کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: قرآنِ مجید کے فضائل سے متعلق عمومی روایات — نہ تورات میں، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں سورۂ فاتحہ جیسی کوئی سورت نازل کی گئی۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفّان العامِري، حدثنا أبو أسامة، حدثني عبد الحميد بن جعفر، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبي هريرة، عن أُبيِّ بن كعب قال: قال رسول الله ﷺ: "ألا أُعلِّمك سورةً ما أُنزلت في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزَّبُور ولا في القرآن مثلُها؟ " قلت: بلى، قال: "إني لأرجو أن لا تخرجَ من ذلك الباب حتى تَعَلَّمَها"، فقام رسول الله ﷺ وقمتُ معه، فجعل يحدِّثني ويدِي في يده، فجعلتُ أتباطأ كراهيةَ أن يخرج قبل أن يخبرني بها، فلما دنَوتُ من الباب قلت: يا رسول الله، السورةَ التي وعدتَني، فقال: "كيف تقرأُ إذا قمتَ إلى الصلاة؟ " فقرأت فاتحة الكتاب، فقال: "هيَ هيَ، وهي السَّبعُ المَثَاني التي قال الله ﷿: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ [الحجر:87]، الذي أُعطِيتُ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وقد اختُلِف على العلاء بن عبد الرحمن فيه، فرواه مالك بن أنس، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبي سعيد مولى عامر بن كُريز، عن أبيّ بن كعب، ورواه شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أبيّ بن كعب. أما حديث مالك بن أنس:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں ایسی سورت نہ سکھاؤں جس کی مثل نہ تورات میں ہے، نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی (بقیہ) قرآن میں؟“ میں نے عرض کیا: کیوں نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم اس دروازے سے نکلنے سے پہلے اسے سیکھ لو گے“، رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے اور میں بھی آپ کے ساتھ کھڑا ہو گیا، آپ ﷺ میرا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے مجھ سے باتیں کرنے لگے، میں (سورت سیکھنے کے شوق میں) جان بوجھ کر سست رفتاری سے چلنے لگا کہ کہیں آپ ﷺ مجھے وہ سورت بتانے سے پہلے باہر نہ نکل جائیں، جب میں دروازے کے قریب پہنچا تو عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟“ میں نے فاتحہ الکتاب پڑھی، آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہی وہ سورت ہے، اور یہی وہ سبع مثانی ہے جس کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعًا مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ﴾ ”یقیناً ہم نے آپ کو سات بار بار دہرائی جانے والی آیات اور عظمت والا قرآن عطا فرمایا ہے“ [سورة الحجر: 87]، جو مجھے دی گئی ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور اس کی روایت میں علاء بن عبدالرحمن پر اختلاف کیا گیا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2071
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح، وقد اختُلف فيه عن العلاء بن عبد الرحمن - وهو ابن يعقوب مولى الحُرَقة - كما نبَّه الحاكم على بعض ذلك بإثر الحديث، ومما فات الحاكمَ التنبيهُ عليه أنَّ جماعةً خالفوا عبدَ الحميد بن جعفر، فرووه عن العلاء عن أبيه عن أبي هريرة، لم يجاوزوه، فجعلوه من مسند ...» [ترقيم الرساله 2071] [ترقيم الشركة 2055]
فأخبرَناه الحسن بن يعقوب العَدْل، حدثنا يحيى بن أبي طالب، حدثنا عبد الوهاب بن عطاء، حدثنا مالك بن أنس. وأخبرني أبو عبد الله محمد بن عبد الله الصفّار، حدثنا إسماعيل بن إسحاق القاضي، حدثنا عبد الله بن مَسلَمة، عن مالك، العلاء بن عبد الرحمن، أنَّ أبا سعيد مولى عامر بن كُرَيز أخبره: أنَّ رسول الله ﷺ قال لأبيّ بن كعب وهو يصلي، فلما فرغ من صلاته لَحِقَه (1)، قال: فوضع النبي ﷺ يدَه على يدِي، قال: وهو يريد أن يخرج من باب المسجد، فقال: "إني أرجُو أن لا تخرُجَ من المسجد حتى تعلَمَ سورةً ما أُنزل في التوراة، ولا في الإنجيل، ولا في القرآن مثلُها"، قال: فجعلتُ أتباطأُ في المشي رجاءَ ذلك، ثم قلت: يا رسول الله، السورةَ التي وعدتَني، قال: "كيف تقرأ إذا افتتحتَ الصلاةَ؟ " قال: فقرأتُ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ حتى أتيتُ على آخرها، فقال رسول الله ﷺ: "هي هذه السورةُ، وهي السبعُ المَثاني، والقرآنُ العظيمُ الذي أُعطِيتُ" (2). وأما حديث شعبة:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اس وقت پکارا جب وہ نماز پڑھ رہے تھے، جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو آپ ﷺ سے جا ملے، راوی کہتے ہیں: نبی کریم ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھا جبکہ آپ مسجد کے دروازے سے باہر نکلنا چاہتے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھے امید ہے کہ تم مسجد سے باہر نہیں نکلو گے یہاں تک کہ تم وہ سورت سیکھ لو جس کی مثل نہ تورات میں نازل ہوئی، نہ انجیل میں اور نہ ہی قرآن میں“، میں (سورت سیکھنے کی) امید میں سستی سے چلنے لگا، پھر میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”جب تم نماز شروع کرتے ہو تو کیا پڑھتے ہو؟“ میں نے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ آخر تک پڑھی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یہ وہی سورت ہے، اور یہی سبع مثانی اور وہ قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ [سورة الحجر: 87]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2072
