حدیث نمبر: 2226
أخبرَناه أبو بكر محمد بن حاتم العَدْل بمَرْو، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، حدثنا أبو حذيفة النَّهْدي، حدثنا زهير بن محمد، عن عبد الله بن محمد بن عَقِيل، عن جابر بن عبد الله: أنَّ رجلًا أتى رسولَ الله ﷺ فقال: إِنَّ لفلانٍ في حائطي عِذْقًا، وقد آذاني وشَقَّ عَليَّ مكانُ عِذْقِه، فأرسلَ إليه رسولُ الله ﷺ فقال: "بِعْني عِذقَكَ الذي في حائط فلانٍ" قال: لا، قال: "هَبْهُ" قال: لا، قال: "فبِعْنِيهِ بعِذْقٍ في الجنة" قال: لا، فقال رسول الله ﷺ: "ما رأيتُ أبخلَ منك إلّا الذي يَبخلُ بالسلام" (3).
حافظ طلحہ بابر

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور عرض کیا: فلاں شخص کا ایک خوشہ (پھل دار شاخ) میرے باغ میں ہے جس سے مجھے تکلیف ہوتی ہے اور اس کی جگہ کی وجہ سے مجھ پر تنگی ہے، رسول اللہ ﷺ نے اس (مالک) کو بلا بھیجا اور فرمایا: ”فلاں کے باغ میں موجود اپنا یہ خوشہ مجھے بیچ دو“، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے ہبہ (تحفہ) کر دو“، اس نے کہا: نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”تو اسے جنت کے ایک خوشے کے بدلے مجھے بیچ دو“، اس نے (پھر بھی) انکار کر دیا، تب رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”میں نے تم سے زیادہ بخیل کسی کو نہیں دیکھا سوائے اس کے جو سلام کرنے میں بخل کرے (یعنی سلام نہ کرے)۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2226
درجۂ حدیث محدثین: حسن بشواهده
تخریج حدیث «حسن بشواهده، دون قوله: "ما رأيت أبخل … إلخ"، عبد الله بن محمد بن عَقيل حسن الحديث في الاعتبار، ويشهد لحديثه حديثُ أنس السابق وغيره.» [ترقيم الرساله 2226] [ترقيم الشركة 2208]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) حسن بشواهده، دون قوله: "ما رأيت أبخل … إلخ"، عبد الله بن محمد بن عَقيل حسن الحديث في الاعتبار، ويشهد لحديثه حديثُ أنس السابق وغيره.
حکم / درجۂ حدیث: یہ اپنی تائیدی روایتوں (شواہد) کی بنا پر "حسن" ہے، سوائے اس جملے کے "میں نے اس سے بڑا بخیل نہیں دیکھا..."
توضیح: عبد اللہ بن محمد بن عقیل کی حدیث اعتبار کے لیے "حسن" ہے اور حضرت انس کی سابقہ حدیث اس کی تائید کرتی ہے۔
وأخرجه أحمد 22/ (14517) عن أبي عامر العَقَدي، عن زهير بن محمد، به.

ويشهد له بنحوه حديث أبي صالح عن بعض أزواج النبي ﷺ عند أحمد 38/ (23085)، ورجاله ثقات.

حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (22/ 14517) نے زہیر بن محمد کے طریق سے روایت کیا ہے
متابعات و شواہد: امام احمد (38/ 23085) نے ابوصالح کے طریق سے نبی ﷺ کی بعض ازواج سے بھی اسے روایت کیا ہے جس کے تمام راوی ثقہ ہیں۔
وقد ورد في غير هذه القصة أنَّ أبخل الناس من يبخل بالسلام، من حديث أبي هريرة موقوفًا عليه عند البخاري في "الأدب المفرد" (1042)، وابن حبان (4498)، وإسناده صحيح، وقد روي مرفوعًا، لكن الصحيح وقفه كما قال الدارقطني في "العلل" (2234).
متابعات و شواہد: دیگر روایات میں آتا ہے کہ "بخیل ترین وہ ہے جو سلام میں بخل کرے"
حوالہ / مصدر: یہ ابوہریرہ کا موقوف قول ہے (الادب المفرد 1042) جس کی سند صحیح ہے
حکم / درجۂ حدیث: امام دارقطنی کے مطابق اس کا موقوف ہونا ہی صحیح ہے۔
وعن عبد الله بن مغفَّل مرفوعًا عند الطبراني في "الأوسط" (3392)، وفي "الصغير" (335)، وفي "الدعاء" (61)، وقال المنذري في "الترغيب والترهيب" 1/ 198: إسناده جيد.
حوالہ / مصدر: اسے طبرانی نے عبد اللہ بن مغفل سے مرفوعاً روایت کیا ہے
حکم / درجۂ حدیث: امام منذری کے بقول اس کی سند "جید" (عمدہ) ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2226 سے ماخوذ ہے۔