حدیث نمبر: 1746
حدَّثَناه أبو جعفر محمد بن محمد بن عبد الله البغدادي، حدثنا هاشم ابن يونس العصّار (1)، حدثنا عبد الله بن صالح، حدثنا الليث، حدثني عبد الرحمن بن خالد بن مُسافِر، عن ابن شهاب، عن أبي سِنان الدُّؤلي، عن ابن عباس: أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يا قومِ، كُتِبَ عليكم الحَجُّ"، فقال الأقرع بن حابس: أَكُلَّ عامٍ يا رسولَ الله؟ فصَمَتَ رسولُ الله ﷺ، ثم قال: "لا، بل حَجَّةٌ واحدةٌ، ثم مَن حَجَّ بعدَ ذلك فهو تطوُّعٌ، ولو قلتُ: نَعَمْ، لَوَجَبَتْ عليكم، ثم إذًا لا تَسمَعونَ ولا تُطيعون" (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو! تم پر حج فرض کر دیا گیا ہے“، تو سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہر سال؟ رسول اللہ ﷺ خاموش رہے، پھر فرمایا: ”نہیں بلکہ صرف ایک مرتبہ فرض ہے، اس کے بعد جو حج کرے گا وہ نفل ہوگا، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو وہ تم پر واجب ہو جاتا اور پھر تم اسے نہ سن پاتے اور نہ ہی اس کی اطاعت کر پاتے۔“
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔

حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1746
درجۂ حدیث محدثین: حديث صحيح
تخریج حدیث «حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عبد الله بن صالح كاتب الليث» [ترقيم الرساله 1746] [ترقيم الشركة 1734]

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) تحرَّف في (ز) و (ص) و (ب) إلى: القصار، والمثبت من (ع)، وسيأتي تحقيق نسبته عند الحديث رقم (2552).
فنی نکتہ: نسخہ (ز)، (ص) اور (ب) میں یہ لفظ "القصار" ہو گیا ہے، درست لفظ وہی ہے جو نسخہ (ع) میں ہے، جس کی تحقیق آگے نمبر (2552) پر آئے گی۔
(2) حديث صحيح، وهذا إسناد حسن، عبد الله بن صالح كاتب الليث - وهو ابن سعد - حسن الحديث في المتابعات والشواهد، وقد توبع.
درجۂ حدیث: حدیث صحیح ہے اور سند "حسن" ہے۔ عبد اللہ بن صالح (کاتبِ لیث) متابعات و شواہد میں حسن الحدیث ہیں اور یہاں ان کی متابعت موجود ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1746 سے ماخوذ ہے۔