حدیث نمبر: 1794
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا إبراهيم بن مرزوق، حدثنا وهب بن جَرير، حدثنا شعبة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا محمد بن جعفر، حدثنا شعبة، عن إبراهيم بن مُهاجر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، قال: أَرسَل مروانُ إلى أم مَعْقِل يسألها عن هذا الحديث، فحدَّثَتْ أنَّ زوجها جعل بَكْرًا في سبيل الله، وأنها أرادت العُمرةَ فسألتْ زوجَها البَكْرَ، فأَبى عليها، فأتت رسولَ الله ﷺ فذَكَرَت ذلك له، فأمره النبيُّ ﷺ أن يُعطيَها، وقال: "إنَّ الحج والعُمرة لَمِنْ سبيل الله، وإِنَّ عُمرةً في رمضان تَعدِلُ حَجَّةً" أو "تُجزِئُ بحَجَّةٍ" (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدہ ام معقل رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ان کے شوہر نے ایک اونٹ اللہ کی راہ (جہاد) کے لیے وقف کر رکھا تھا، انہوں نے عمرہ کرنے کا ارادہ کیا تو اپنے شوہر سے وہ اونٹ مانگا مگر انہوں نے دینے سے انکار کر دیا، پھر وہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور سارا واقعہ ذکر کیا، تو نبی کریم ﷺ نے ان کے شوہر کو حکم دیا کہ وہ اونٹ انہیں دے دیں، اور فرمایا: ”بلاشبہ حج اور عمرہ بھی اللہ کی راہ (کے کاموں) میں سے ہیں، اور رمضان میں عمرہ کرنا ایک حج کے برابر ہے“ یا فرمایا: ”حج کے قائم مقام ہے۔“
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1794
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر
تخریج حدیث «إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، ولم يتابع على هذا السياق، وقد اختلف عليه في هذا الإسناد، ورواه غيره واختلف فيه اختلافًا كبيرًا، فضعف بسبب اضطرابه، وقد فصلنا القول في ذلك في تعليقنا على "مسند أحمد" 45/ (27106)، وانظر "علل الدارقطني" (3179).» [ترقيم الرساله 1794] [ترقيم الشركة 1780]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده ضعيف لضعف إبراهيم بن مهاجر، ولم يتابع على هذا السياق، وقد اختلف عليه في هذا الإسناد، ورواه غيره واختلف فيه اختلافًا كبيرًا، فضعف بسبب اضطرابه، وقد فصلنا القول في ذلك في تعليقنا على "مسند أحمد" 45/ (27106)، وانظر "علل الدارقطني" (3179).
درجۂ حدیث: ابراہیم بن مہاجر کے ضعف کی وجہ سے یہ سند "ضعیف" ہے، اور اس سیاق کے ساتھ ان کی متابعت بھی نہیں ملی۔ اس سند میں ان پر شدید اختلاف ہوا ہے اور ان کے اضطراب کی تفصیل ہم نے "مسند احمد" (45/27106) کے حاشیہ میں دی ہے۔
وهو في "مسند أحمد" (27286)، وقرن هناك بمحمد بن جعفرٍ الحجاجَ بن محمد المصيصي الأعور.
حوالہ / مصدر: یہ روایت "مسند احمد" (27286) میں موجود ہے، اور وہاں محمد بن جعفر کے ساتھ حجاج بن محمد المصیصی کا بھی ذکر ہے۔
وأخرجه أحمد (27107)، وأبو داود (1988) من طريق أبي عوانة، عن إبراهيم بن مهاجر، عن أبي بكر بن عبد الرحمن، أخبرني رسول مروان الذي أرسل إلى أم معقل قال: قالت … فذكره.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد اور ابوداؤد (1988) نے ابوعوانہ عن ابراہیم بن مہاجر کے طریق سے روایت کیا ہے کہ مروان کے قاصد نے ام معقلؓ سے پوچھا تو انہوں نے یہ واقعہ بیان کیا۔
وأخرجه أحمد (27287) من طريق محمد بن أبي إسماعيل، عن إبراهيم بن مهاجر، عن أبي بكر بن عبد الله، عن معقل بن أم معقل: أنَّ أمه أتت رسول الله ﷺ فقالت … فذكر معناه.
حوالہ / مصدر: اسے امام احمد (27287) نے معقل بن ام معقل کے واسطے سے روایت کیا ہے کہ ان کی والدہ نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں... (مطلب یہی تھا)۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1794 سے ماخوذ ہے۔