حدثنا أبو بكر إسماعيل بن محمد الفقيه بالرَّيّ وأبو أحمد بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، قالا: حدثنا الحارث بن أبي أُسامة، حدثنا يزيد بن هارون، أخبرنا أزهرُ بن سِنان القرشي، حدثنا محمد بن واسع، قال: قدمتُ المدينةَ فلقيتُ بها سالمَ بن عبد الله بن عمر، فحدّثَني عن أبيه، عن جدِّه عمر بن الخطاب، عن رسول الله ﷺ قال: "مَن دخل السُّوق فقال: لا إله إلَّا اللهُ وحدَه لا شَريكَ له، له المُلكُ، وله الحمدُ، يُحيي ويُميت، بيدِه الخيرُ، وهو على كل شيء قديرٌ، كَتبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنةٍ، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، ورَفَع له ألفَ ألفِ درجةٍ، وبنَى له بيتًا في الجنة" (1) قال (1): فقَدِمتُ خُراسان، فأتيتُ قُتيبةَ بن مسلم، فقلتُ له: أتيتك بهديّة، فحدّثتُه بالحديث، فكان قُتيبة بن مسلم يَركَبُ في مَوكبِه حتى يأتيَ باب السوق، فيقولُها ثم ينصرفُ.
هذا حديث له طرق كثيرة تُجمَع ويُذاكَر بها عن أبي يحيى عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير عن سالم، وأبو يحيى هذا ليس من شرط هذا الكتاب، فأما أزهر بن سِنان فإنه من زُهّاد البصريين من أصحاب محمد بن واسِع ومالك بن دينار. وله شاهدٌ من حديث عمر بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر المخرَّج حديثُه في "الصحيحين"، عن سالم:
هذا حديث له طرق كثيرة تُجمَع ويُذاكَر بها عن أبي يحيى عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير عن سالم، وأبو يحيى هذا ليس من شرط هذا الكتاب، فأما أزهر بن سِنان فإنه من زُهّاد البصريين من أصحاب محمد بن واسِع ومالك بن دينار. وله شاهدٌ من حديث عمر بن محمد بن زيد بن عبد الله بن عمر المخرَّج حديثُه في "الصحيحين"، عن سالم:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوا اور اس نے یہ کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ، وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، تمام بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے، اس کے دس لاکھ درجات بلند فرما دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“ محمد بن واسع کہتے ہیں کہ جب میں نے یہ حدیث قتیبہ بن مسلم کو سنائی تو وہ اپنے شاہی قافلے میں سوار ہو کر بازار کے دروازے تک آتے، یہ کلمات کہتے اور پھر واپس چلے جاتے۔
اس حدیث کی سالم سے مروی بہت سی اسناد ہیں، ابو یحییٰ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ازہر بن سنان بصرہ کے ثقہ زاہدین میں سے ہیں، اور اس حدیث کا ایک شاہد عمر بن محمد بن زید کی روایت سے بھی موجود ہے جو کہ صحیحین کے راوی ہیں۔
اس حدیث کی سالم سے مروی بہت سی اسناد ہیں، ابو یحییٰ اس کتاب کی شرط پر نہیں ہیں لیکن ازہر بن سنان بصرہ کے ثقہ زاہدین میں سے ہیں، اور اس حدیث کا ایک شاہد عمر بن محمد بن زید کی روایت سے بھی موجود ہے جو کہ صحیحین کے راوی ہیں۔
حدَّثَناهُ أبو علي الحُسين بن علي الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أبو همَّام بن أبي بدر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمر بن محمد بن زيد، حدثني رجل من أهل البصرة مولًى لرسول الله ﷺ، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جده عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن خَرَجَ إِلى السُّوق فقال: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، له المُلْك وله الحَمْد، يُحيي ويُميت، وهو حيٌّ لا يموت، بيده الخيرُ، وهو على كلِّ شيء قديرٌ، كَتَبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنة، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئة، وبنى له بيتًا في الجنة" (1). هكذا رواه عبدُ الله بن وهب. ورواه إسماعيل بن عياش، عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم - وقد روى عن عمر بن محمد بن زيد عن سالم غيرَ هذا الحديث -:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بازار کی طرف نکلا اور اس نے یہ کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ ایسا زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، تمام بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرما دیتا ہے۔“
اسے عبداللہ بن وہب نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن عیاش نے اسے عمر بن محمد بن زید کے واسطے سے سالم سے روایت کیا ہے۔