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات لكنه مرسل، وهو المحفوظ فيه عن مالك، وأما ما سيأتي برقم (3057) من طريق أحمد بن محمد بن عيسى القاضي، عن عبد الله بن مسلمة القعنبي، عن مالك، عن العلاء، عن أبي سعيد، عن أبيّ بن كعب، فهو وهمٌ، والصواب رواية القعنبي التي هنا، ...» [ترقيم الرساله 2072] [ترقيم الشركة 2056]
فأخبرَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن حاتم المروَزي، حدثنا عبد الله بن روح المدائني، حدثنا شَبَابة بن سَوّار، حدثنا شعبة، عن العلاء بن عبد الرحمن، عن أبيه، عن أُبي بن كعب: أنه قرأ على رسول الله ﷺ ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ حتى خَتَمَها، فقال رسول الله ﷺ: "إنها السبعُ المَثَاني، والقرآنُ العظيمُ الذي أُعطِيتُ" (3). وقد وجدتُ لحديث عبد الحميد بن جعفر شاهدًا في سماع أبي هريرة هذا الحديثَ من أبيِّ بن كعب من حديث المدنيين:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے سامنے ﴿الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ﴾ مکمل تلاوت کی، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”یقیناً یہ سبع مثانی اور وہ قرآنِ عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے۔“ [سورة الحجر: 87]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2073
تخریج حدیث [ترقيم الرساله 2073] [ترقيم الشركة 2057]
أخبرَناه أبو بكر محمد بن المؤمَّل بن الحسن بن عيسى، حدثنا الفضل بن محمد الشَّعراني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفيلي، حدثنا محمد بن سلمة، حدثنا محمد بن إسحاق، عن عبد الله بن أبي بكر، عن أبي الزِّناد، عن الأعرج، عن أبي هريرة: أنَّ النبي ﷺ نادى أبيَّ بن كعب وهو قائم يصلي، فلم يجبْه، فقال: "ما مَنَعَكَ أن تُجيبَني يا أبيُّ؟ " فقال: كنت أصلي، فقال: "ألم يقلِ اللهُ ﵎: ﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ [الأنفال: 24]، لا تَخرُج من المسجد حتى أُعلِّمَك سورةً ما أَنزل الله في التوراة والإنجيل والزبُور مثلَها"، قال أبيّ: ثم اتَّكأَ على يدي، حتى إذا كان بأقصى المسجد قلتُ: يا نبيّ الله، قلتَ: كذا وكذا، قال: "نعم، هي أمُّ القرآن، والذي نفسي بيده، ما أنزل الله في التوراة والإنجيل والزَّبُور مثلَها، وإنها السبعُ الطُّوَلُ التي أُوتيتُ، وإنها القرآنُ العظيمُ" (1). قد أخرج البخاري في "الجامع الصحيح" (2) حديثَ ابن أبي ذئب، عن سعيد المقبُري، عن أبي هريرة، عن النبي ﷺ قال: "الحمد لله، أمُّ القرآن، والسبعُ المثاني، والقرآنُ العظيمُ"، هذه اللفظةَ فقط.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو پکارا جب وہ کھڑے نماز پڑھ رہے تھے، انہوں نے جواب نہ دیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”اے ابی! تمہیں میرا جواب دینے سے کس چیز نے روکا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”کیا اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا: ﴿اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ﴾ ”اللہ اور اس کے رسول کی پکار پر لبیک کہو جب وہ تمہیں بلائیں“ [سورة الأنفال: 24]، تم مسجد سے اس وقت تک باہر نہ جانا جب تک میں تمہیں ایسی سورت نہ سکھا دوں جس کی مثل اللہ نے تورات، انجیل اور زبور میں نازل نہیں فرمائی“، ابی کہتے ہیں: پھر آپ ﷺ نے میرے ہاتھ کا سہارا لیا یہاں تک کہ جب آپ مسجد کے آخری کنارے پر پہنچے تو میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! آپ نے ایسا ایسا فرمایا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں، یہ ام القرآن ہے، اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! اللہ نے اس جیسی سورت تورات، انجیل اور زبور میں نازل نہیں فرمائی، اور یہی وہ سات لمبی سورتیں (کے قائم مقام) ہے جو مجھے دی گئی ہیں، اور یہی قرآنِ عظیم ہے۔“ [سورة الحجر: 87]
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب فضائل القرآن / حدیث: 2074
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد رجاله ثقات غير محمد بن إسحاق» [ترقيم الرساله 2074] [ترقيم الشركة 2058]