المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
دُعَاءُ دُخُولِ السُّوقِ باب: بازار میں داخل ہوتے وقت کی دعا۔
حدَّثَناهُ أبو علي الحُسين بن علي الحافظ، حدثنا محمد بن إسحاق الثقفي، حدثنا أبو همَّام بن أبي بدر، حدثنا عبد الله بن وهب، أخبرني عمر بن محمد بن زيد، حدثني رجل من أهل البصرة مولًى لرسول الله ﷺ، عن سالم بن عبد الله بن عمر، عن أبيه، عن جده عمر، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن خَرَجَ إِلى السُّوق فقال: أشهدُ أن لا إله إلَّا الله وحدَه لا شريكَ له، له المُلْك وله الحَمْد، يُحيي ويُميت، وهو حيٌّ لا يموت، بيده الخيرُ، وهو على كلِّ شيء قديرٌ، كَتَبَ اللهُ له ألفَ ألفِ حسنة، ومَحَا عنه ألفَ ألفِ سيئة، وبنى له بيتًا في الجنة" (1). هكذا رواه عبدُ الله بن وهب. ورواه إسماعيل بن عياش، عن عمر بن محمد بن زيد، عن سالم - وقد روى عن عمر بن محمد بن زيد عن سالم غيرَ هذا الحديث -:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جو شخص بازار کی طرف نکلا اور اس نے یہ کہا: «أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، يُحْيِي وَيُمِيتُ، وَهُوَ حَيٌّ لَا يَمُوتُ، بِيَدِهِ الْخَيْرُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ”میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے اور تمام تعریفیں اسی کے لیے ہیں، وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، وہ ایسا زندہ ہے جسے کبھی موت نہیں آئے گی، تمام بھلائی اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہ ہر چیز پر کامل قدرت رکھنے والا ہے“ تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے دس لاکھ نیکیاں لکھ دیتا ہے، اس کے دس لاکھ گناہ مٹا دیتا ہے اور اس کے لیے جنت میں ایک گھر تعمیر فرما دیتا ہے۔“
اسے عبداللہ بن وہب نے اسی طرح روایت کیا ہے، جبکہ اسماعیل بن عیاش نے اسے عمر بن محمد بن زید کے واسطے سے سالم سے روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
درجۂ حدیث: اس گمنام بصری شخص (عمرو بن دینار) کی وجہ سے سند "شدید ضعیف" ہے، یہ راوی "متروک" اور متفقہ طور پر ضعیف ہے۔
وأخرجه أحمد 1/ (327)، وابن ماجه (2235)، والترمذي (3429) من طريق حماد بن زيد، عن عمرو بن دينار قهرمان آل الزبير، عن سالم بن عبد الله بن عمر، به. وقُرن في رواية الترمذي بحماد بن زيد المعتمرُ بنُ سليمان.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد، ابن ماجہ اور ترمذی نے حماد بن زید عن عمرو بن دینار کی سند سے روایت کیا ہے۔