حدیث نمبر: 1791
أخبرنا حمزة بن العباس العَقَبي ببغداد، حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا أبو بكر الحَنَفي، حدثنا ابن أبي ذِئب، عن عطاء، عن عُبيد بن عُمير، عن ابن عباس: أنَّ الناس كانوا في أوّل الحج يتبايعون بمِنًى وعَرَفةَ وسوق ذي المَجَاز ومواسم الحج، فخافوا البيعَ وهم حُرُم، فأنزل الله ﷿: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ [البقرة: 198] في مَوَاسم الحَجّ (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگ حج کے ابتدائی زمانے میں منیٰ، عرفات، ذو المجاز کے بازار اور حج کے دیگر موسموں میں خرید و فروخت کیا کرتے تھے، پھر وہ حالتِ احرام میں تجارت کرنے سے ڈرنے لگے، تو اللہ عزوجل نے حج کے موسموں کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿لَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَبْتَغُوا فَضْلًا مِنْ رَبِّكُمْ﴾ ”تم پر اس بات میں کوئی گناہ نہیں کہ تم (تجارت کے ذریعے) اپنے رب کا فضل تلاش کرو۔“ [سورة البقرة: 198]
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1791
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو بكر الحنفي: هو عبد الكبير بن عبد المجيد، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعطاء: هو ابن أبي رباح. وانظر ما سلف برقم (1666).» [ترقيم الرساله 1791] [ترقيم الشركة 1777]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) إسناده صحيح. أبو بكر الحنفي: هو عبد الكبير بن عبد المجيد، وابن أبي ذئب: هو محمد بن عبد الرحمن بن المغيرة، وعطاء: هو ابن أبي رباح. وانظر ما سلف برقم (1666).
درجۂ حدیث: اس کی سند صحیح ہے۔
فنی نکتہ: ابوبکر الحنفی سے مراد عبدالکبیر، ابن ابی ذئب سے محمد بن عبدالرحمن اور عطا سے مراد ابن ابی رباح ہیں۔ پیچھے نمبر (1666) بھی دیکھیں۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1791 سے ماخوذ ہے۔