کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ سنی سنائی ہر بات بیان کرتا پھرے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب ما لا أُحصِيه من مرةٍ، حدثنا هِلال بن العلاء بن هلال بن عمر الرَّقِّي، حدثنا أبي العلاء بن هلال، حدثني أبي هلال بن عمر، حدثني أبي عمرُ بن هلال، حدثني أبو غالِبٍ، عن أبي أمامة قال: قال رسول الله ﷺ: "كفى بالمرءِ مِن الكَذِبِ أن يحدِّث بكُلِّ ما سَمِعَ، وكفى بالمرء مِن الشُّحِّ أن يقول: آخُذُ حَقِّي لا أترُكُ منه شيئًا" (1). هذا إسناد صحيح، فإنَّ آباء هلال بن العلاء أئمةٌ ثقات! وهلال إمام أهل الجزيرة في عصره.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2196 - صحيح وآباء هلال ثقات
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2196 - صحيح وآباء هلال ثقات
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کسی شخص کے جھوٹا ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات (بغیر تحقیق کے) بیان کر دے، اور کسی شخص کے بخیل ہونے کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ کہے: میں اپنا پورا حق لے کر رہوں گا اور اس میں سے کچھ بھی نہیں چھوڑوں گا۔“
یہ اسناد صحیح ہے کیونکہ ہلال بن علاء کے آباؤ اجداد ثقہ ائمہ ہیں اور ہلال اپنے زمانے میں اہل جزیرہ کے امام تھے۔
یہ اسناد صحیح ہے کیونکہ ہلال بن علاء کے آباؤ اجداد ثقہ ائمہ ہیں اور ہلال اپنے زمانے میں اہل جزیرہ کے امام تھے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا موسى بن داود الضَّبِّي وعفان بن مسلم، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا العباس بن الفضل الأسفاطي، حدثنا أبو الوليد، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أنس: أنَّ النبي ﷺ اشترى صَفيَّة من دِحْيةَ الكَلْبي بسبعة أَرؤُسٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2197 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه!
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2197 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو (قیدیوں میں سے) دحیہ کلبی سے سات جانوں (غلاموں) کے عوض خریدا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو الفضل الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، أخبرنا سعيد بن أبي عَرُوبة، عن قَتَادة، عن الحسن، عن عُقبة بن عامر الجُهَني: أنَّ رسول الله ﷺ قال في عُهْدة الرَّقيق: "ثلاثُ ليالٍ" (2). قال سعيد: فقلت لقَتَادة: كيف يكون هذا؟ قال: إذا وَجَدَ المشتري عيبًا بالسِّلعة، فإنه يَردُّها في تلك الأيام، ولا يُسألُ البيّنةَ، فإذا مَضَتْ عليه أيامٌ فليس له أن يَرُدَّها إلّا ببيِّنةِ أنه اشتراها وذلك العيبُ بها، وإلّا فيمينُ البائع أنه لم يَبِعْه وبه داءٌ. هكذا قال سعيد وهمام عن قَتَادة، وكذلك رواه يونس بن عُبيد عن الحسن:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2198 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2198 - سكت عنه الذهبي في التلخيص
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غلاموں کی خریداری میں عیب کی وجہ سے واپسی کی مدت (عہدہ) کے بارے میں فرمایا: ”تین راتیں ہیں۔“ سعید کہتے ہیں: میں نے قتادہ سے پوچھا: یہ کیسے ہوگا؟ انہوں نے کہا: جب خریدار سودے میں کوئی عیب پائے تو وہ ان تین دنوں میں اسے واپس کر سکتا ہے اور اس سے گواہ طلب نہیں کیے جائیں گے، لیکن جب یہ دن گزر جائیں تو اسے گواہی کے بغیر واپس کرنے کا حق نہیں ہوگا کہ اس نے اسے خریدا تھا اور یہ عیب اس وقت موجود تھا، ورنہ پھر بیچنے والے سے قسم لی جائے گی کہ اس نے اسے اس حال میں نہیں بیچا کہ اس میں کوئی بیماری تھی۔