کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: ایک ہی سودا میں دو سودے جائز نہیں، نہ اس چیز کی بیع جو ملکیت میں نہ ہو، نہ قرض کے ساتھ بیع، اور نہ ایک بیع میں دو شرطیں۔
أخبرَناه أبو بكر أحمد بن إسحاق، أخبرنا علي بن محمد بن عبد الملك بن أبي الشوارب القرشي، حدثنا أبو الوليد الطيالسي، حدثنا يزيد بن زُرَيع الرَّمْلي، حدثنا عطاءٌ الخُراساني، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده عبد الله بن عمرو بن العاص، قال: قلت: يا رسولَ الله، إني أسمعُ منك أشياءَ أخافُ أن أنساها، فتأذنُ لي أن أكتُبَها؟ قال: "نعم". قال: فكان فيما كَتَبَ عن رسولِ الله ﷺ: أنه لما بَعَثَ عَتَّابَ بن أَسِيدٍ إلى أهل مكة، قال: "أخبِرْهُم أنه لا يجوزُ بيعانِ فِي بَيعٍ، ولا بَيعُ ما لا يُملَكُ، ولا سلفٌ وبَيعٌ، ولا شرطانِ في بَيعٍ" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں آپ سے ایسی باتیں سنتا ہوں جن کے بھول جانے کا مجھے خوف ہے، کیا آپ مجھے اجازت دیتے ہیں کہ میں انہیں لکھ لیا کروں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“ پس انہوں نے جو باتیں رسول اللہ ﷺ سے لکھیں ان میں یہ بھی تھا کہ جب آپ ﷺ نے عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کو اہل مکہ کی طرف (گورنر بنا کر) بھیجا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”انہیں خبر دے دو کہ ایک بیع میں دو سودے کرنا جائز نہیں، اور نہ ہی اس چیز کی بیع جائز ہے جس کا انسان مالک نہ ہو، اور نہ ہی بیع کے ساتھ قرض کا معاملہ کرنا درست ہے، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں لگانا جائز ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2216
درجۂ حدیث محدثین: حديث حسن
تخریج حدیث «حديث حسن، وهذا إسناد ضعيف لضعف يزيد بن زُريع الرمْلي، وهو غير يزيد بن زريع البصري الحافظ الثقة، ولكنه متابع.» [ترقيم الرساله 2216] [ترقيم الشركة 2197]
أخبرني أبو الحسن علي بن أحمد بن قُرقُوب التمّار بهَمَذان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا أبو اليمان، أخبرني شعيب بن أبي حمزة، عن الزُّهْري، عن عُمارة بن خُزيمة، أنَّ عمَّه حدثه - وكان من أصحاب النبي ﷺ. وحدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي والحسن بن علي بن زياد، قالا: حدثنا إسماعيل بن أبي أُويس، حدثنا أخي أبو بكر، عن سُليمان بن بلال، عن محمد بن أبي عَتيق، عن ابن شهاب، عن عُمارة بن خُزيمة، أنَّ عمَّه أخبره - وكان من أصحاب رسول الله ﷺ: أنَّ رسول الله ﷺ ابتاعَ فرسًا من رجل من الأعراب، فاستَتْبعَه رسولُ الله ﷺ ليقضيَ ثمنَ فرسِه، فأسرع رسولُ الله ﷺ المشيَ، وأبطأ الأعرابيُّ، فطَفِقَ رجالٌ يَعترِضُون الأعرابيَّ ويُساوِمونه الفرسَ، ولا يَشعُرون أنَّ رسولَ الله ﷺ قد ابتاعَه، حتى زاد بعضُهم الأعرابيَّ في السَّومِ، فلما زادُوا، نادى الأعرابيُّ: يا رسولَ الله، إن كنتَ مبتاعًا هذا الفرس فابتَعْه، وإلّا بِعتُه، فقامَ رسولُ الله ﷺ حين سمع نداءَ الأعرابيِّ، حتى أتى الأعرابيَّ، فقال رسول الله ﷺ: "أوَلَيس قد ابتَعْتُ منكَ؟ " قال: لا، والله ما بِعتُكَهُ، قال: "بل ابتَعْتُه منكَ"، فطَفِقَ الناس يَلُوذُون برسول الله ﷺ وبالأعرابيِّ وهما يَتراجَعان، فَطَفِقَ الأعرابيُّ يقول: هَلُمَّ شهيدًا أني بايَعْتُك، فقال خُزيمةُ: أشهدُ أنك بايَعْتَه، فأقبَلَ رسولُ الله ﷺ على خُزيمة، فقال: "بمَ تَشهدُ؟ " فقال: بتصديقِك، فجعلَ رسولُ الله ﷺ شهادةَ خُزيمةَ شهادةَ رجُلين (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ورجاله باتفاق الشيخين ثقاتٌ، ولم يُخرجاه، وعُمارة بن خزيمة سمعَ هذا الحديث من أبيه أيضًا:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2187 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمارہ بن خزیمہ اپنے چچا (جو صحابی رسول تھے) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک اعرابی (بدوی) سے ایک گھوڑا خریدا، رسول اللہ ﷺ اسے اپنے پیچھے لے چلے تاکہ اس کے گھوڑے کی قیمت ادا کریں، آپ ﷺ تیز چلنے لگے جبکہ اعرابی پیچھے رہ گیا، اتنے میں کچھ لوگ اعرابی سے ملے اور اس سے گھوڑے کا سودا کرنے لگے، انہیں علم نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ اسے پہلے ہی خرید چکے ہیں، یہاں تک کہ بعض لوگوں نے اعرابی کو زیادہ قیمت کی پیشکش کر دی، جب قیمت بڑھ گئی تو اعرابی نے پکارا: اے اللہ کے رسول! اگر آپ نے یہ گھوڑا خریدنا ہے تو خرید لیں ورنہ میں اسے بیچ رہا ہوں، رسول اللہ ﷺ اعرابی کی پکار سن کر کھڑے ہو گئے اور اس کے پاس آ کر فرمایا: ”کیا میں نے تم سے یہ گھوڑا خرید نہیں لیا تھا؟