کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: بیچنے والے کے لیے یہ شرط رکھنا جائز ہے کہ فروخت کیے گئے غلام سے مقررہ مدت تک خدمت لے۔
أخبرنا أبو بكر أحمد بن إسحاق، حدثنا موسى بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله بن أبي شَيْبة، حدثنا زيد بن الحُباب، عن الحسين بن واقد، حدثني عبد الله بن بُريدة، عن أبيه: أنَّ سلمان لما قَدِم المدينة أتى رسولَ الله ﷺ بهديةٍ على طَبَقٍ، فوضعها بين يديه، فقال: "ما هذا يا سلمانُ؟ " قال: صدقةٌ عليك وعلى أصحابك، قال: "إني لا آكُلُ الصدقةَ" فرفعها، ثم جاءه من الغدِ بمثلها، فوضعها بين يديه، فقال: "ما هذا؟ " قال: هديةٌ لك، فقال رسول الله ﷺ لأصحابه: "كُلُوا" قال: "لمن أنت؟ " قال: لقومٍ، قال: "فاطلُب إليهم أن يُكاتِبُوك"، قال: فكاتَبُوني على كذا وكذا نخلةً أغرِسُها لهم، ويقومُ عليها سلمانُ حتى تُطعِمَ، قال: ففَعَلُوا، قال: فجاء النبيُّ ﷺ فغَرَسَ النخلَ كلَّه إلّا نخلةً واحدةً غرسَها عمرُ، وأطعَمَ نخلُه مِن سَنَتِه إِلَّا تلك النخلةَ، قال رسول الله ﷺ: "مَن غَرَسَها؟ " قالوا: عمرُ، فَغَرَسَها رسولُ الله ﷺ من يده، فحَمَلَت من عامِها (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، أخرجه الشيخُ أبو بكر في باب الرخصة في اشتراط البائع خدمةَ العبد المَبيع وقتًا معلومًا. وله شاهد من حديث ابن عباس عن سلمانَ صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2183 - على شرط مسلم
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، أخرجه الشيخُ أبو بكر في باب الرخصة في اشتراط البائع خدمةَ العبد المَبيع وقتًا معلومًا. وله شاهد من حديث ابن عباس عن سلمانَ صحيحٌ على شرط مسلم:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2183 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ جب مدینہ تشریف لائے تو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ایک تھال میں ہدیہ لے کر حاضر ہوئے اور اسے سامنے رکھ دیا، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”اے سلمان! یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ پر اور آپ کے صحابہ پر صدقہ ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں صدقہ نہیں کھاتا“، چنانچہ اسے اٹھا لیا گیا، پھر اگلے دن وہ ویسا ہی (تھال) لے کر آئے اور سامنے رکھا، آپ ﷺ نے پوچھا: ”یہ کیا ہے؟“ انہوں نے عرض کیا: یہ آپ کے لیے ہدیہ ہے، تب رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم بھی کھاؤ۔“ پھر آپ ﷺ نے دریافت فرمایا: ”تم کس کے (غلام) ہو؟“ انہوں نے عرض کیا: فلاں قوم کے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ان سے مطالبہ کرو کہ وہ تمہارے ساتھ مکاتبت (آزادی کا معاہدہ) کر لیں۔“ سلمان رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: چنانچہ انہوں نے مجھ سے اتنے اتنے کھجور کے درخت لگانے پر مکاتبت کر لی جن کی سلمان اس وقت تک پرورش کریں گے جب تک وہ پھل نہ دے دیں، راوی کہتے ہیں: پس انہوں نے ایسا ہی کیا، پھر نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور سوائے ایک درخت کے تمام کھجوریں اپنے ہاتھ سے لگائیں، وہ ایک درخت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لگایا تھا، چنانچہ آپ ﷺ کے لگائے ہوئے درختوں نے اسی سال پھل دے دیا سوائے اس ایک درخت کے، رسول اللہ ﷺ نے پوچھا: ”اسے کس نے لگایا ہے؟“ لوگوں نے عرض کیا: عمر (رضی اللہ عنہ) نے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے دستِ مبارک سے (دوبارہ) لگایا تو اس نے بھی اسی سال پھل دے دیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور امام ابوبکر (بیہقی) نے اسے اس باب میں روایت کیا ہے کہ بیچنے والے کے لیے ایک خاص وقت تک مبیع (غلام) کی خدمت کی شرط لگانا جائز ہے۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے، اور امام ابوبکر (بیہقی) نے اسے اس باب میں روایت کیا ہے کہ بیچنے والے کے لیے ایک خاص وقت تک مبیع (غلام) کی خدمت کی شرط لگانا جائز ہے۔
أخبرَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا محمد بن شاذان الجَوهَري، حدثنا مُعلَّى بن منصور، حدثنا يعقوب أبو يوسف، أخبرنا محمد بن إسحاق، عن عاصم بن عمر، عن محمود بن لَبيد، عن ابن عباس، حدثني سلمانُ: أنَّ رجلًا من اليهود اشتراهُ، فقَدِم به المدينةَ، قال: فأَتيتُ رسولَ الله ﷺ بهديةٍ، فقلتُ: هذه صدقةٌ، فقال لأصحابه: "كُلُوا"، ولم يأكل. ثم ذكر الحديث نحوه (1).
