کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مسجدِ نبوی ﷺ اور مسجدِ قباء کی فضیلت۔
أخبرنا أبو النضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدارمي، حدثنا يحيى بن صالح الوُحاظيّ، حدثنا عبد العزيز بن محمد، حدثنا أُنيس بن أبي يحيى، حدثني أبي، قال: سمعتُ أبا سعيدٍ الخُدْريَّ: أنَّ رجلًا من بني عمرو بن عوف ورجلًا من بني خُدْرة اختلفا - أو امتَرَيا - في المسجد الذي أُسِّس على التقوى، فقال العَوْفي: هو مسجد قُباءٍ، وقال الخُدْري: هو مسجدُ رسولِ الله ﷺ، فأَتَيا النبيَّ ﷺ فسألاه، فقال: "هو مسجدي هذا، وفي ذلك خيرٌ كثير" (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. وأُنيس بن أبي يحيى بخلاف أخيه إبراهيم (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنو عمرو بن عوف کے ایک شخص اور بنو خدرہ کے ایک شخص کے درمیان اس مسجد کے بارے میں اختلاف — یا شک — ہوا ﴿لَمَسْجِدٌ أُسِّسَ عَلَى التَّقْوَى﴾ [سورة التوبة: 108] ”جس کی بنیاد پہلے دن سے ہی تقویٰ پر رکھی گئی ہے“، عوفی نے کہا: وہ مسجدِ قبا ہے، جبکہ خدری (ابوسعید) نے کہا: وہ رسول اللہ ﷺ کی مسجد (مسجدِ نبوی) ہے، پس وہ دونوں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ سے اس بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”یہ میری یہی مسجد ہے، اور اس (اختلاف) میں بھی خیرِ کثیر ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، اور انیس بن ابی یحییٰ اپنے بھائی ابراہیم کے برخلاف (ثقہ) ہیں۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1811
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد قوي من أجل أبي يحيى والد أُنيس: وهو الأسلمي، واسمه سمعان. أبو النضر: اسمه محمد بن محمد بن يوسف، وعبد العزيز بن محمد هو الدراوردي، وأخرجه أحمد 17/ (11178) و 18/ (11864)، والترمذي (323)، وابن حبان (1626) من طرق عن أنيس بن أبي يحيى، بهذا الإسناد. ...» [ترقيم الرساله 1811] [ترقيم الشركة 1797]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الحسن بن علي بن عفَّان العامِرِي، حدثنا أبو أسامة، حدثنا عبد الحميد بن جعفر، حدثنا أبو الأبْرَد موسى بن سُلَيم مولى بني خَطْمة (2)، أنه سَمِعَ أُسَيدَ بن ظُهَيرٍ الأنصاريَّ - وكان من أصحاب النبي ﷺ يحدِّث، عن النبي ﷺ قال: "صلاةٌ في مسجد قُباءٍ كعُمْرة" (3).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه، إِلَّا أَنَّ أَبا الأبْرَد مجهول.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا اسید بن ظہیر انصاری رضی اللہ عنہ — جو نبی کریم ﷺ کے صحابہ میں سے تھے — سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”مسجدِ قبا میں ایک نماز ادا کرنا ایک عمرہ کے برابر ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا، البتہ اس کا ایک راوی ابوالابرد مجہول ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1812
درجۂ حدیث محدثین: صحيح لغيره
تخریج حدیث «صحيح لغيره، وهذا إسناد محتمل للتحسين، فإنَّ أبا الأبرد - وإن لم يرو عنه غير واحد، ولم يؤثر توثيقه عن أحد - فهو تابعي، والراوي عنه من الثقات، ولحديثه هذا شواهد. أبو أسامة: هو حماد بن أسامة.» [ترقيم الرساله 1812] [ترقيم الشركة 1798]
حدثنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن سَلَمة، حدثنا محمد بن مِهْران الجَمّال، حدثنا جَرير، عن يحيى بن سعيد، عن عبد الله بن دينار، عن عبد الله بن عمر قال: كان رسولُ الله ﷺ يُكثِرُ الاختلافَ إلى قُباءٍ ماشيًا وراكبًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذا اللفظ.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کثرت کے ساتھ (مسجدِ) قبا تشریف لے جایا کرتے تھے، کبھی پیدل اور کبھی سوار ہو کر۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن ان الفاظ کے ساتھ انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1813
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أحمد بن سلمة: هو ابن عبد الله النيسابوري، وجرير: هو ابن عبد الحميد، ويحيى بن سعيد: هو الأنصاري.» [ترقيم الرساله 1813] [ترقيم الشركة 1799]