المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
كَانَ يُعْجِبُهُ الْجَوَامِعُ مِنَ الدُّعَاءِ باب: آپ ﷺ کو جامع دعائیں پسند تھیں۔
حدیث نمبر: 2001
حدثنا علي بن حَمْشاذ العدل، حدثنا محمد بن غالب، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا الأسود بن شَيْبان، أخبرنا أبو نَوفَل بن أبي عَقْرب، عن عائشة: أنَّ رسولَ الله ﷺ كان يُعجِبُه الجوامعُ من الدُّعاء، ويتركُ ما بينَ ذلك (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جامع دعاؤں کو پسند فرماتے تھے اور ان کے علاوہ دیگر (طویل یا غیر جامع) دعاؤں کو چھوڑ دیتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(3) إسناده صحيح.
وأخرجه أحمد 42/ (25151) و (25555)، وأبو داود (1482)، وابن حبان (867) من طُرق عن الأسود بن شيبان، به.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسے امام احمد، ابوداود اور ابن حبان نے الاسود بن شیبان کے طریق سے نقل کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 42/ (25151) و (25555)، وأبو داود (1482)، وابن حبان (867) من طُرق عن الأسود بن شيبان، به.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اسے امام احمد، ابوداود اور ابن حبان نے الاسود بن شیبان کے طریق سے نقل کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 2001 سے ماخوذ ہے۔