کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: خرید و فروخت میں جھوٹ اور قسم آ جاتی ہے، اس لیے اسے صدقے کے ساتھ ملا دو۔
حدثنا علي بن حَمْشاذَ العَدْل، حدثنا بِشْر بن موسى الأسدي، حدثنا الحُميدي، حدثنا سفيان، قال: سمعتُه من عاصم ومن عبد الملك بن أعْيَنَ ومن جامع بن أبي راشد، عن أبي وائلٍ، عن قيس بن أبي غَرَزةَ، قال: كنا قومًا نُسمَّى السماسرةَ، وكنا نَبيع بالبَقيع (1)، فأتانا رسول الله ﷺ، فسمَّانا بأحسنَ من اسمِنا، فقال: "يا معشرَ التجار، إنَّ هذا البيعَ يحضُرُه الكذبُ واليمينُ فشُوبُوهُ بالصدقةِ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه؛ لِما قدَّمتُ ذِكرَه من تفرُّد أبي وائل بالرواية عن قيس بن أبي غَرَزَة (3)، وهكذا رواه منصورُ بن المعتمِر والمغيرةُ بن مِقْسَم وحَبيب بن أبي ثابت عن أبي وائل. أما حديث منصورٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2138 - صحيح_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مَنْصُورٍ
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه؛ لِما قدَّمتُ ذِكرَه من تفرُّد أبي وائل بالرواية عن قيس بن أبي غَرَزَة (3)، وهكذا رواه منصورُ بن المعتمِر والمغيرةُ بن مِقْسَم وحَبيب بن أبي ثابت عن أبي وائل. أما حديث منصورٍ:
[التعليق - من تلخيص الذهبي] ترقيم العلميه 2138 - صحيح_x000D_ أَمَّا حَدِيثُ مَنْصُورٍ
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم ایک گروہ تھے جنہیں «سَمَاسِرَة» (دلال یا بروکر) کہا جاتا تھا اور ہم بقیع کے مقام پر تجارت کرتے تھے، پس رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ہمارے اس نام سے بہتر نام سے پکارا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجرو! بے شک اس خرید و فروخت میں لغو (بے ہودہ بات) اور قسمیں بھی شامل ہو جاتی ہے، لہٰذا تم اسے صدقے کے ذریعے پاک کیا کرو۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ابو وائل اس حدیث کو قیس بن ابی غرزہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور اسے منصور بن معتمر، مغیرہ بن مقسم اور حبیب بن ابی ثابت نے بھی ابو وائل سے روایت کیا ہے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، کیونکہ ابو وائل اس حدیث کو قیس بن ابی غرزہ سے روایت کرنے میں منفرد ہیں، اور اسے منصور بن معتمر، مغیرہ بن مقسم اور حبیب بن ابی ثابت نے بھی ابو وائل سے روایت کیا ہے۔
فأخبرَناه أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حُذيفة ومحمد بن كثير، قالا: حدثنا سفيان الثَّوْري، عن منصور. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق وأبو محمد بن موسى، قالا: أخبرنا محمد بن أيوب، أخبرنا يحيى بن المغيرة السَّعْدي، حدثنا جَرير، عن منصور، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة الغِفاري، قال: كنا بالمدينة، فنبيعُ الأوساقَ ونبتاعُها، وكنا نسمي أنفسَنا السماسرةَ ويُسمِّينا الناسُ، فخرج علينا رسولُ الله ﷺ ذاتَ يوم، فسمَّانا باسمٍ هو خَيرٌ مِن الذي سمَّينا أنفسَنا وسمّانا الناسُ، فقال: "يا مَعشَرَ التجار، إنه يشهدُ بيعكم اللغوُ والحَلِفُ، فَشُوبُوه بصدقةٍ" (1). وأما حديث المغيرة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن ابی غرزہ غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: ہم مدینہ میں اجناس کے ڈھیروں کی خرید و فروخت کرتے تھے اور ہم خود کو «سَمَاسِرَة» (دلال) کہتے تھے اور لوگ بھی ہمیں اسی نام سے پکارتے تھے، ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں ایسے نام سے پکارا جو ہمارے خود کے رکھے ہوئے اور لوگوں کے دیے ہوئے نام سے بہتر تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے تاجرو! تمہاری اس تجارت میں لغو باتیں اور قسم کھانا بھی پیش آ جاتا ہے، پس تم اسے صدقے کے ذریعے پاک کر لیا کرو۔“
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مَرْزُوق، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي. وأخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وهب بن جَرير. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذَان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة، قال: أتانا النبيُّ ﷺ إلى السوق، فقال: "يا مَعشَرَ التجار، إنَّ هذا السوقَ يخالِطُها حَلِفٌ، فشُوبُوها بصدقةٍ" (1). وأما حديث حَبيب بن أبي ثابت:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے گروہِ تجار! اس بازار میں جھوٹی قسموں کی آمیزش ہو جاتی ہے، لہٰذا اسے صدقے کے ذریعے پاک کر دیا کرو۔“
فأخبرَناه أبو عبد الله الصفّار، حدثنا أحمد بن محمد بن عيسى، حدثنا أبو حذيفة، حدثنا سفيان. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا يحيى، حدثنا سفيان، عن حبيب بن أبي ثابت. وأخبرنا عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحُسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا شعبة. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا أبو المثنَّى، حدثنا علي بن الجَعْد، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، عن شعبة، عن حَبيب بن أبي ثابت، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة، قال: جاءنا رسول الله ﷺ ونحن نبيع الرَّقيقَ بالمدينة، وكنا نُسمَّى السماسرةَ، فسمّانا بأحسنَ مما سمَّينا به أنفسَنا، فقال: "يا معشرَ التجار، إنَّ هذا البيعَ يحضُرُه اللغوُ والأيمانُ، فشُوبُوه بالصدقة" (2)، هذا لفظ حديث الثَّوْري.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم مدینہ میں غلاموں کی تجارت کر رہے تھے اور ہمیں «سَمَاسِرَة» کہا جاتا تھا، آپ ﷺ نے ہمیں اس نام سے بہتر نام سے پکارا اور فرمایا: ”اے تاجرو! اس تجارت میں لغو باتیں اور قسمیں بھی در آتی ہیں، پس تم اسے صدقے کے ذریعے پاک کر لیا کرو۔“ (یہ سفیان ثوری کی روایت کے الفاظ ہیں)۔