المستدرك على الصحيحين
كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر— دعا ، تکبیر وتہلیل اور تسبیح وذکر کا بیان
التَّعَوُّذُ مِنَ الْكُفْرِ وَالدَّيْنِ باب: کفر اور قرض سے پناہ کی دعا۔
حدیث نمبر: 1971
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا خُشْنام بن الصِّدِّيق، حدثنا عبد الله بن يزيد المقرئ، حدثنا حَيْوة بن شُريح، عن دَرّاج أبي السَّمْح، عن أبي الهيثم، عن أبي سعيد الخُدري، عن النبي ﷺ أنه قال: "أعُوذُ بالله من الكُفر والدَّيْن"، فقال رجلٌ: يا رسول الله، ويُعدَلُ الكفرُ بالدَّين؟ قال: "نعم" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”میں کفر اور قرض سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں“، ایک شخص نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا کفر اور قرض برابر ہیں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”ہاں۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده ضعيف لضعف رواية درّاج أبي السَّمْح عن أبي الهيثم - وهو سليمان بن عمرو العُتْواري - وقد رواه مرةً بلفظ: "أعوذ بك من الكفر والفقر"، وقد اختُلف في إسناد هذا الحديث عن عبد الله بن يزيد المقرئ، فأكثر من روى هذا الحديث من الحفاظ ذكروا بين حيوة بن شُريح ودرّاج رجلًا هو سالم بن غيلان، وهو رجل مصري لا بأس به، فالراجح ذكره، وقد رواه غيرُ حيوة بن شريح عن سالم بن غيلان. خُشْنام بن الصِّدّيق: هو محمد بن الصِّدِّيق بن علي بن إبراهيم النُّميري النيسابوري أبو بكر.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ دراج ابوالسمح کی ابوالہیثم سے روایت کمزور ہوتی ہے۔ راجح یہ ہے کہ اس کی سند میں "سالم بن غیلان" کا واسطہ موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (7856) عن محمد بن بشار، عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے محمد بن بشار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11333)، وأخرجه النسائي (7855) عن محمد بن عبد الله بن يزيد، وابن حبان (1025) من طريق أبي خيثمة زهير بن حرب، ثلاثتهم (أحمد بن حنبل ومحمد بن عبد الله بن يزيد وأبو خيثمة) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن حيوة بن شريح عن سالم بن غيلان، عن دراج أبي السَّمْح، به. فزادوا في إسناد الحديث سالم بن غيلان.
وأخرجه أحمد (11333) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن عبد الله بن لهيعة، والنسائي (7867)، وابن حبان (1026) من طريق عبد الله بن وهب، كلاهما عن سالم بن غيلان، عن درّاج، به. لكن ابن وهب رواه بلفظ: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر" بدل: "من الكفر والدَّين".
حوالہ / مصدر: امام احمد، نسائی اور ابن حبان نے اسے مختلف اساتذہ سے روایت کیا ہے جن میں سند میں سالم بن غیلان کا اضافہ موجود ہے۔ ابن وہب کی روایت میں "دین" (قرض) کی جگہ "فقر" کے الفاظ ہیں۔
ويشهد له بلفظ ابن وهب حديثُ أبي بكرة نُفيع بن الحارث المتقدم برقم (99) و (940).
متابعات و شواہد: کفر اور فقر سے پناہ کے الفاظ کا شاہد حضرت ابوبکرہؓ کی سابقہ احادیث (رقم 99 اور 940) میں موجود ہے۔
وحديث أنس الذي تقدَّم برقم (1965).
متابعات و شواہد: حضرت انسؓ کی سابقہ حدیث (رقم 1965) بھی اس کی شاہد ہے۔
وقد صحَّ عنه ﷺ الاستعاذة من غَلَبة الدَّين والمَغْرم كما تقدَّم بيانه برقم (1966). وأما الدَّيْن مجرّدًا فلا يصحُّ استعاذة النبي ﷺ منه، إنما المستعاذ منه هو غَلَبة الدَّين حتى يصبح الإنسان غارمًا.
