المستدرك على الصحيحين
كتاب : البيوع— خریدوفروخت کا بیان
الْبَيْعُ يَحْضُرُهُ الْكَذِبُ وَالْيَمِينُ فَشُوبُوهُ بِالصَّدَقَةِ باب: خرید و فروخت میں جھوٹ اور قسم آ جاتی ہے، اس لیے اسے صدقے کے ساتھ ملا دو۔
حدیث نمبر: 2169
فحدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مَرْزُوق، حدثنا أبو داود الطَّيالِسي. وأخبرنا أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا علي بن إبراهيم الواسطي، حدثنا وهب بن جَرير. وأخبرني عبد الرحمن بن الحسن القاضي بهَمَذَان، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس. وحدثنا أبو بكر بن إسحاق وعلي بن حَمْشاذَ، قالا: أخبرنا علي بن عبد العزيز، حدثنا مسلم بن إبراهيم؛ قالوا: حدثنا شعبة، عن مغيرة، عن أبي وائل، عن قيس بن أبي غَرَزَة، قال: أتانا النبيُّ ﷺ إلى السوق، فقال: "يا مَعشَرَ التجار، إنَّ هذا السوقَ يخالِطُها حَلِفٌ، فشُوبُوها بصدقةٍ" (1). وأما حديث حَبيب بن أبي ثابت:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا قیس بن ابی غرزہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: نبی کریم ﷺ بازار میں ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا: ”اے گروہِ تجار! اس بازار میں جھوٹی قسموں کی آمیزش ہو جاتی ہے، لہٰذا اسے صدقے کے ذریعے پاک کر دیا کرو۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. إبراهيم بن الحسين: هو ابن علي، المعروف بابن دِيْزِيل.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔ ابراہیم بن الحسین کو "ابن ڈیزیل" کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 26/ (16136)، والنسائي (4722) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے شعبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند
صحیح ہے۔ ابراہیم بن الحسین کو "ابن ڈیزیل" کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔
وأخرجه أحمد 26/ (16136)، والنسائي (4722) من طريق محمد بن جعفر، عن شعبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام احمد اور نسائی نے اسے شعبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2169 سے ماخوذ ہے۔