المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
مَنْ تَدَايَنَ بِدَيْنٍ وَلَيْسَ فِي نَفْسِهِ وَفَاؤُهُ ، ثُمَّ مَاتَ ، اقْتَصَّ اللَّهُ لِغَرِيمِهِ عَنْهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ باب: جو شخص قرض لیتا ہے اور دل میں ادائیگی کی نیت نہیں رکھتا، پھر مر جاتا ہے تو قیامت کے دن اللہ اس کے قرض خواہ کو اس سے بدلہ دلائے گا۔
حدیث نمبر: 2239
حدَّثَناه علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا محمد بن شاذان الجوهري، حدثنا عمرو بن مرزوق وعمرو بن حَكّام، قالا: حدثنا شعبة. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ، حدثنا الحُسين بن محمد بن زياد، حدثنا محمد بن بشار ومحمد بن المثنى، قالا: حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن عُمارة بن أبي حفصة، عن عكرمة، عن عائشة، قالت: قلت: يا رسول الله، ثوباك غَليظانِ فلو نَزَعْتَهما وبعثتَ إلى فلانٍ التاجرِ، فأرسَلَ إليك ثوبين إلى المَيسَرة، قال: فأرسَلَ إليه: "ابعَثْ إِليَّ ثَوبَينِ إِلى المَيسَرةِ"، فأَبَى (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے کپڑے موٹے ہیں، کاش آپ انہیں اتار دیتے اور فلاں تاجر کے پاس پیغام بھیجتے کہ وہ آپ کو سہولت ہونے تک دو جوڑے ادھار بھیج دے۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اسے پیغام بھیجا کہ: ”میرے پاس سہولت ہونے تک دو جوڑے بھیج دو۔“ تو اس نے انکار کر دیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25141) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/ 25141) نے محمد بن جعفر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25141) عن محمد بن جعفر، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (42/ 25141) نے محمد بن جعفر کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2239 سے ماخوذ ہے۔