فنی نکتہ: نبی ﷺ سے "غلبہ دین" (قرض کے بوجھ) سے پناہ ثابت ہے، صرف قرض سے پناہ مانگنا ثابت نہیں کیونکہ قرض بذاتِ خود گناہ نہیں، اس کا بوجھ اور ادا نہ کر پانا اصل فتنہ ہے۔
وصحَّ عنه ﷺ الاستعاذة من الفقر في حديث عائشة الآتي برقم (2007) بلفظ: "شرّ فتنة الفقر"، وهو تفسير لمُجمل ما جاء في الروايات الأخرى.
متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ کی حدیث (رقم 2007) میں "فقر کے فتنے کے شر" سے پناہ کا ذکر ہے، جو دیگر روایات کی تشریح کرتا ہے۔
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند ضعیف ہے کیونکہ دراج ابوالسمح کی ابوالہیثم سے روایت کمزور ہوتی ہے۔ راجح یہ ہے کہ اس کی سند میں "سالم بن غیلان" کا واسطہ موجود ہے۔
وأخرجه النسائي (7856) عن محمد بن بشار، عن عبد الله بن يزيد المقرئ، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: امام نسائی نے اسے محمد بن بشار کے طریق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه أحمد 17/ (11333)، وأخرجه النسائي (7855) عن محمد بن عبد الله بن يزيد، وابن حبان (1025) من طريق أبي خيثمة زهير بن حرب، ثلاثتهم (أحمد بن حنبل ومحمد بن عبد الله بن يزيد وأبو خيثمة) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن حيوة بن شريح عن سالم بن غيلان، عن دراج أبي السَّمْح، به. فزادوا في إسناد الحديث سالم بن غيلان.
وأخرجه أحمد (11333) عن عبد الله بن يزيد المقرئ، عن عبد الله بن لهيعة، والنسائي (7867)، وابن حبان (1026) من طريق عبد الله بن وهب، كلاهما عن سالم بن غيلان، عن درّاج، به. لكن ابن وهب رواه بلفظ: "اللهم إني أعوذ بك من الكفر والفقر" بدل: "من الكفر والدَّين".
حوالہ / مصدر: امام احمد، نسائی اور ابن حبان نے اسے مختلف اساتذہ سے روایت کیا ہے جن میں سند میں سالم بن غیلان کا اضافہ موجود ہے۔ ابن وہب کی روایت میں "دین" (قرض) کی جگہ "فقر" کے الفاظ ہیں۔
ويشهد له بلفظ ابن وهب حديثُ أبي بكرة نُفيع بن الحارث المتقدم برقم (99) و (940).
متابعات و شواہد: کفر اور فقر سے پناہ کے الفاظ کا شاہد حضرت ابوبکرہؓ کی سابقہ احادیث (رقم 99 اور 940) میں موجود ہے۔
وحديث أنس الذي تقدَّم برقم (1965).
متابعات و شواہد: حضرت انسؓ کی سابقہ حدیث (رقم 1965) بھی اس کی شاہد ہے۔
وقد صحَّ عنه ﷺ الاستعاذة من غَلَبة الدَّين والمَغْرم كما تقدَّم بيانه برقم (1966). وأما الدَّيْن مجرّدًا فلا يصحُّ استعاذة النبي ﷺ منه، إنما المستعاذ منه هو غَلَبة الدَّين حتى يصبح الإنسان غارمًا.
فنی نکتہ: نبی ﷺ سے "غلبہ دین" (قرض کے بوجھ) سے پناہ ثابت ہے، صرف قرض سے پناہ مانگنا ثابت نہیں کیونکہ قرض بذاتِ خود گناہ نہیں، اس کا بوجھ اور ادا نہ کر پانا اصل فتنہ ہے۔
وصحَّ عنه ﷺ الاستعاذة من الفقر في حديث عائشة الآتي برقم (2007) بلفظ: "شرّ فتنة الفقر"، وهو تفسير لمُجمل ما جاء في الروايات الأخرى.
متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ کی حدیث (رقم 2007) میں "فقر کے فتنے کے شر" سے پناہ کا ذکر ہے، جو دیگر روایات کی تشریح کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1971 سے ماخوذ ہے۔