حدیث نمبر: 1944
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا علي بن الحسن الهِلاليّ، حدثنا أبو النُّعمان محمد بن الفضل، حدثنا حماد بن زيد، عن عطاء بن السائب، عن أبيه، عن عمار بن ياسر: أنه صلَّى بأصحابِه يومًا أوجَزَ فيها، فقيل له: يا أبا اليَقْظانِ خَفّفتَ! قال: ما علَيَّ في ذلك، لقد دعوتُ فيها بدعواتٍ سمِعتُهن من رسولِ الله ﷺ، قال: فقام رجلٌ فتبعَه - وهو أبو عطاءٍ - فسألَه عن الدعاءِ، فرجعَ فجاء فأخبرَ: "اللهمَّ بعِلمِك الغيبَ، وقُدرتِكَ على الخَلْقِ، أحيِني ما علِمتَ الحياةَ خيرًا لي، وتوفَّني إذا كانتِ الوفاةُ خيرًا لي، اللهم وأسألُك خَشْيَتك في الغيبِ والشهادةِ، وأسألُك كلمةَ الحُكم في الغَضَب والرِّضا، وأسألُك القصدَ في الغِنى والفقر، وأسألُك نعيمًا لا يَبِيد، وأسألك قُرّة عَينٍ لا تَنفَد ولا تَنقطِع، وأسألُك الرِّضا بعد القضاء، وأسألُك بَرْدَ العَيشِ بعد الموتِ، وأسألُك لَذَّةَ النظَرِ إلى وجهك، وأسألُك الشوقَ إلى لِقائِك في غير ضَرّاءَ مُضِرّة، ولا فتنةٍ مُضِلَّة، اللهم زيِّنّا بزينةِ الإيمان، واجعلْنا هُداةً مُهتَدين" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دن انہوں نے اپنے ساتھیوں کو مختصر نماز پڑھائی، ان سے کہا گیا: اے ابویقظان! آپ نے بہت ہلکی نماز پڑھائی! انہوں نے کہا: اس میں میرا کوئی حرج نہیں، میں نے اس میں وہ دعائیں مانگی ہیں جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھیں، ایک شخص (ابو عطاء) ان کے پیچھے گیا اور اس دعا کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے بتایا: «اللَّهُمَّ بِعِلْمِكَ الْغَيْبَ، وَقُدْرَتِكَ عَلَى الْخَلْقِ، أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي، وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِي، اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُكَ خَشْيَتَكَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ، وَأَسْأَلُكَ كَلِمَةَ الْحُكْمِ فِي الْغَضَبِ وَالرِّضَا، وَأَسْأَلُكَ الْقَصْدَ فِي الْغِنَى وَالْفَقْرِ، وَأَسْأَلُكَ نَعِيمًا لَا يَبِيدُ، وَأَسْأَلُكَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْفَدُ وَلَا تَنْقَطِعُ، وَأَسْأَلُكَ الرِّضَا بَعْدَ الْقَضَاءِ، وَأَسْأَلُكَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَأَسْأَلُكَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَى وَجْهِكَ، وَأَسْأَلُكَ الشَّوْقَ إِلَى لِقَائِكَ فِي غَيْرِ ضَرَّاءَ مُضِرَّةٍ، وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ، اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ، وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ» ”اے اللہ! اپنے علمِ غیب اور مخلوق پر اپنی قدرت کے وسیلے سے، مجھے اس وقت تک زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہو، اور مجھے اس وقت موت دے جب موت میرے لیے بہتر ہو، اے اللہ! میں تجھ سے تنہائی اور محفل میں تیرا ڈر مانگتا ہوں، غصے اور خوشی میں کلمہ حق کہنے کی توفیق مانگتا ہوں، مالداری اور فقر میں میانہ روی کا سوال کرتا ہوں، ایسی نعمت کا طالب ہوں جو ختم نہ ہو اور ایسی آنکھوں کی ٹھنڈک کا جو منقطع نہ ہو، میں فیصلے کے بعد اس پر راضی رہنے، موت کے بعد پُرسکون زندگی، تیرے دیدار کی لذت اور تجھ سے ملنے کے شوق کا سوال کرتا ہوں بغیر کسی تکلیف دہ نقصان اور گمراہ کن فتنے کے، اے اللہ! ہمیں ایمان کی زینت سے مزین فرما اور ہمیں ہدایت دینے والا اور ہدایت یافتہ بنا۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / كتاب الدعاء والتكبير والتهليل والتسبيح والذكر / حدیث: 1944
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1944] [ترقيم الشركة 1929]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح.
حکم / درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
وأخرجه النسائي (1229)، وابن حبان (1971) من طريقين عن حماد بن زيد، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے امام نسائی اور ابن حبان نے حماد بن زید کے دو طرق سے اسی سند کے ساتھ روایت کیا ہے۔
وأخرجه النسائي (1230) من طريق أبي مجلز لاحق بن حميد، عن قيس بن عُباد، عن عمار بن ياسر. وإسناده حسنٌ.
حکم / درجۂ حدیث: اسے امام نسائی نے ابومجلز کے طریق سے حضرت عمار بن یاسرؓ سے روایت کیا ہے، اور اس کی سند "حسن" ہے۔
وأخرجه أحمد 30/ (18324) و (18325) من طريق أبي مجلز، عن عمار، فلم يذكر قيس

ابن عُباد، والصحيح ذكره، كما في رواية النسائي وغيره كما بُيِّن في "المسند" عند الحديث (18325).

حوالہ / مصدر: امام احمد نے اسے ابومجلز عن عمار روایت کیا اور قیس بن عباد کا ذکر نہیں کیا، مگر صحیح بات ان کا ذکر کرنا ہی ہے جیسا کہ نسائی کی روایت میں ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1944 سے ماخوذ ہے۔