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2184 - على شرط مسلم
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2184 - على شرط مسلم
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے مجھے بتایا: ایک یہودی نے انہیں خریدا اور وہ اسے لے کر مدینہ آیا، وہ کہتے ہیں: پھر میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں ہدیہ لے کر حاضر ہوا اور عرض کیا: یہ صدقہ ہے، تو آپ ﷺ نے اپنے صحابہ سے فرمایا: ”تم سب کھاؤ“، لیکن آپ ﷺ نے خود تناول نہیں فرمایا، پھر انہوں نے اسی طرح پوری حدیث ذکر کی۔
یہ شاہد بھی امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
یہ شاہد بھی امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْلُ، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا حماد بن زيد. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، حدثنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا عبد الوارث بن سعيد. وحدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا يحيى بن محمد بن يحيى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يزيد بن زُريع؛ كلهم عن أيوب، عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، قال: قال رسول الله ﷺ: "لا يَحِلُّ سَلَفٌ وبَيعٌ، ولا شَرطانِ في بيعٍ، ولا رِبْحُ ما لم يُضْمَن، ولا بيعُ ما ليس عِندَك" (1).
هذا حديث على شرطِ جملةٍ من أئمة المسلمين صحيحٌ، وهكذا رواه داود بن أبي هند وعبد الملك بن أبي سليمان وغيرُهم عن عمرو بن شعيب. ورواه عطاء بن مسلم الخُراساني عن عمرو بن شعيب بزيادات ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2185 - صحيح
هذا حديث على شرطِ جملةٍ من أئمة المسلمين صحيحٌ، وهكذا رواه داود بن أبي هند وعبد الملك بن أبي سليمان وغيرُهم عن عمرو بن شعيب. ورواه عطاء بن مسلم الخُراساني عن عمرو بن شعيب بزيادات ألفاظٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2185 - صحيح
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما اپنے والد (عمرو بن شعیب کے دادا) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”قرض کے ساتھ بیع کرنا حلال نہیں، اور نہ ہی ایک بیع میں دو شرطیں لگانا جائز ہے، اور نہ ہی ایسی چیز کا نفع لینا جائز ہے جس کی ضمانت (نقصان کی ذمہ داری) تمہارے ذمے نہ ہو، اور نہ ہی ایسی چیز کی بیع درست ہے جو تمہارے پاس (تمہاری ملکیت میں) موجود نہ ہو۔“
یہ حدیث ائمہ مسلمین کی ایک جماعت کی شرط پر صحیح ہے، اور اسی طرح اسے داؤد بن ابی ہند اور عبدالملک بن ابی سلیمان وغیرہ نے بھی عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث ائمہ مسلمین کی ایک جماعت کی شرط پر صحیح ہے، اور اسی طرح اسے داؤد بن ابی ہند اور عبدالملک بن ابی سلیمان وغیرہ نے بھی عمرو بن شعیب سے روایت کیا ہے۔