کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: دانہ اس وقت تک بیچنے کی ممانعت ہے جب تک سخت نہ ہو جائے، انگور جب تک سیاہ نہ ہوں، اور کھجور جب تک سرخ یا زرد نہ ہو جائے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا عفَّان بن مسلم وحَبّان بن هلال، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، أخبرنا حُميد، عن أنس: أنَّ رسول الله ﷺ نهى عن بيع الحبِّ حتى يَشتَدَّ، وعن بيع العِنب حتى يَسْوَدّ، وعن بيع التمر حتى يحمرَّ ويَصفرَّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه (1)، إنما اتفقا على حديث نافع عن ابن عمر في النهي عن بيع التمر حتى يُزهِي (2).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2192 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غلے کو سخت ہونے سے پہلے، انگور کو سیاہ ہونے سے پہلے، اور کھجور کو سرخ یا زرد ہونے سے پہلے فروخت کرنے سے منع فرمایا ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ ان دونوں کا اتفاق نافع کی ابن عمر سے روایت پر ہے جس میں کھجور کے پکنے (رنگ بدلنے) تک اس کی بیع سے ممانعت کا ذکر ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2223
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،حميد: هو ابن أبي حميد الطويل.» [ترقيم الرساله 2223] [ترقيم الشركة 2205] [ترقيم العلميه 2192]
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز والعباس بن الفضل الأسفاطي، قالا: حدثنا عَتيقُ بن يعقوب الزُّبَيري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن أبي الزُّبَير المكي، قال: سمعت أبا أُسَيد الساعِدِيَّ، وابنُ عباس يُفتي: الدينار بالدينارين، فقال له أبو أُسَيد الساعِدي، وأغلَظَ له، قال: فقال ابن عباس: ما كنت أظنَّ أنَّ أحدًا يعرف قَرابتي من رسول الله ﷺ يقول لي مثلَ هذا يا أبا أُسَيد، فقال أبو أُسَيد: أشهدُ لَسمعتُ من رسول الله ﷺ يقول: "الدِّينارُ بالدينارِ، والدِّرهمُ بالدرهمِ، وصاعُ حِنْطةٍ بصاعِ حِنْطةٍ، وصاعُ شعيرٍ بصاعِ شَعيرٍ، وصاعُ مِلْح بصاعِ ملحٍ، لا فضلَ بينهما في شيءٍ من ذلك"، فقال ابن عباس: إنما هذا شيءٌ كنتُ أقوله برأيي، ولم أسمعْ فيه بشيءٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. وعَتيق بن يعقوب شيخٌ قرشيٌّ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2193 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
ابوزبیر مکی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فتویٰ دے رہے تھے کہ ایک دینار کے بدلے دو دینار (کا تبادلہ جائز ہے)، تو ابواسید ساعدی نے ان سے سخت کلامی کی، ابن عباس نے کہا: اے ابواسید! میرا یہ خیال نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے میری قرابت کو جاننے والا کوئی شخص مجھ سے ایسی بات کہے گا، ابواسید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم، ایک صاع گندم کے بدلے ایک صاع گندم، ایک صاع جو کے بدلے ایک صاع جو، اور ایک صاع نمک کے بدلے ایک صاع نمک (برابر بیچا جائے)، ان اشیاء میں سے کسی میں بھی کمی بیشی نہ ہو“، یہ سن کر ابن عباس نے فرمایا: یہ تو صرف ایک بات تھی جو میں اپنی رائے سے کہتا تھا، میں نے اس بارے میں (پہلے) کچھ نہیں سنا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ عتیق بن یعقوب مدینہ کے ایک ثقہ قریشی شیخ ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2224
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد» [ترقيم الرساله 2224] [ترقيم الشركة 2206] [ترقيم العلميه 2193]
أخبرنا أبو النضر محمد بن محمد بن يوسف الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي وصالح بن محمد بن حبيب الحافظ، قالا: حدثنا أبو نصر عبد الملك بن عبد العزيز التمّار، حدثنا حماد بن سَلَمة، حدثنا ثابت البُنَاني، عن أنس بن مالك: أنَّ رجلًا قال: يا رسول الله، إنَّ لفلانٍ نخلةً وأنا أُقِيمُ حائطي بها، فمُرْه أن يُعطِيَني أُقيمُ حائطي بها، فقال له النبيُّ ﷺ: "أعطِها إياهُ بنخلةٍ في الجنة" فأبى، وأتاهُ أبو الدَّحْداح، فقال: بِعْني نخلَك (1) بحائطي، قال: ففعل، قال: فأتى النبيَّ ﷺ، فقال: يا رسول الله، إني قد ابتَعْتُ النخلةَ بحائطي، فجَعَلَها له، فقال النبي ﷺ: "كم مِن عِذْقٍ رَدَاحٍ لأبي الدَّحْداح في الجنة" مِرارًا، فأتى امرأتَه، فقال: يا أمَّ الدَّحْداح، اخرُجي من الحائط، فإنه بعتُه بنخلةٍ في الجنة، فقالت: قد ربحتَ البيعَ؛ أو كلمةً نحوها (2).