اسے عبداللہ بن وہب نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن عیاش نے اسے عمر بن محمد بن زید کے واسطے سے سالم سے روایت کیا ہے۔
حدَّثَناهُ أبو علي الحافظ، أخبرنا العباس بن أحمد بن حسّان السُّلمي بالبصرة، حدثنا عبد الوهاب بن الضحّاك، حدثنا إسماعيل بن عيّاش عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن دخل السُّوق فقال: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، يحيي ويميت، وهو حيٌّ لا يموت، بيده الخيرُ، وهو على كلِّ شيء قديرٌ، كتبَ الله له ألفَ ألفِ حسنةٍ، وحَطَّ عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، ورَفعَ له ألفَ ألفِ درجةٍ" (1). وقد كتَبناهُ من حديث هشام بن حسّان عن عبد الله بن دينار:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوا اور اس نے یہ کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ ایسا زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، تمام بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجات بلند فرما دیتا ہے۔“
حدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَوَيهِ، حدثنا أبو العباس محمد بن الحسن بن حَيدَرة البغدادي، حدثنا مسروق بن المَرزُبان، حدثنا حفص بن غِياث، عن هشام بن حسّان، عن عبد الله بن دينار عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "من دخل السُّوقَ فباعَ فيها واشترى، فقال: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، يُحيي ويُميتُ، وهو على كل شيء قديرٌ، كتبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنةٍ، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، وبنى له بيتًا في الجنة" (2). هذا إسناد صحيح على شرط الشيخين! والله أعلم. تابعه عِمران بن مُسلم عن عبد الله بن دينار:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوا، وہاں خرید و فروخت کی اور یہ کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے! واللہ اعلم۔
یہ سند شیخین کی شرط پر صحیح ہے! واللہ اعلم۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق، أخبرنا علي بن محمد بن عبد الملك بن أبي الشَّوارِب، حدثنا عبد الله بن عبد الوهاب الحَجَبي، حدثنا يحيى بن سُليم المكّي، حدثنا عِمران بن مُسلم، عن عبد الله بن دينار، عن ابن عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن قال في السُّوق: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، بيده الخَيرُ، وهو على كل شيء قديرٌ، كتَبَ الله له ألفَ ألفِ حسنةٍ، ومحا عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، وبنى له بيتًا في الجنة" (1). وفي الباب عن جابر وأبي هريرة وبُريدة الأسلمي وأنس، وأقربُها بشرائط هذا الكتاب حديثُ بُريدة بغيرِ هذا اللفظ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے بازار میں یہ کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، تمام بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر بنا دیتا ہے۔“
أخبرَناه أبو عمرو بن السَّمّاك، حدثنا محمد بن عيسى المدائني، حدثنا شُعيب بن حرب، حدثنا جارٌ لنا يُكنى أبا عُمر، عن علقمة بن مَرثَد، عن سليمان ابن بُريدة، عن أبيه، قال: كان رسولُ الله ﷺ إذا دخلَ السوقَ قال: "باسم الله، اللهمَّ إني أسألُك خيرَ هذه (1) السُّوقِ وخيرَ ما فيها، وأعوذُ بك من شَرِّها وشرِّ ما فيها، اللهمَّ إني أعوذُ بك أن أُصيبَ فيها يمينًا فاجرةً، أو صَفْقةً خاسرةً" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا بریدہ اسلمی رضی اللہ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب بازار میں داخل ہوتے تو یہ دعا فرماتے: «بِاسْمِ اللهِ، اللهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ خَيْرَ هَذِهِ السُّوقِ وَخَيْرَ مَا فِيهَا، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّهَا وَشَرِّ مَا فِيهَا، اللهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أُصِيبَ فِيهَا يَمِينًا فَاجِرَةً، أَوْ صَفْقَةً خَاسِرَةً» ”اللہ کے نام کے ساتھ (داخل ہوتا ہوں)، اے اللہ! میں تجھ سے اس بازار کی بہتری اور جو کچھ اس میں ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتا ہوں، اور میں اس کے شر سے اور جو کچھ اس میں ہے اس کی برائی سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں اس میں کوئی جھوٹی قسم اٹھاؤں یا گھاٹے کا سودا کروں۔“