حدیث نمبر: 1997
حدَّثَناهُ أبو علي الحافظ، أخبرنا العباس بن أحمد بن حسّان السُّلمي بالبصرة، حدثنا عبد الوهاب بن الضحّاك، حدثنا إسماعيل بن عيّاش عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن عمر، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "مَن دخل السُّوق فقال: لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريك له، له الملكُ وله الحمدُ، يحيي ويميت، وهو حيٌّ لا يموت، بيده الخيرُ، وهو على كلِّ شيء قديرٌ، كتبَ الله له ألفَ ألفِ حسنةٍ، وحَطَّ عنه ألفَ ألفِ سيئةٍ، ورَفعَ له ألفَ ألفِ درجةٍ" (1). وقد كتَبناهُ من حديث هشام بن حسّان عن عبد الله بن دينار:
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بازار میں داخل ہوا اور اس نے یہ کہا: «لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تمام تعریفیں ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ ایسا زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، تمام بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے دس لاکھ درجات بلند فرما دیتا ہے۔“

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1997
درجۂ حدیث محدثین: إسناده تالف بمرة من أجل عبد الوهاب بن الضحاك
تخریج حدیث «إسناده تالف بمرة من أجل عبد الوهاب بن الضحاك، فهو متروك متّهم بوضع الحديث.» [ترقيم الرساله 1997]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده تالف بمرة من أجل عبد الوهاب بن الضحاك، فهو متروك متّهم بوضع الحديث.
درجۂ حدیث: یہ سند عبد الوہاب بن الضحاک کی وجہ سے بالکل "تالف" ہے، وہ جھوٹی حدیثیں گھڑنے میں متہم ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1997 سے ماخوذ ہے۔