هذا حديثٌ صحيح على شرط مسلم. وله شاهدٌ من حديث جابر بن عبد الله الأنصاري:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2194 - على شرط مسلم وشاهده ثم ذكر حديث رقم 1295
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں شخص کی ایک کھجور (کا درخت میرے باغ میں) ہے اور میں اس کی وجہ سے اپنی دیوار سیدھی نہیں کر پا رہا، آپ اسے حکم دیں کہ وہ مجھے دے دے تاکہ میں اپنی دیوار مکمل کر لوں، نبی کریم ﷺ نے اس شخص سے فرمایا: ”یہ اسے دے دو، اس کے بدلے تمہیں جنت میں ایک درخت ملے گا“، مگر اس نے انکار کر دیا، پھر ابودحداح رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور کہا: اپنا یہ درخت میرے پورے باغ کے بدلے میرے ہاتھ بیچ دو، اس نے سودا کر لیا، ابودحداح نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ درخت اپنے باغ کے بدلے خرید لیا ہے، آپ وہ اسے (سائل کو) دے دیں، تب نبی کریم ﷺ نے کئی بار فرمایا: ”ابودحداح کے لیے جنت میں کھجور کے کتنے ہی پھلوں سے لدے ہوئے بڑے خوشے ہیں“، پھر وہ اپنی اہلیہ کے پاس آئے اور کہا: اے ام دحداح! اس باغ سے نکل آؤ، میں نے اسے جنت کے ایک درخت کے بدلے بیچ دیا ہے، انہوں نے کہا: آپ نے بڑے نفع کا سودا کیا ہے (یا اسی طرح کے کلمات کہے)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2225
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،ثابت البُناني: هو ابن أسْلَم.» [ترقيم الرساله 2225] [ترقيم الشركة 2207] [ترقيم العلميه 2194]
أخبرَناه أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة النَّهْدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إِنَّ لفلانٍ في حائطي عِذْقًا، وقد آذاني وشَقَّ عَليَّ مكانُ عِذْقِه، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ فقال: "بِعْني عِذقَكَ الذي في حائط فلانٍ" قال: لا، قال: "هَبْهُ" قال: لا، قال: "فبِعْنِيهِ بعِذْقٍ في الجنة" قال: لا، فقال رسول الله ﷺ: "ما رأيتُ أبخلَ منك إلّا الذي يَبخلُ بالسلام" (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: فلاں شخص کا ایک خوشہ (پھل دار شاخ) میرے باغ میں ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی جگہ کی وجہ سے مجھ پر تنگی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس (مالک) کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”فلاں کے باغ میں موجود اپنا یہ خوشہ مجھے بیچ دو“، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ہبہ (تحفہ) کر دو“، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے جنت کے ایک خوشے کے بدلے مجھے بیچ دو“، اس نے (پھر بھی) انکار کر دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تم سے زیادہ بخیل کسی کو نہیں دیکھا سوائے اس کے جو سلام کرنے میں بخل کرے (یعنی سلام نہ کرے)۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2226
درجۂ حدیث محدثین: حسن بشواهده
تخریج حدیث «حسن بشواهده، دون قوله: "ما رأيت أبخل … إلخ"، عبد الله بن محمد بن عَقيل حسن الحديث في الاعتبار، ويشهد لحديثه حديثُ أنس السابق وغيره.» [ترقيم الرساله 2226] [ترقيم الشركة 2208]