کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: جو ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔
أخبرنا علي بن حَمْشاذ العدلُ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا أبو النُّعمان عارِمٌ، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثني الحجاج بن أبي عثمان، حدثني يحيى بن أبي كثير، أنَّ عِكْرِمة مولى ابن عباس حدثه، قال: حدثني الحجّاج بن عمرو الأنصاري، أنه سمع رسولَ الله ﷺ: "مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حلَّ، وعليه حَجّةٌ أخرى". قال: فحدثتُ ابن عباس وأبا هريرةَ فقالا: صَدَق (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقيل: عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، عن الحجاج بن عمرو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے، وہ حلال ہو گیا (احرام کھول دے) اور اس پر دوسرا حج لازم ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو بتائی تو ان دونوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1795
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السدوسي، وعارم لقبه. وسلف برقم (1743).» [ترقيم الرساله 1795] [ترقيم الشركة 1781]
أخبرَناه أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا مَعمَر، عن يحيى بن أبي كَثير، عن عِكْرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، قال: سألتُ الحجاج بن عمرو الأنصاري عن حَبْسِ المسلم، فقال: قال رسول الله ﷺ: "مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حلَّ، وعليه الحجُّ من قابلٍ". قال عكرمة: فحدثتُ ابن عباس وأبا هريرةَ، فقالا: صَدَقَ الحجّاج (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے، وہ حلال ہو گیا (احرام کھول دے) اور اس پر اگلے سال دوبارہ حج لازم ہے۔“ عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو بتائی تو انہوں نے فرمایا کہ حجاج نے سچ کہا ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1796
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح.» [ترقيم الرساله 1796] [ترقيم الشركة 1782]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أبو الجوَّاب، حدثنا عمار بن رُزَيق، عن الأعمش، عن أبي سفيان، عن جابر بن عبد الله قال: كانت قريشٌ يُدْعَونَ الحُمْسَ، وكانوا يَدخُلون من الأبواب في الإحرام، وكانت الأنصارُ وسائر العرب لا يَدخُلون من الأبواب في الإحرام، فبينما رسولُ الله ﷺ في بستانٍ، فخرج من بابه، وخرج معه قُطْبةُ بن عامرٍ الأنصاري، فقالوا: يا رسولَ الله، إنَّ قُطبة بن عامر رجلٌ فاجر، وإنه خرج معك من الباب، فقال: "ما حَمَلَكَ على ذلك؟ " قال: رأيتُك فعلتَ، ففعلتُ كما فعلتَ، فقال: "إِنِّي أحمَسُ"، قال: إِنَّ دِيني دِينُك، فأنزل الله ﷿: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا﴾ [البقرة: 189] (2).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه بهذه الزيادة.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ قریش کو ”حمس“ کہا جاتا تھا اور وہ احرام کی حالت میں (اپنے گھروں میں) دروازوں سے داخل ہوتے تھے، جبکہ انصار اور دیگر عرب احرام میں دروازوں سے داخل نہیں ہوتے تھے، ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ ایک باغ میں تھے، آپ ﷺ اس کے دروازے سے باہر نکلے تو آپ کے ساتھ سیدنا قطبہ بن عامر انصاری رضی اللہ عنہ بھی نکل آئے، لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قطبہ بن عامر ایک گنہگار شخص ہے کیونکہ وہ آپ کے ساتھ دروازے سے نکلا ہے، آپ ﷺ نے ان سے پوچھا: ”تمہیں اس پر کس چیز نے ابھارا؟“ انہوں نے عرض کیا: میں نے آپ کو ایسا کرتے دیکھا تو میں نے بھی ویسا ہی کیا جیسا آپ نے کیا، آپ ﷺ نے فرمایا: ”میں تو حمس میں سے ہوں“، انہوں نے عرض کیا: میرا دین تو وہی ہے جو آپ کا دین ہے، تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَلَيْسَ الْبِرُّ بِأَنْ تَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ ظُهُورِهَا وَلَكِنَّ الْبِرَّ مَنِ اتَّقَى وَأْتُوا الْبُيُوتَ مِنْ أَبْوَابِهَا﴾ ”اور یہ کوئی نیکی نہیں کہ تم گھروں میں ان کی پشت کی طرف سے داخل ہو، بلکہ نیکی تو اس کی ہے جو تقویٰ اختیار کرے، اور تم گھروں میں ان کے دروازوں سے آیا کرو۔“ [سورة البقرة: 189]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اس زیادتی کے ساتھ اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1797
درجۂ حدیث محدثین: إسناده قوي
تخریج حدیث «إسناده قوي،، لكن اختلف في وصله وإرساله، فقد رواه عمار بن رزيق هنا عن الأعمش عن أبي سفيان - وهو طلحة بن نافع - عن جابر بن عبد الله، فذكره هكذا موصولًا، ورواه عَبيدة بن حميد عن الأعمش به، واختلف عليه في وصله وإرساله كما سيأتي. أبو الجوَّاب: هو الأحوص بن جواب.» [ترقيم الرساله 1797] [ترقيم الشركة 1783]