“ اس نے کہا: نہیں، اللہ کی قسم! میں نے آپ کو یہ نہیں بیچا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیوں نہیں، میں نے تم سے یہ خرید لیا ہے“، لوگ رسول اللہ ﷺ اور اعرابی کے گرد جمع ہو گئے جبکہ وہ دونوں اس معاملے پر تکرار کر رہے تھے، اعرابی کہنے لگا: کوئی گواہ لائیں کہ میں نے آپ کے ہاتھ یہ بیچا ہے، تب سیدنا خزیمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ ﷺ نے یہ گھوڑا خریدا ہے، رسول اللہ ﷺ نے خزیمہ کی طرف متوجہ ہو کر پوچھا: ”تم کس بنیاد پر گواہی دے رہے ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: آپ ﷺ کی (نبوت کی) تصدیق کی بنیاد پر، تب رسول اللہ ﷺ نے خزیمہ کی گواہی کو دو آدمیوں کی گواہی کے برابر قرار دے دیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے اور اس کے راوی شیخین کے نزدیک بالاتفاق ثقہ ہیں، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2217
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،إبراهيم بن الحسين: هو ابن ديزيل، وأبو اليمان: هو الحكم بن نافع، ومحمد بن أبي عتيق: هو ابن عبد الله بن محمد بن عبد الرحمن بن أبي بكر الصديق، وهو ثقة، وثقه الدارقطني في "سؤالات الحاكم"، والذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 729، وإنما ذكرنا ذلك في شأن ابن أبي ...» [ترقيم الرساله 2217] [ترقيم الشركة 2198-2199] [ترقيم العلميه 2187]
حدَّثَناه الأستاذُ أبو الوليد، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب ومحمد بن إسحاق، قالا: حدثنا عَبْدة بن عبد الله الخُزاعي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثني محمد بن زُرَارة بن عبد الله بن خُزيمة بن ثابت، حدثني عُمارة بن خُزيمة، عن أبيه خُزيمة بن ثابت: أنَّ رسول الله ﷺ ابتاعَ من سَواء بن الحارث المُحاربي (1) فرسًا، فجَحَدَهُ، فشَهِدَ له خُزيمةُ بن ثابت، فقال له رسول الله ﷺ: "ما حَمَلَك على الشهادة ولم تَكُنْ معه؟ " قال: صدَقْتَ يا رسول الله، ولكن صدَّقتُك بما قُلتَ، وعرفتُ أنك لا تقول إلّا حقًّا، فقال: "مَن شَهِدَ له خُزيمةُ أو شَهِدَ عليه فحَسْبُه" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سواء بن حارث محاربی سے ایک گھوڑا خریدا تو اس نے (بیچنے سے) انکار کر دیا، پس سیدنا خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کے حق میں گواہی دی، رسول اللہ ﷺ نے ان سے دریافت فرمایا: ”تمہیں گواہی پر کس چیز نے ابھارا حالانکہ تم وہاں موجود نہیں تھے؟“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپ نے سچ فرمایا، لیکن میں نے آپ کی بتائی ہوئی باتوں کی تصدیق کی ہے اور میں جانتا ہوں کہ آپ حق کے سوا کچھ نہیں کہتے، تب آپ ﷺ نے فرمایا: ”جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دے وہی اس کے لیے کافی ہے۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2218
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة محمد بن زرارة بن عبد الله بن خزيمة، فلم يرو عنه غير زيد بن الحُباب، وقد روى عبدة بن عبد الله أيضًا عن زيد بن الحباب عن محمد بن زرارة قال: حدثني المطلب بن عبد الله بن حنطب، قال: قلت لبني سواء بن الحارث: ...» [ترقيم الرساله 2218] [ترقيم الشركة 2200]
