حدیث نمبر: 1943
أخبرني أبو عبد الله محمد بن أحمد بن بُطّةَ الأصبهاني، حدثنا عبد الله ابن محمد بن زكريا، حدثنا مُحرِزُ بن سَلَمة العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن أبي حازم [عن سُهيل بن أبي صالح] (1) عن موسى بن عُقبة، عن عاصم بن أبي عُبيد، عن أم سلمة، عن النبي ﷺ: أنه كان يدعو بهؤلاءِ الكلمات: "اللهم أنتَ الأولُ لا شيءَ قَبلَك، وأنت الآخِرُ فلا شيءَ بعدَك، أعوذُ بك من شرِّ دابةٍ ناصيتُها بيدِك، وأعوذُ بك من الإثم والكَسَل، ومن عذابِ القبر، ومن فِتنةِ الغِنى، ومن فِتنة الفَقْر، وأعوذُ بك من المَأثَم والمَغرَم، اللهمَّ نَقِّ قلبي من الخطايا كما نَقَّيت الثوبَ الأبيضَ من الدَّنَس، اللهمَّ بَعِّد بيني وبين خَطِيئتي كما بَعَّدتَ بين المشرقِ والمغربِ" (2)
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ یہ کلمات بطور دعا کہا کرتے تھے: «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْأَوَّلُ لَا شَيْءَ قَبْلَكَ، وَأَنْتَ الْآخِرُ فَلَا شَيْءَ بَعْدَكَ، أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ دَابَّةٍ نَاصِيَتُهَا بِيَدِكَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْإِثْمِ وَالْكَسَلِ، وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْغِنَى، وَمِنْ فِتْنَةِ الْفَقْرِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْمَأْثَمِ وَالْمَغْرَمِ، اللَّهُمَّ نَقِّ قَلْبِي مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ، اللَّهُمَّ بَعِّدْ بَيْنِي وَبَيْنَ خَطِيئَتِي كَمَا بَعَّدْتَ بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ» ”اے اللہ! تو ہی اول ہے تجھ سے پہلے کچھ نہیں، تو ہی آخر ہے تیرے بعد کچھ نہیں، میں ہر اس جاندار کے شر سے تیری پناہ مانگتا ہوں جس کی پیشانی تیرے قبضے میں ہے، اور میں گناہ، سستی، قبر کے عذاب، مالداری کے فتنے اور فقر کے فتنے سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اور میں گناہ کے کاموں اور تاوان (قرض) سے تیری پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ! میرے دل کو خطاؤں سے ایسے پاک کر دے جیسے تو نے سفید کپڑے کو میل کچیل سے پاک کیا، اے اللہ! میرے اور میری خطاؤں کے درمیان ایسی دوری پیدا کر دے جیسی تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان رکھی ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1943
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عاصم بن أبي عُبيد كما تقدم بيانه برقم (1932)، وقد روى هذا الحديثَ أيضًا جُنادةُ بنُ سَلْم السُّوائي عن عُبيد الله بن عمر العُمري عن عاصم مولى بن جُمح عن أم سلمة، أو عن زينب عن أمها أم سلمة. وجُنادة هذا مختلف ...» [ترقيم الرساله 1943] [ترقيم الشركة 1928]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) سقط سهيل بن أبي صالح من أصولنا الخطّية هنا، واستدركناه من إسناد الحديث الذي تقدَّم برقم (1932)، حيث روي هذا الحديث وذاك بالإسناد نفسه تمامًا من لدن المصنّف إلى آخره، وسيأتي هذا الحديث عند المصنف أيضًا برقم (2242) من طريق إبراهيم بن حمزة الزبيري عن ابن أبي حازم عن سهيل، وقد ثبت ذكر سهيل لجميع من خرَّج هذا الحديث من طريق عبد العزيز بن أبي حازم.
