فحدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق وأبو سعيد بن يعقوب الثَّقَفي، قالا: حدثنا عمر بن حفص السَّدُوسي، حدثنا عاصم بن علي، حدثنا الليث بن سعد، أنَّ سعيدَ المقبُريَّ حدَّثه، عن أخيه عَبَّاد بن أبي سعيد، أنه سمع أبا هُريرة يقول: كان رسول الله ﷺ يقول: "اللهمَّ أعوذُ بك من أربعٍ: من علمٍ لا يَنفعُ، وقلبٍ لا يَخشعُ، ونفسٍ لا تَشبعُ ومِن دعاءٍ لا يُسمعُ" (1). وأما حديث عبد الله بن عمرو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ فرمایا کرتے تھے: ”اے اللہ! میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں: ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسے دل سے جو (تیری خشیت سے) نہ جھکے، ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو اور ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے۔“
فحدَّثَناه بكر بن محمد الصَّيرفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا قَبيصة بن عُقبة، حدثنا سفيان، عن أبي سِنان، عن عبد الله بن أبي الهُذيل، عن عبد الله بن عمرو قال: كان رسول الله ﷺ يَتعوّذُ من علمٍ لا يَنفعُ، ودُعاءٍ لا يُسمعُ، وقلبٍ لا يَخشعُ، ونفسٍ لا تَشبعُ (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایسے علم سے جو نفع نہ دے، ایسی دعا سے جو سنی نہ جائے، ایسے دل سے جو (اللہ کے سامنے) نہ جھکے اور ایسے نفس سے جو سیر نہ ہو، اللہ کی پناہ مانگا کرتے تھے۔
أخبرنا أبو العباس محمد بن أحمد المَحْبوبي بمَرْو، حدثنا سعيد بن مسعود، حدثنا عُبيد الله بن موسى، أخبرنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، عن بُرَيد بن أبي مَريم، عن أنس بن مالك، قال: قال رسول الله ﷺ: "مَن سأل الله الجنةَ ثلاثًا، قالتِ الجنةُ: اللهمّ أدخِلْه الجنةَ، ومَن تَعوَّذ بالله من النار ثلاثًا، قالتِ النارُ: اللهمّ أعِذْهُ من النار" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے تین مرتبہ اللہ سے جنت کا سوال کیا تو جنت کہتی ہے: اے اللہ! اسے جنت میں داخل فرما، اور جس نے تین مرتبہ آگ سے اللہ کی پناہ مانگی تو آگ کہتی ہے: اے اللہ! اسے دوزخ سے پناہ عطا فرما۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