حدیث نمبر: 2224
أخبرنا الشيخ أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا علي بن عبد العزيز والعباس بن الفضل الأسفاطي، قالا: حدثنا عَتيقُ بن يعقوب الزُّبَيري، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثني إبراهيم بن طَهْمان، عن أبي الزُّبَير المكي، قال: سمعت أبا أُسَيد الساعِدِيَّ، وابنُ عباس يُفتي: الدينار بالدينارين، فقال له أبو أُسَيد الساعِدي، وأغلَظَ له، قال: فقال ابن عباس: ما كنت أظنَّ أنَّ أحدًا يعرف قَرابتي من رسول الله ﷺ يقول لي مثلَ هذا يا أبا أُسَيد، فقال أبو أُسَيد: أشهدُ لَسمعتُ من رسول الله ﷺ يقول: "الدِّينارُ بالدينارِ، والدِّرهمُ بالدرهمِ، وصاعُ حِنْطةٍ بصاعِ حِنْطةٍ، وصاعُ شعيرٍ بصاعِ شَعيرٍ، وصاعُ مِلْح بصاعِ ملحٍ، لا فضلَ بينهما في شيءٍ من ذلك"، فقال ابن عباس: إنما هذا شيءٌ كنتُ أقوله برأيي، ولم أسمعْ فيه بشيءٍ (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه بهذه السِّياقة. وعَتيق بن يعقوب شيخٌ قرشيٌّ من أهل المدينة.
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2193 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر

ابوزبیر مکی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابواسید ساعدی رضی اللہ عنہ کو سنا جبکہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فتویٰ دے رہے تھے کہ ایک دینار کے بدلے دو دینار (کا تبادلہ جائز ہے)، تو ابواسید ساعدی نے ان سے سخت کلامی کی، ابن عباس نے کہا: اے ابواسید! میرا یہ خیال نہیں تھا کہ رسول اللہ ﷺ سے میری قرابت کو جاننے والا کوئی شخص مجھ سے ایسی بات کہے گا، ابواسید نے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”دینار کے بدلے دینار، درہم کے بدلے درہم، ایک صاع گندم کے بدلے ایک صاع گندم، ایک صاع جو کے بدلے ایک صاع جو، اور ایک صاع نمک کے بدلے ایک صاع نمک (برابر بیچا جائے)، ان اشیاء میں سے کسی میں بھی کمی بیشی نہ ہو“، یہ سن کر ابن عباس نے فرمایا: یہ تو صرف ایک بات تھی جو میں اپنی رائے سے کہتا تھا، میں نے اس بارے میں (پہلے) کچھ نہیں سنا تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اس سیاق کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔ عتیق بن یعقوب مدینہ کے ایک ثقہ قریشی شیخ ہیں۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب : البيوع / حدیث: 2224
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي، من أجل عبد العزيز بن محمد» [ترقيم الرساله 2224] [ترقيم الشركة 2206] [ترقيم العلميه 2193]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده قوي من أجل عبد العزيز بن محمد - وهو الدَّراوردي - فهو صدوق لا بأس به.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "قوی" ہے کیونکہ عبدالعزیز بن محمد الدراوردی "صدوق" (سچے) ہیں اور ان میں کوئی حرج نہیں۔
وأخرجه الشاشي في "مسنده" (1519)، والطبراني في "المعجم الكبير" 19/ (595)، وابن عبد البر في "التمهيد" 2/ 244 - 245 من طريق علي بن عبد العزيز - وهو أبو الحسن البغوي - بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے الشاشی نے (1519)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (19/ 595) اور ابن عبدالبر نے "التمہید" (2/ 244) میں اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أبو الشيخ الأصبهاني في "جزء ما رواه أبو الزُّبَير عن غير جابر" (15)، ومن طريقه أخرجه الذهبي في "تاريخ الإسلام" 3/ 521، وفي "سير أعلام النبلاء" 5/ 386 من طريق علي بن حرب، عن عَتيق بن يعقوب، به.
حوالہ / مصدر: اسے ابو الشیخ الاصبہانی اور ان کے واسطے سے امام ذہبی نے "تاریخ الاسلام" اور "سیر اعلام النبلاء" (5/ 386) میں عتیق بن یعقوب کے طریق سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2224 سے ماخوذ ہے۔