المستدرك على الصحيحين
كتاب فضائل القرآن— قرآن مجید کے فضائل
فَضِيلَةُ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ ، وَخَوَاتِيمِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ باب: سورۂ فاتحہ اور سورۂ بقرہ کی آخری آیات کی فضیلت۔
أخبرني أبو جعفر محمد بن علي الشَّيباني بالكوفة، حدثنا أحمد بن حازم بن أبي غَرَزة، حدثنا عثمان بن أبي شَيْبة حدثنا معاوية بن هشام، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن عبد الله بن عيسى، عن سعيد بن جُبير، عن ابن عباس، قال: بَيْنا جبريلُ ﵇ جالس عند رسول الله ﷺ إذ سمع نقيضًا من السماء، فرفع رأسه، ثم قال: "فُتحَ بابٌ من السماء لم يُفتَح قبلَه قطُّ، فإذا مَلَك يقول: أبشِرْ بِنُورَين أُوتِيتَهما لم يُؤتَهُما نبيٌّ قبلَك: فاتحةُ الكتاب، وخَواتيمُ سورة البقرة، لن تَقرأَ منهما (3) حرفًا إلَّا أُعطِيتَه" (4).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه هكذا، إنما أخرج مسلم هذا الحديث عن أحمد بن جَوَّاس الحنفي، عن أبي الأحوص، عن عمار بن رُزَيق، مختصرًا (1).
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اسی اثناء میں کہ جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے، انہوں نے آسمان سے ایک چرچراہٹ کی آواز سنی، انہوں نے اپنا سر اٹھایا اور فرمایا: ”آسمان کا ایک ایسا دروازہ کھلا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں کھلا تھا، پھر وہاں سے ایک فرشتہ اترا اور کہنے لگا: آپ کو ان دو نوروں کی خوشخبری ہو جو آپ کو دیے گئے ہیں اور آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیے گئے: ایک فاتحہ الکتاب اور دوسرا سورہ بقرہ کی آخری آیات، آپ ان میں سے جو بھی حرف پڑھیں گے وہ (اس میں مانگی گئی دعا) آپ کو ضرور دی جائے گی۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے اس طرح روایت نہیں کیا، امام مسلم نے اسے مختصراً روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
نوٹ / توضیح: ہندوستانی نسخے کے برعکس قلمی نسخوں کے الفاظ مسلم اور نسائی کی روایات کے مطابق ہیں جو زیادہ درست ہیں۔
(4) إسناده قوي من أجل معاوية بن هشام - وهو القصّار - وعمار بن رزيق.
حکم / درجۂ حدیث: معاویہ بن ہشام اور عمار بن رزیق کی وجہ سے یہ سند "قوی" ہے۔
وأخرجه ابن حبان (778) عن أبي يعلى، عن عثمان بن أبي شيبة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابن حبان نے عثمان بن ابی شیبہ کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه مسلم (806)، والنسائي (986) و (10490) من طريق أبي الأحوص سلّام بن سُليم، عن عمار بن رُزِيق، به.
والنقيض: الصوت.
حوالہ / مصدر: اسے امام مسلم اور نسائی نے ابواحوص سلام بن سلیم کے طریق سے روایت کیا ہے۔ لفظ "نقیض" کا مطلب ہے "آواز"۔
(1) كذا قال الحاكم، مع أنَّ مسلمًا أخرجه تامًّا كرواية الحاكم! ثم إنَّ مسلمًا رواه عن حسن بن الربيع وأحمد بن جواس الحنفي، كلاهما عن أبي الأحوص، وليس عن ابن جواس وحده.
نوٹ / توضیح: حاکم کا یہ کہنا کہ مسلم نے اسے مکمل روایت نہیں کیا، محلِ نظر ہے کیونکہ مسلم نے اسے مکمل ہی روایت کیا ہے۔