کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: قرض اللہ کا زمین میں ایک جھنڈا ہے، جب اللہ کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی گردن میں ڈال دیتا ہے۔
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا محمد بن غالب، حدثنا بشر بن عُبيد الدّارِسي، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن أيوب، عن نافع، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "الدَّينُ رايةُ الله في الأرض، فإذا أراد أن يُذِلَّ عبدًا وَضَعَها في عُنُقِه" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2210 - بشر واه
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2210 - بشر واه
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرض زمین میں اللہ کا ایک جھنڈا ہے، جب وہ کسی بندے کو ذلیل کرنا چاہتا ہے تو اسے اس کی گردن میں ڈال دیتا ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني إسماعيل بن محمد الشَّعراني، حدثنا جدي، حدثنا إبراهيم بن حمزة الزُّبَيري، حدثنا ابن أبي حازم (1)، عن سُهيل بن أبي صالح، عن موسى بن عُقبة، عن عاصم بن أبي عُبيد، عن أم سَلَمة، عن رسول الله ﷺ: أنه كان يدعُو بهؤلاء الكلماتِ: "اللهم أنتَ الأولُ فلا شيءَ قبلَكَ، وأنت الآخِرُ فلا شيءَ بعدَك، أعوذُ بكَ من شَرِّ كلِّ دابّةٍ ناصيتُها بيدِك، وأعوذ بكَ من الإثمِ والكَسَل، ومن عذابِ القَبرِ، ومن عذابِ النارِ، ومِن فتنةِ الغِنى، ومن فتنةِ الفَقْر، وأعوذُ بكَ من المأثَمِ والمَغرمِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2211 - صحيح
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2211 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا مانگا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ فَلَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ كُلِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ» ”اے اللہ! تو ہی اول ہے پس تجھ سے پہلے کوئی چیز نہیں، اور تو ہی آخر ہے پس تیرے بعد کوئی چیز نہیں، میں ہر اس جاندار کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اور میں گناہ، سستی، قبر کے عذاب، آگ کے عذاب، مالداری کے فتنے اور فقر کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں گناہ اور قرض کے بوجھ سے تیری پناہ میں آتا ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