حدیث نمبر: 2236
أخبرنا جعفر بن محمد بن نُصَير الخُلْدي، أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا أبو نعيم ضِرَار بن صُرَدٍ، حدثنا محمد بن إسماعيل بن أبي فُدَيك. وأخبرني يحيى بن منصور القاضي، حدثنا أبو بكر محمد بن محمد بن رَجَاء، حدثنا يعقوب بن حُميد بن كاسِب، حدثنا ابن أبي فُديك، حدثنا سعيد بن سفيان الأسلمي، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن عبد الله بن جعفر، قال: قال رسول الله ﷺ: "إِنَّ الله مع الدائنِ حتَّى يقضيَ دَينَه، ما لم يكن فيما يَكرهُه اللهُ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وشاهدُه حديث أبي أُمامة:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2205 - صحيح
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اللہ تعالیٰ قرض دار کے ساتھ ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنا قرض ادا کر دے، بشرطیکہ وہ قرض کسی ایسے کام کے لیے نہ ہو جسے اللہ ناپسند فرماتا ہو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین (بخاری و مسلم) نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کا ایک شاہد سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کی حدیث ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2236
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن سفيان الأسلمي، وقد روى القاسمُ بن الفضل - وهو ثقة - عن محمد بن علي الباقر والد جعفر بن محمد عن عائشة نحوه، كما تقدم برقم (2234)، وهو أشبه بالصواب، وكأنَّ سعيدًا أخطأ فيه، والله أعلم.» [ترقيم الرساله 2236] [ترقيم الشركة 2218] [ترقيم العلميه 2205]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة سعيد بن سفيان الأسلمي، وقد روى القاسمُ بن الفضل - وهو ثقة - عن محمد بن علي الباقر والد جعفر بن محمد عن عائشة نحوه، كما تقدم برقم (2234)، وهو أشبه بالصواب، وكأنَّ سعيدًا أخطأ فيه، والله أعلم.
حکم / درجۂ حدیث: یہ حدیث اپنے شواہد کی بنا پر "حسن لغیرہ" ہے، مگر یہ سند سعید بن سفیان کی جہالت کی وجہ سے ضعیف ہے
علّت / فنی نکتہ: ثقہ راوی القاسم بن الفضل نے اسے باقر عن عائشہ کے طریق سے روایت کیا ہے جو زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے، ایسا لگتا ہے سعید سے اس میں غلطی ہوئی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2236 سے ماخوذ ہے۔