الشركة 2222] [ترقيم العلميه 2209]