المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
رَفْعُ الْيَدَيْنِ عِنْدَ الدُّعَاءِ باب: دعا کے وقت ہاتھ اٹھانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1984
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا محمد بن عبد الله بن عبد الحكم، حدثنا أبي وشُعيب بن اللّيث، قالا: حدثنا الليث بن سعد، عن خالد بن يزيد، عن سعيد بن أبي هِلال، عن يزيد بن عبد الله بن أسامة، عن عُمير مولى آبي اللَّحْم: أنه رأى رسولَ الله ﷺ عند أحجار الزَّيت يدعُو وهو مُقْنِعٌ بكفَّيه (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
آبي اللحم کے آزاد کردہ غلام سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو احجار الزیت کے مقام پر اس حال میں دعا مانگتے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنی ہتھیلیوں کو اپنے چہرہ مبارک کی طرف اٹھایا ہوا تھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) حديث صحيح، وقد تقدَّم برقم (1238) من طريق يحيى بن عبد الله بن بُكير عن الليث بن سعد، فجعله من حديث عُمير عن مولاه آبي اللحم. وآبي اللحم لم يُذكَر في نسخنا الخطية في هذا الموضع، بينما ذكره الذهبي في "تلخيصه" وابن حجر في "إتحاف المهرة" (1)!
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، یہ نمبر (1238) پر گزر چکی ہے جہاں اسے لیث بن سعد نے عمیر کے واسطے سے ان کے مولیٰ "آبی اللحم" کی حدیث قرار دیا تھا۔
توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں "آبی اللحم" کا ذکر نہیں جبکہ ذہبی اور ابن حجر نے اسے ذکر کیا ہے۔
درجۂ حدیث: یہ حدیث "صحیح" ہے، یہ نمبر (1238) پر گزر چکی ہے جہاں اسے لیث بن سعد نے عمیر کے واسطے سے ان کے مولیٰ "آبی اللحم" کی حدیث قرار دیا تھا۔
توضیح: ہمارے قلمی نسخوں میں یہاں "آبی اللحم" کا ذکر نہیں جبکہ ذہبی اور ابن حجر نے اسے ذکر کیا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1984 سے ماخوذ ہے۔