أخبرني أبو عون محمد بن أحمد بن ماهَان الجزّار بمكة، حدثنا علي بن عبد العزيز، حدثنا حجاج بن مِنْهال، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن قيس بن سعد، عن عطاء، عن جابر، قال: بِعْنا أمهاتِ الأولاد على عهد رسول الله ﷺ وأبي بكر، فلما كان عمرُ نهانا فانتَهَينا (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وله شاهد صحيح:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2189 - على شرط مسلم وشاهده صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں امہات الاولاد (وہ لونڈیاں جن سے ان کے مالکوں کی اولاد ہو چکی ہو) کو بیچا کرتے تھے، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا دور آیا تو انہوں نے ہمیں اس سے منع کر دیا، چنانچہ ہم رک گئے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2219
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،عطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 2219] [ترقيم الشركة 2201] [ترقيم العلميه 2189]
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن غالب ويوسف بن يعقوب، قالا: حدثنا عمرو بن مرزوق، أخبرنا شعبة، عن زيدٍ العَمِّي، عن أبي الصِّدِّيق الناجِيّ، عن أبي سعيد الخُدْري، قال: كنا نبيعُ أمهاتِ الأولاد على عهدِ رسول الله ﷺ (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2190 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں: ہم رسول اللہ ﷺ کے عہد مبارک میں امہات الاولاد کی خرید و فروخت کیا کرتے تھے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2220
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف زيد العَمّي: وهو ابن الحواري أبو الصِّدّيق الناجي: هو بكر بن عمرو، ويقال: ابن قيس.» [ترقيم الرساله 2220] [ترقيم الشركة 2202] [ترقيم العلميه 2190]
فحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ وأبو جعفر محمد بن صالح بن هانئ، قالا: حدثنا السَّرِيّ بن خُزيمة، حدثنا محمد بن سعيد الأصبهاني، حدثنا شَريك، عن حسين بن عبد الله، عن عِكْرمة، عن ابن عباس، أنه قال: قال رسول الله ﷺ: "أيُّما أَمةٍ وَلَدَت من سيِّدها، فهي حُرّةٌ بعد موتهِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه. وقد تابعه أبو بكر بن أبي سَبْرة القرشي عن حُسين:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك_x000D_ أَخْبَرَنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، حَدَّثَنَا أَبُو عِصْمَةَ سَهْلُ بْنُ الْمُتَوَكِّلِ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي سَبْرَةَ، عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأُمِّ إِبْرَاهِيمَ: حِينَ وَلَدَتْهُ: «أَعْتَقَهَا وَلَدُهَا»_x000D_ [التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2191 - حسين متروك
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو بھی لونڈی اپنے آقا کے ہاں بچہ جنے، وہ اس (آقا) کی موت کے بعد آزاد ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2221
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف حسين بن عَبد الله: وهو ابن عُبيد الله بن عباس الهاشمي
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف حسين بن عَبد الله: وهو ابن عُبيد الله بن عباس الهاشمي، وشريك» [ترقيم الرساله 2221] [ترقيم الشركة 2203] [ترقيم العلميه 2191]
أخبرَناه أبو نصر أحمد بن سهل الفقيه ببُخارى، حدثنا أبو عِصمة سهل بن المتوكِّل، حدثنا عبد الله بن مسلمة القَعْنبي، حدثنا أبو بكر بن أبي سَبْرة، عن حُسين بن عبد الله، عن عِكْرمة، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأم إبراهيم حين وَلَدتْه: "أعتقَها ولدُها" (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ابراہیم (آپ ﷺ کے صاحبزادے) کی والدہ (سیدہ ماریہ قبطیہ) کے بارے میں جب وہ پیدا ہوئے تو فرمایا: ”اسے اس کے بیٹے نے آزاد کر دیا۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2222
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا من أجل أبي بكر بن أبي سَبْرة، فقد اتُّهم بوضع الحديث، وحسين بن عبد الله ضعيف، وقد تُوبعا بمتابعات لا يُعتدُّ بها كما سيأتي، وقد أُعلَّ هذا الخبر بما رواه عكرمة عن عمر من قوله موقوفًا عليه، وبما رواه عطاء عن ابن عباس من قوله أيضًا، كما سنبينه إن شاء الله تعالى.» [ترقيم الرساله 2222] [ترقيم الشركة 2204]