حدیث نمبر: 2112
حدثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن موسى القاضي إملاءً، حدثنا إبراهيم بن يوسف الهِسِنجاني، حدثنا أبو الطاهر وهارون بن سعيد، قالا: حدثنا ابن وهب، أخبرنا يحيى بن أيوب، عن زَبّان بن فائد، عن سَهْل بن معاذ بن أنس الجُهني، عن أبيه، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "من قرأ القرآنَ وعمِل بما فيه أُلبس والدُه يومَ القيامة تاجًا، ضَوْؤُه أحسنُ من ضَوْء الشمس في بيوت الدنيا لو كانت فيه، فما ظَنُّكم بالذي عَمِل به؟ " (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا معاذ بن انس جہنی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے قرآن پڑھا اور اس میں جو کچھ ہے اس پر عمل کیا، تو قیامت کے دن اس کے والدین کو ایک تاج پہنایا جائے گا، جس کی روشنی دنیا کے گھروں میں موجود سورج کی روشنی سے بھی زیادہ حسین ہوگی اگر وہ تمہارے درمیان ہوتا، تو پھر اس شخص کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے جس نے خود اس پر عمل کیا ہو؟“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2112
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف زبّان بن فائد
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف زبّان بن فائد، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص". أبو الطاهر: هو أحمد بن عَمرو بن السَّرْح.» [ترقيم الرساله 2112] [ترقيم الشركة 2094]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف زبّان بن فائد، وبه أعلّه الذهبي في "التلخيص". أبو الطاهر: هو أحمد بن عَمرو بن السَّرْح.
حکم / درجۂ حدیث: زبان بن فائد کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، جیسا کہ امام ذہبی نے "تلخیص" میں واضح کیا ہے۔
وأخرجه أبو داود (1453) عن أبي الطاهر أحمد بن عمرو بن السَّرح، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام ابو داؤد نے ابو الطاہر احمد بن عمرو کے طریق سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 24/ (15645) من طريق عبد الله بن لهيعة، عن زبّان، به.
حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے عبداللہ بن لہیعہ عن زبان بن فائد کے واسطے سے روایت کیا ہے۔
وسيأتي بعده من حديث بُريدة الأسلمي بلفظ آخر أحسن من لفظه هنا وله شواهد.
متابعات و شواہد: آگے بریدہ اسلمی کی حدیث بہتر الفاظ اور شواہد کے ساتھ آئے گی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2112 سے ماخوذ ہے۔