حدثنا علي بن حَمْشاذَ العدل، حدثنا إسماعيل بن إسحاق، حدثنا أبو الوليد، حدثنا شُعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن أبي إسحاق، عن أبي عُبيدة، عن عبد الله، قال: مَرَّ بي رسولُ الله ﷺ وأنا أُصلّي، فقال: "سَلْ تُعطَهْ يا ابنَ أَمِّ عَبْدٍ"، فقال عمر: فابتدرْتُه أنا وأبو بكر، فسبقَني إليه أبو بكر. فقال (1): إنَّ من دعائي الذي لا أكادُ أدَعُه (2): اللهمَّ إني أسألُك نَعيمًا لا يَبِيدُ، وقُرَّةَ عَينٍ لا تَنفَدُ، ومُرافقةَ النبيِّ ﷺ في أعلى جنةِ الخُلدِ (3).
هذا حديث صحيح الإسناد إذا سَلِمَ من الإرسال، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد إذا سَلِمَ من الإرسال، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ میرے پاس سے گزرے جبکہ میں نماز پڑھ رہا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”مانگو، تمہیں دیا جائے گا اے ابن ام عبد“، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان کی طرف لپکے لیکن ابوبکر مجھ سے سبقت لے گئے۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: میری اس دعا میں سے جسے میں کبھی نہیں چھوڑتا یہ ہے: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ، وَقُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَةَ النَّبِيِّ ﷺ فِي أَعْلَى جَنَّةِ الْخُلْدِ» ”اے اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمت کا سوال کرتا ہوں جو کبھی ختم نہ ہو، اور ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک جو کبھی منقطع نہ ہو، اور جنت الخلد کے بلند ترین درجات میں نبی ﷺ کی رفاقت کا طالب ہوں۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ مرسل نہ ہو، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے بشرطیکہ یہ مرسل نہ ہو، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّةَ الأصبهاني، حدثنا عبد الله ابن محمد بن زكريا، حدثنا مُحرِزُ بن سَلَمة العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم [عن سُهيل بن أبي صالح] (1) عن موسى بن عُقبة، عن عاصم بن أبي عُبيد، عن أم سلمة، عن النبي ﷺ: أنه كان يدعو بهؤلاءِ الكلمات: "اللهم أنتَ الأولُ لا شيءَ قَبلَك، وأنت الآخِرُ فلا شيءَ بعدَك، أعوذُ بك من شرِّ دابةٍ ناصيتُها بيدِك، وأعوذُ بك من الإثم والكَسَل، ومن عذابِ القبر، ومن فِتنةِ الغِنى، ومن فِتنة الفَقْر، وأعوذُ بك من المَأثَم والمَغرَم، اللهمَّ نَقِّ قلبي من الخطايا كما نَقَّيت الثوبَ الأبيضَ من الدَّنَس، اللهمَّ بَعِّد بيني وبين خَطِيئتي كما بَعَّدتَ بين المشرقِ والمغربِ" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ کلمات بطور دعا کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ لَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ» ”اے اللہ! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں، میں ہر اس جاندار کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اور میں گناہ، سستی، قبر کے عذاب، مالداری کے فتنے اور فقر کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں گناہ کے کاموں اور تاوان (قرض) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے ایسے پاک کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک کیا، اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری پیدا کر دے جیسی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