کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: مزدور/اجرت پر کام کرنے والے کے حج کا بیان۔
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن علي بن عبد الحميد الصَّنعاني بمكة، حدثنا علي بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا زيد بن المبارك الصَّنعاني، حدثنا مَعْمَر بن راشد الصَّنعاني، عن عبد الكريم الجَزَري، عن سعيد بن جُبَير قال: أتى رجلٌ ابنَ عباس فقال: إني آجَرْتُ نفسي من قوم، فتركتُ لهم بعض أجري ليُخَلُّوا بيني وبين المناسك، فهل يُجزئ ذلك عنِّي؟ فقال ابن عباس: هذا من الذين قال الله ﷿: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ [البقرة: 202] (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور عرض کیا: میں نے خود کو ایک قوم کے پاس مزدوری پر رکھا، پھر میں نے اپنی کچھ اجرت اس لیے چھوڑ دی تاکہ وہ مجھے مناسکِ حج ادا کرنے دیں، تو کیا یہ میری طرف سے کفایت کرے گا؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ ان لوگوں میں سے ہے جن کے بارے میں اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: ﴿أُولَئِكَ لَهُمْ نَصِيبٌ مِمَّا كَسَبُوا وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ﴾ ”ان لوگوں کے لیے ان کی کمائی کا حصہ ہے اور اللہ جلد حساب لینے والا ہے۔“ [سورة البقرة: 202]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1790
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن من أجل زيد بن المبارك وعلي بن المبارك الصنعانيين، وقد توبعا. عبد الكريم الجزري: هو ابن مالك.» [ترقيم الرساله 1790] [ترقيم الشركة 1776]
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عباس: أنَّ الناس كانوا في أوّل الحج يتبايعون بمِنًى وعَرَفةَ وسوق ذي المَجَاز ومواسم الحج، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مَوَاسم الحَجّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں منیٰ، عرفات، ذو المجاز کے بازار اور حج کے دیگر موسموں میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر وہ حالتِ احرام میں تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تو اللہ عزوجل نے حج کے موسموں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ [سورة البقرة: 198]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1791
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو بكر الحنفي: هو عبد الكبير بن عبد المجيد، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعطاء: هو ابن أبي رباح. وانظر ما سلف برقم (1666).» [ترقيم الرساله 1791] [ترقيم الشركة 1777]
أخبرنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا أحمد بن عبد الجبار، حدثنا يونس بن بُكَير، حدثنا محمد بن إسحاق. وأخبرنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا عبد الله بن الحسن الحَرّاني، حدثنا عبد الله بن محمد النُّفَيلي، حدثنا محمد بن سَلَمة، عن ابن إسحاق، حدثنا عبد الله بن أبي بَكْر بن محمد بن عمرو بن حَزْم الأنصاري، عن عثمان بن أبي سليمان بن جُبَير بن مُطْعِم، عن عمِّه نافع بن جُبَير، عن أبيه جُبَير بن مُطْعِم قال: لقد رأيتُ رسولَ الله ﷺ قبلَ أن يُنزَل عليه، وإنَّه لَوَاقفٌ على بعيرٍ له بعرفاتٍ مع الناس يَدْفَعُ معهم منها، وما ذاكَ إلَّا توفيقٌ من الله ﷿ له (2).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو وحی نازل ہونے سے پہلے دیکھا کہ آپ عرفات میں اپنے اونٹ پر لوگوں کے ساتھ وقوف فرما رہے تھے اور ان کے ساتھ ہی وہاں سے کوچ کر رہے تھے، اور یہ محض اللہ عزوجل کی طرف سے آپ ﷺ کو حاصل ہونے والی توفیق کی بنا پر تھا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1792
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل محمد بن إسحاق. محمد بن سلمة: هو الباهلي الحراني.» [ترقيم الرساله 1792] [ترقيم الشركة 1778]