توضیح: قلمی نسخوں سے "سہیل بن ابی صالح" کا نام گر گیا تھا، جسے ہم نے پچھلی روایت اور دیگر مصادر کی روشنی میں استدراک کر لیا ہے۔
(2) صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين من أجل عاصم بن أبي عُبيد كما تقدم بيانه برقم (1932)، وقد روى هذا الحديثَ أيضًا جُنادةُ بنُ سَلْم السُّوائي عن عُبيد الله بن عمر العُمري عن عاصم مولى بن جُمح عن أم سلمة، أو عن زينب عن أمها أم سلمة. وجُنادة هذا مختلف فيه، ضعَّفه أبو زُرعة وأبو حاتم، ووثقه ابن خزيمة وخرَّج له في "الصحيح"، وذكره ابن حبان في "الثقات" وخرَّج له في "صحيحه" أيضًا، وقال عنه البخاري: مقارب الحديث، وحسَّن له الترمذي حديثَه، وقال أبو حاتم: عَمَدَ إلى أحاديث موسى بن عقبة فحدَّث بها عن عُبيد الله بن عمر. قلنا: يعني نظائر حديثنا هذا الذي هنا، فإنه مشهور من رواية موسى بن عُقبة، فإن كان جُنادة بن سَلْم حفظ إسناده، صار عن عاصم في هذا الحديث راويان، ويكون عند جنادة زيادةُ فائدة أنَّ عاصمًا مولًى لبني جُمح، والله تعالى أعلم، على أنه قد صحَّ مثلُ هذه الأدعية مفرّقةً عن عدد من الصحابة كما سيأتي بسطُه.
حکم / درجۂ حدیث: شواہد کی بنا پر صحیح ہے۔ جنادہ بن سلم کی روایت پر اختلاف ہے مگر ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور بخاری نے اسے "مقارب الحدیث" کہا ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه الكبير" معلقًا 6/ 479، والطبراني في "الدعاء" (1356)، وفي "الكبير" 23/ (717)، وفي "الأوسط" (6218)، وابن عساكر في "تاريخ دمشق" 5/ 456 من طرق عن عبد العزيز بن أبي حازم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام بخاری نے "تاریخ کبیر" میں اور طبرانی و ابن عساکر نے موصولاً روایت کیا ہے۔
وأخرجه البخاري في "تاريخه" أيضًا معلقًا 6/ 479 من طريق فُضيل بن سليمان، عن موسى

ابن عقبة، عن عاصم شيخ كان يدخل على زينب بنت أبي سلمة وعلى أم سلمة، عن زينب أو عن أم سلمة.

حوالہ / مصدر: امام بخاری نے اسے فضیل بن سلیمان عن موسیٰ بن عقبہ کی سند سے بھی روایت کیا ہے۔
ورواه يوسفُ بن خالد السَّمْتي عن موسى بن عقبة فيما قاله الدارقطني في "العلل" (3963)، غير أنه قال: عن موسى، عن عاصم، عن شيخ كان يدخل على زينب، عن زينب بنت أم سلمة، عن أمها. والسمتي هذا متروك.
علّت / فنی نکتہ: یوسف بن خالد السمیتی کی ایک روایت میں سند میں تبدیلی ہے، مگر وہ راوی "متروک" (چھوڑا ہوا) ہے۔
وسيأتي عند المصنف برقم (2242) من طريق إبراهيم بن حمزة الزبيري عن عبد العزيز بن أبي حازم.
حوالہ / مصدر: یہ روایت دوبارہ مصنف (حاکم) کے ہاں رقم (2242) پر آئے گی۔
ويشهد لأول هذا الدعاء إلى قوله: "بيدك" حديثُ أبي هريرة الآتي برقم (2025) و (4796)، وهو حديث صحيح.
متابعات و شواہد: دعا کا ابتدائی حصہ حضرت ابوہریرہؓ کی صحیح حدیث (رقم 2025) سے ثابت ہے۔
كما يشهد له حديث عائشة عند النسائي (10557)، ورجاله ثقات لكنه مرسل.
متابعات و شواہد: حضرت عائشہؓ کی ایک "مرسل" روایت بھی نسائی میں موجود ہے جس کے راوی ثقہ ہیں۔
ويشهد لسائره حديث عائشة الآتي برقم (2007) بإسناد صحيح.
متابعات و شواہد: دعا کا بقیہ حصہ حضرت عائشہؓ کی صحیح سند والی حدیث (رقم 2007) میں موجود ہے۔
وللاستعاذة بالله من الكسل والمأثم والمغرم شاهدٌ من حديث عبد الله بن عمرو بن العاص عند أحمد 11/ (6734) و (6749)، والنسائي (7879) وغيرهما بإسناد حسن.
