المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الدُّعَاءِ باب: دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1987
حدَّثَناهُ إبراهيم بن عِصمة بن إبراهيم، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن أبي صالح، عن سعد بن أبي وقاص، قال: مَرَّ النبي ﷺ بي وأنا أدعو بأصابعي (1)، فقال: "أحِّدْ أحِّدْ" وأشارَ بالسَّبّابة (2).
هذا حديث صحيح بالإسنادين جميعًا، فأما حديث أبي معاوية، فهو صحيح على شرطهما إن كان أبو صالح السَّمّان سمع من سعد (3).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں اپنی انگلیوں کے ساتھ دعا مانگ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”ایک (انگلی سے اشارہ) کرو، ایک کرو“ اور آپ ﷺ نے شہادت کی انگلی سے اشارہ فرمایا۔
یہ حدیث دونوں اسناد کے ساتھ صحیح ہے، اور ابومعاویہ کی روایت شیخین کی شرط پر صحیح ہے اگر ابوصالح سمان کا سماع سیدنا سعد سے ثابت ہو۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) كذلك جاء في أصول "المستدرك": بأصابعي، بصيغة الجمع، مع أنَّ سائر من خرَّج هذا الحديث ذكر هذا الحرف بصيغة المثنَّى، والتعبير عن المثنى بصيغة الجمع جائز في لغة العرب، كما في قوله تعالى: ﴿فَقَدْ صَغَتْ قُلُوبُكُمَا﴾.
توضیح: مستدرک کے اصول میں "بأصابعي" (جمع) آیا ہے جبکہ دیگر تمام محدثین نے "تثنیہ" (دو انگلیوں) کا ذکر کیا ہے، عربی لغت میں تثنیہ کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرنا جائز ہے جیسے قرآن میں "قُلُوبُكُمَا" آیا ہے۔
(2) إسناده صحيح، وقد اختُلف فيه على الأعمش اختلافًا لا يضرُّ مثله كما تقدم. الأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، ويحيى بن يحيى: هو النيسابُوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، اعمش پر ہونے والا اختلاف نقصان دہ نہیں ہے۔
فنی نکتہ: اعمش سلیمان بن مہران ہیں اور ابو معاویہ محمد بن خازم ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1499)، والنسائي (1197) من طريقين عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداود (1499) اور نسائی (1197) نے دو مختلف طریق سے روایت کیا ہے۔
(3) ذكر المزي في ترجمة أبي صالح من "تهذيب الكمال" 8/ 513 أنه سأل سعدًا عن مسألة في الزكاة، وأنه شهد يوم الدار زمن عثمان، وصرَّح الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 5/ 36 أنه سمع منه، وذكر أنَّ أبا صالح ولد في خلافة عمر.
اہم نکتہ: امام مزی اور ذہبی نے تصریح کی ہے کہ ابو صالح السمان نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیکھا ہے اور ان سے سماع بھی کیا ہے، ان کی پیدائش دورِ فاروقی میں ہوئی تھی۔
توضیح: مستدرک کے اصول میں "بأصابعي" (جمع) آیا ہے جبکہ دیگر تمام محدثین نے "تثنیہ" (دو انگلیوں) کا ذکر کیا ہے، عربی لغت میں تثنیہ کے لیے جمع کا صیغہ استعمال کرنا جائز ہے جیسے قرآن میں "قُلُوبُكُمَا" آیا ہے۔
(2) إسناده صحيح، وقد اختُلف فيه على الأعمش اختلافًا لا يضرُّ مثله كما تقدم. الأعمش: هو سليمان بن مِهران، وأبو معاوية: هو محمد بن خازم الضرير، ويحيى بن يحيى: هو النيسابُوري.
درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے، اعمش پر ہونے والا اختلاف نقصان دہ نہیں ہے۔
فنی نکتہ: اعمش سلیمان بن مہران ہیں اور ابو معاویہ محمد بن خازم ہیں۔
وأخرجه أبو داود (1499)، والنسائي (1197) من طريقين عن أبي معاوية، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے ابوداود (1499) اور نسائی (1197) نے دو مختلف طریق سے روایت کیا ہے۔
(3) ذكر المزي في ترجمة أبي صالح من "تهذيب الكمال" 8/ 513 أنه سأل سعدًا عن مسألة في الزكاة، وأنه شهد يوم الدار زمن عثمان، وصرَّح الذهبي في "سير أعلام النبلاء" 5/ 36 أنه سمع منه، وذكر أنَّ أبا صالح ولد في خلافة عمر.
اہم نکتہ: امام مزی اور ذہبی نے تصریح کی ہے کہ ابو صالح السمان نے حضرت سعد بن ابی وقاص کو دیکھا ہے اور ان سے سماع بھی کیا ہے، ان کی پیدائش دورِ فاروقی میں ہوئی تھی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1987 سے ماخوذ ہے۔