أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي الصَّنْعاني بمكة، حدثنا إسحاق بن إبراهيم بن عَبّاد، حدثنا عبد الرزاق. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرني يونس بن سُلَيم، قال: أملَى عليَّ يونسُ بن يزيد الأَيْلي: عن ابن شِهاب، عن عُروة بن الزُّبير، عن عبد الرحمن بن عَبْدٍ القاريِّ، قال: سمعتُ عمر بن الخطاب يقول: كان إذا أُنزل على رسولِ الله ﷺ الوحيُ، يُسمَع عند وجهه كدَوِيّ النحْل (1)، فسكَتْنا ساعةً، فاستقبلَ القِبلَة ورفَع يديه، فقال: "اللهمّ زِدْنا ولا تَنقُصنا وأكرِمْنا ولا تُهِنّا، وأعطِنا ولا تَحرِمْنا، وآثِرْنا ولا تُؤثِر علينا، وارْضَ عنا وأَرضِنا، ثم قال: "لقد أُنزل عليَّ عشرُ آياتٍ، من أقامَهنَّ دخَل الجنةَ"، ثم قرأ: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾ (2). قال عبد الرزاق: ويونس بن سُلَيم هذا، كان عمُّه واليًا على أَيلَة، قال: أرسلَني عمّي إلى يونس بن يزيد حتى أملَى عليَّ أحاديثَ.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ کے چہرہ مبارک کے قریب شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ جیسی آواز سنائی دیتی تھی، پس ہم ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے، پھر آپ ﷺ نے قبلہ رخ ہو کر اپنے ہاتھ بلند کیے اور فرمایا: «اللَّهُمَّ زِدْنَا وَلَا تَنْقُصْنَا وَأَكْرِمْنَا وَلَا تُهِنَّا، وَأَعْطِنَا وَلَا تَحْرِمْنَا، وَآثِرْنَا وَلَا تُؤْثِرْ عَلَيْنَا، وَارْضَ عَنَّا وَأَرْضِنَا» ”اے اللہ! ہمیں زیادہ عطا فرما اور ہمیں کم نہ کر، ہمیں عزت دے اور ہمیں رسوا نہ کر، ہمیں عطا فرما اور ہمیں محروم نہ کر، ہمیں ترجیح دے اور ہم پر (کسی کو) ترجیح نہ دے، اور ہم سے راضی ہو جا اور ہمیں (اپنی عطا پر) راضی کر دے“، پھر آپ ﷺ نے فرمایا: ”مجھ پر دس ایسی آیتیں نازل ہوئی ہیں کہ جو ان پر قائم رہا وہ جنت میں داخل ہو گیا“، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ﴾ [سورة المؤمنون: 1]۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثني علي بن عيسى الحِيْري، حدثنا الحسين بن محمد القَبّاني، حدثنا جَميل بن الحَسن الجَهضَمي، حدثنا أبو هَمَّام محمد بن الزِّبْرِقان الأَهوازي، حدثنا سُليمان التَّيمي، عن أبي عثمان، عن سَلْمان، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "إِنَّ الله لَيستحْيي مِن العبدِ أن يرفَعَ إليه يدَيه فيردَّهما خائبتَين" (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سلمان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بیشک اللہ اس بات سے حیا فرماتا ہے کہ بندہ اس کی طرف اپنے ہاتھ بلند کرے اور وہ انہیں خالی اور نامراد لوٹا دے۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، حدثنا أبي وشُعيب بن اللّيث، قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هِلال، عن يزيد بن عبد الله بن أسامة، عن عُمير مولى آبي اللَّحْم: أنه رأى رسولَ الله ﷺ عند أحجار الزَّيت يدعُو وهو مُقْنِعٌ بكفَّيه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
آبي اللحم کے آزاد کردہ غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو احجار الزیت کے مقام پر اس حال میں دعا مانگتے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرہ مبارک کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنَّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا إسماعيل ابن عُليَّة، عن عبد الرحمن بن إسحاق، عن عبد الرحمن بن معاوية، عن ابن ذُباب، عن سهل بن سعد، قال: ما رأيتُ النبيَّ ﷺ شاهِرًا يدَيه يدعُو على مِنبَره ولا غيرِه، كان يجعلُ إصبعَيه بحِذاء مَنكِبَيه ويَدعُو (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کبھی اپنے منبر پر یا کہیں اور اپنے ہاتھوں کو بہت زیادہ بلند کر کے دعا مانگتے نہیں دیکھا، آپ ﷺ اپنی دونوں انگلیوں کو اپنے کندھوں کے برابر رکھتے اور دعا فرماتے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا بكّار بن قُتيبة القاضي بمِصر، حدثنا صفوان بن عيسى القاضي، حدثنا محمد بن عَجْلان، عن القَعْقاع بن حَكيم، عن أبي صالح، عن أبي هريرة: أنَّ رجلًا كان يَدعُو بإصبعَيه، فقال رسول الله ﷺ: "أحِّدْ، أحِّدْ" (1). قد رُوِيَت هذه السُّنة عن سعد بن أبي وقّاص:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص اپنی دو انگلیوں کے ساتھ اشارہ کر کے دعا مانگ رہا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”ایک (انگلی سے اشارہ) کرو، ایک کرو۔“
حدَّثَناهُ إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن سعد بن أبي وقاص، قال: مَرَّ النبي ﷺ بي وأنا أدعو بأصابعي (1)، فقال: "أحِّدْ أحِّدْ" وأشارَ بالسَّبّابة (2).
هذا حديث صحيح بالإسنادين جميعًا، فأما حديث أبي معاوية، فهو صحيح على شرطهما إن كان أبو صالح السَّمّان سمع من سعد (3).
هذا حديث صحيح بالإسنادين جميعًا، فأما حديث أبي معاوية، فهو صحيح على شرطهما إن كان أبو صالح السَّمّان سمع من سعد (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی انگلیوں کے ساتھ دعا مانگ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک (انگلی سے اشارہ) کرو، ایک کرو“ اور آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث دونوں اسناد کے ساتھ صحیح ہے، اور ابومعاویہ کی روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر ابوصالح سمان کا سماع سیدنا سعد سے ثابت ہو۔
یہ حدیث دونوں اسناد کے ساتھ صحیح ہے، اور ابومعاویہ کی روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر ابوصالح سمان کا سماع سیدنا سعد سے ثابت ہو۔