متابعات و شواہد: سستی اور قرض سے پناہ مانگنے کا شاہد حضرت ابن عمروؓ کی "حسن" روایت میں موجود ہے۔
وللاستعاذة من عذاب القبر شواهد عديدة، منها حديث أبي بكرة المتقدم برقم (99) و (940)، وحديثُ البراء بن عازب المتقدم برقم (107)، وحديثُ أبي هريرة المتقدم برقم (1024)، وحديث عائشة الآتي برقم (2007).
متابعات و شواہد: عذابِ قبر سے پناہ مانگنے کے بہت سے شواہد ہیں، جیسے ابوبکرہؓ، براء بن عازبؓ، ابوہریرہؓ اور حضرت عائشہؓ کی روایات۔
وكذلك حديثُ سعد بن أبي وقاص عند أحمد 3/ (1585)، والبخاري (2822).
متابعات و شواہد: حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے بھی بخاری و احمد میں یہ پناہ مانگنا مروی ہے۔
وحديثُ ابن عباس عند أحمد 4/ (2168)، ومسلم (590).
متابعات و شواہد: حضرت ابن عباسؓ سے امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔
وحديث أنس بن مالك عند أحمد 19/ (12113)، والبخاري (2823) و (4707)، ومسلم (2706).
متابعات و شواہد: حضرت انسؓ سے امام بخاری و مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔
وحديثُ زيد بن أرقم عند أحمد 32/ (19308)، ومسلم (2722).
متابعات و شواہد: حضرت زید بن ارقمؓ سے بھی یہ امام مسلم کے ہاں موجود ہے۔
وحديث عوف بن مالك عند أحمد 39/ (23975)، ومسلم (963).
متابعات و شواہد: حضرت عوف بن مالکؓ سے بھی امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔
وللاستعاذة من الكسل شواهد من أحاديث عبد الله بن عمرو بن العاص وأنس بن مالك وزيد بن أرقم وعائشة التي تقدم تخريجها.
متابعات و شواہد: سستی (کسل) سے پناہ کے شواہد ابن عمرو، انس، زید بن ارقم اور عائشہؓ کی روایات میں گزر چکے ہیں۔
ومن حديث عبد الله بن مسعود عند مسلم (2723).
متابعات و شواہد: حضرت ابن مسعودؓ سے بھی امام مسلم نے سستی سے پناہ مانگنا روایت کیا ہے۔
وللاستعاذة من الفقر شواهدُ من أحاديث أبي بكرة وأنس وأبي هريرة وعائشة عند المصنف بالأرقام (99) و (1965) و (2006) و (2007).
متابعات و شواہد: فقر سے پناہ مانگنے کے شواہد ابوبکرہ، انس، ابوہریرہ اور عائشہؓ کی روایات میں موجود ہیں۔
ولسؤال الله تعالى التنقية من الخطايا وإبعادها كما بين المشرق والمغرب شاهد من حديث

عائشة الآتي برقم (2007).

متابعات و شواہد: گناہوں سے پاکی اور انہیں مشرق و مغرب جتنا دور کرنے کا شاہد حضرت عائشہؓ کی روایت ہے۔
ومن حديث أبي هريرة عند أحمد 12/ (7164)، والبخاري (744)، ومسلم (598).
متابعات و شواہد: حضرت ابوہریرہؓ سے بخاری و مسلم میں بھی گناہوں سے دوری کی یہ دعا مروی ہے۔
ومن حديث عبد الله بن أبي أوفى عند أحمد 31/ (19118)، ومسلم (476).
متابعات و شواہد: حضرت عبداللہ بن ابی اوفیٰؓ سے بھی امام مسلم نے اسے روایت کیا ہے۔
والمأثم: الأمر الذي يأثم به الإنسان.
توضیح: "المأثم" سے مراد وہ کام ہے جس کی وجہ سے انسان گناہ گار ہو جائے۔
والمَغرَم: الدَّين، ويريد به فيما يكرهه اللهُ، أو فيما يجوز ثم عجز عن أدائه، فأما دَينٌ احتاج إليه وهو قادر على أدائه فلا يُستعاذُ منه.
توضیح: "المغرم" سے مراد وہ قرض ہے جو اللہ کو ناپسند ہو یا وہ بوجھ جسے ادا کرنے سے انسان عاجز آ جائے۔ جائز ضرورت کے قرض سے پناہ نہیں مانگی گئی۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1943 سے ماخوذ ہے۔