أخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا أبو المُثنّى، حدثنا مُسدَّد، حدثنا بِشْر بن المُفضَّل، حدثنا عبد الرحمن بن إسحاق، عن أبيه، عن عامر بن سعد بن أبي وقَّاص، عن أبيه سعدٍ: أنه كان يَخرُج من المدينة فيجدُ الحاطبَ من الحُطَّاب معه شجرٌ (1) رَطْبٌ قد عَضَدَه من بعض شَجَر المدينة، فيأخذُ سَلَبَه، فيكلِّمُه فيه - وقال بِشْر: فيُكلَّم فيه - فيقول: لا أدَعُ غَنيمةً غنَّمَنِيها رسولُ الله ﷺ وأنا من أكثر الناس مالًا (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ مدینہ سے باہر تشریف لاتے اور اگر کسی لکڑ ہارے کو پاتے جس نے مدینہ کے کسی درخت کی گیلی ٹہنی کاٹی ہوتی تو وہ اس کا ساز و سامان چھین لیتے، جب ان سے اس بارے میں بات کی جاتی تو وہ فرماتے: ”میں اس مالِ غنیمت کو نہیں چھوڑوں گا جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے عطا فرمایا ہے“، حالانکہ وہ بہت مالدار لوگوں میں سے تھے۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر محمد بن عبد الله بن عتَّاب العَبْدي ببغداد، حدثنا عبد الرحمن بن مرزوق أبو عوف البُزُوري، حدثنا خالد بن مَخْلَد القَطَواني، حدثنا عبد الله بن جعفر المَخْرَميّ، حدثنا إسماعيل بن محمد، عن عامر بن سعد: أنَّ سعدًا ركب إلى قصرِه بالعَقِيق فوجد عبدًا يقطع شجرًا فاستَلَبَه، فلما رَجَعَ جَاءَه أهلُ العبد يسألونه أن يَرُدَّ عليهم ما أَخذ من عبدهم، قال: مَعَاذَ اللهِ أَن أَرُدَّ شيئًا نَفَّلَنِيه رسولُ الله ﷺ، فلم يَرُدَّ إليهم شيئًا (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عامر بن سعد سے روایت ہے کہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ وادی عقیق میں اپنے محل کی طرف جا رہے تھے کہ انہوں نے ایک غلام کو درخت کاٹتے ہوئے پایا تو اس کا سامان چھین لیا، جب وہ واپس آئے تو غلام کے مالکان ان کے پاس آئے اور اپنا سامان واپس مانگا، انہوں نے فرمایا: ”اللہ کی پناہ کہ میں وہ چیز واپس کروں جو رسول اللہ ﷺ نے مجھے بطور انعام عطا فرمائی ہے“، چنانچہ انہوں نے کچھ بھی واپس نہ کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