حدیث نمبر: 2238
حدثنا الأستاذ أبو الوليد حَسّان بن محمد وأبو بكر محمد بن قُريش، قالا: حدثنا الحسن بن سفيان، حدثنا محمد بن المِنْهال، حدثنا يزيد بن زُريع، حدثنا عُمارة بن أبي حفصة، عن عِكْرمة، عن عائشة، قالت: كان على رسول الله ﷺ بُردان قِطْريان غَليظان خَشِنان، فقلت: يا رسول الله، إنَّ ثوبَيك خَشِنان غليظان، وإنك تَرشَحُ فيهما فيَثقُلان عليك، وإنَّ فلانًا قَدِمَ له بَزٌّ من الشام، فلو بعثتَ إليه فأخذْتَ منه ثوبَين بنَسيئةٍ إلى مَيسَرة، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ، فقال: قد علمتُ ما يريدُ محمدٌ، يريدُ أن يَذهَبَ بِثَوبيَّ ويَمطُلَني بهما، فأتى الرسولُ إلى النبيِّ ﷺ فأخبره، فقال النبيُّ ﷺ: "قد كَذَبَ، قد عَلِمُوا أني أتقاهُم لله وآدَاهُم للأمانة" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقد روي عن شعبة عن عُمارة بن أبي حفصة مختصرًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2207 - على شرط البخاري
حافظ طلحہ بابر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس قطر کے بنے ہوئے دو موٹے اور کھردرے کپڑے (چادریں) تھیں، میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ کے یہ دونوں کپڑے بہت کھردرے اور موٹے ہیں، اور آپ کو ان میں پسینہ آتا ہے جس سے وہ آپ پر بوجھل ہو جاتے ہیں، فلاں شخص کے پاس شام سے کچھ عمدہ کپڑا آیا ہے، کاش آپ اس کی طرف پیغام بھیجتے اور اس سے دو جوڑے میسر آنے (سہولت) تک ادھار لے لیتے، رسول اللہ ﷺ نے اس کی طرف پیغام بھیجا تو اس نے کہا: مجھے معلوم ہے کہ محمد (ﷺ) کیا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ میرا کپڑا لے جائیں اور پھر اس میں ٹال مٹول کریں۔ قاصد نے آکر نبی کریم ﷺ کو خبر دی تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”اس نے جھوٹ بولا ہے، وہ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں ان سب میں زیادہ اللہ سے ڈرنے والا اور امانت کو سب سے زیادہ ادا کرنے والا ہوں۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اسے شعبہ نے عمارہ بن ابی حفصہ سے مختصراً بھی روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2238
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 2238] [ترقيم الشركة 2220] [ترقيم العلميه 2207]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔
وأخرجه الترمذي (1213)، والنسائي (6179) عن عمرو بن علي الفلّاس، عن يزيد بن زُريع، بهذا الإسناد. وقال الترمذي: حسن صحيح.
حوالہ / مصدر: اسے ترمذی (1213) اور نسائی (6179) نے یزید بن زریع کے طریق سے روایت کیا ہے
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن صحیح" کہا ہے۔
وانظر ما بعده.

والقِطْريُّ: نوع من البُرود حمرٌ لها أعلام فيها بعض الخُشونة.

ہدایت: اس کے بعد آنے والی روایت دیکھیں
توضیح: "القِطْری" ایک خاص قسم کی سرخ دھاری دار موٹی چادر کو کہتے ہیں۔
وقوله: ترشح، أي: تعرق، سمي العرقُ رَشْحًا لأنه يخرج من البدن شيئًا فشيئًا، كما يرشح الإناء المتخلخِل الأجزاء.
توضیح: "ترشح" کا مطلب ہے پسینہ آنا، پسینے کو رشح اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہ جسم سے قطرہ قطرہ نکلتا ہے جیسے مسام دار برتن سے پانی رستا ہے۔
والبَزُّ: الثياب، وقيل: ضَربٌ منها.
توضیح: "البَزّ" سے مراد کپڑے ہیں، یا کپڑوں کی ایک خاص قسم۔
والنَّسيئة: الدَّين إلى أجل.
توضیح: "النسیئہ" کا مطلب ہے ادھار، یعنی ایک مقررہ مدت تک کا قرض۔
ويَمطُلني، أي: يُطيل مدافعتي وتأجيلي بوعدٍ بعد وعدٍ للوفاء.
توضیح: "یمطلنی" کا مطلب ہے ٹال مٹول کرنا، یعنی ادائیگی کے وعدے پر وعدہ کر کے وقت گزارنا۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2238 سے ماخوذ ہے۔