المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
مَنْ كُسِرَ أَوْ عَرَجَ فَقَدْ حَلَّ وَعَلَيْهِ حَجَّةٌ أُخْرَى باب: جو ٹوٹ جائے یا لنگڑا ہو جائے تو اس کے لیے احرام کھولنا جائز ہے اور اس پر ایک اور حج لازم ہے۔
حدیث نمبر: 1795
أخبرنا علي بن حَمْشاذ العدلُ، حدثنا هشام بن علي، حدثنا أبو النُّعمان عارِمٌ، حدثنا عبد الوارث بن سعيد، حدثني الحجاج بن أبي عثمان، حدثني يحيى بن أبي كثير، أنَّ عِكْرِمة مولى ابن عباس حدثه، قال: حدثني الحجّاج بن عمرو الأنصاري، أنه سمع رسولَ الله ﷺ: "مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حلَّ، وعليه حَجّةٌ أخرى". قال: فحدثتُ ابن عباس وأبا هريرةَ فقالا: صَدَق (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه. وقيل: عن عكرمة، عن عبد الله بن رافع مولى أم سلمة، عن الحجاج بن عمرو:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے، وہ حلال ہو گیا (احرام کھول دے) اور اس پر دوسرا حج لازم ہے۔“ راوی کہتے ہیں کہ میں نے یہ بات سیدنا ابن عباس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہم کو بتائی تو ان دونوں نے فرمایا کہ انہوں نے سچ کہا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(2) إسناده صحيح. أبو النعمان: هو محمد بن الفضل السدوسي، وعارم لقبه. وسلف برقم (1743).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو النعمان سے مراد محمد بن الفضل السدوسی ہیں جن کا لقب 'عارم' ہے۔ یہ روایت پیچھے نمبر (1743) پر بھی گزر چکی ہے۔
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابو النعمان سے مراد محمد بن الفضل السدوسی ہیں جن کا لقب 'عارم' ہے۔ یہ روایت پیچھے نمبر (1743) پر بھی گزر چکی ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1795 سے ماخوذ ہے۔