المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
التَّعَوُّذُ مِنَ الْهَدْمِ وَالتَّرَدِّي باب: گرنے اور تباہی سے پناہ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1970
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الحميد الحارثي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا مِسعَر، عن زياد بن عِلَاقة، عن عمِّه، قال: كان النبيُّ ﷺ يقولُ: "اللهمَّ جَنِّبني مُنكراتِ الأخلاقِ والأهواءِ والأعمالِ والأدواءِ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا زیاد بن علاقہ اپنے چچا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرمایا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ جَنِّبْنِي مُنْكَرَاتِ الْأَخْلَاقِ وَالْأَهْوَاءِ وَالْأَعْمَالِ وَالْأَدْوَاءِ» ”اے اللہ! مجھے برے اخلاق، بری خواہشات، برے اعمال اور بری بیماریوں سے بچا لے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو أُسامة: هو حماد بن أسامة، ومِسعَر: هو ابن كِدام، وعم زياد بن علاقة: هو قُطْبة بن مالك.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اس کے تمام راوی (ابواسامہ، مسعر، زیاد بن علاقہ) ثقہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3591)، وابن حبان (960) من طريقين عن أبي أسامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی اور ابن حبان نے اسے ابواسامہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن غريب، وقرن بأبي أسامة أحمدَ بنَ بشير، ولم يذكر الأدواء، وأما ابن حبان فذكر الأسواء بدل الأعمال.
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ ابن حبان کی روایت میں "اعمال" کی جگہ "اسواء" (برائیاں) کے الفاظ ہیں۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند "صحیح" ہے۔ اس کے تمام راوی (ابواسامہ، مسعر، زیاد بن علاقہ) ثقہ ہیں۔
وأخرجه الترمذي (3591)، وابن حبان (960) من طريقين عن أبي أسامة، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام ترمذی اور ابن حبان نے اسے ابواسامہ کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وقال الترمذي: حسن غريب، وقرن بأبي أسامة أحمدَ بنَ بشير، ولم يذكر الأدواء، وأما ابن حبان فذكر الأسواء بدل الأعمال.
حکم / درجۂ حدیث: امام ترمذی نے اسے "حسن غریب" کہا ہے۔ ابن حبان کی روایت میں "اعمال" کی جگہ "اسواء" (برائیاں) کے الفاظ ہیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1970 سے ماخوذ ہے۔