حدثنا بكر بن محمد بن حمدان الصَّيرفي، حدثنا عبد الصمد بن الفضل البَلْخي، حدثنا مَكِّيّ بن إبراهيم، حدثنا عبد الله بن سعيد بن أبي هند، عن جده أبي هند، عن صَيفيّ مولى أبي أيوب، عن أبي اليَسَر السَّلَمي - واسمه كعب بن عَمرو -: أنَّ النبي ﷺ كان يدعُو فيقول: "اللهمَّ إني أعوذُ بك من الهَدْم والتردِّي، والهَرَم والغَمّ، والغَرَق والحَرَق، وأعوذُ بك أن يَتخبَّطَني الشيطانُ عند الموت، وأعوذُ بك أن أموتَ في سبيلِك مُدبِرًا، وأعوذ بك أن أموت لديغًا" (1)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوالیسر سلمی رضی اللہ عنہ (جن کا نام کعب بن عمرو ہے) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ دعا فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَدْمِ وَالتَّرَدِّي، وَالْهَرَمِ وَالْغَمِّ، وَالْغَرَقِ وَالْحَرَقِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ يَتَخَبَّطَنِي الشَّيْطَانُ عِنْدَ الْمَوْتِ، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ فِي سَبِيلِكَ مُدْبِرًا، وَأَعُوذُ بِكَ أَنْ أَمُوتَ لَدِيغًا» ”اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں کسی چیز کے نیچے دب کر مرنے سے، بلندی سے گرنے سے، انتہائی بڑھاپے سے اور غم سے، ڈوب کر مرنے اور جل کر مرنے سے، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ شیطان موت کے وقت مجھے بہکا دے، اور اس سے کہ میں تیری راہ میں پیٹھ پھیر کر (بزدلی دکھاتے ہوئے) مروں، اور میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ میں کسی زہریلے جانور کے ڈسنے سے مروں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا مِسعَر، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه، قال: كان النبيُّ ﷺ يقولُ: "اللهمَّ جَنِّبني مُنكراتِ الأخلاقِ والأهواءِ والأعمالِ والأدواءِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَهْوَاءِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَدْوَاءِ» ”اے اللہ! مجھے برے اخلاق، بری خواہشات، برے اعمال اور بری بیماریوں سے بچا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