کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: جو ٹوٹ جانے یا لنگڑا ہونے کی وجہ سے (احرام سے) کھل جائے، اس پر آئندہ سال حج لازم ہے۔
حدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا إسماعيل بن قُتيبة، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا مروان بن معاوية الفَزَاري، حدثنا الحجّاج بن أبي عثمان الصوّاف، عن يحيى بن أبي كثير، عن عِكرِمةَ قال: حدّثني الحجّاج بنُ عمرو الأنصاريُّ قال: قال رسولُ الله ﷺ: "مَن كُسِرَ أو عَرَجَ فقد حَلَّ، وعليه الحجُّ من قابلٍ". قال عكرمة: فسألتُ أبا هريرةَ وابنَ عباسٍ، فقالا: صَدَق (1).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا حجاج بن عمرو انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس کی ہڈی ٹوٹ جائے یا وہ لنگڑا ہو جائے تو وہ حلال ہو گیا (احرام کھول دے) اور اس پر اگلے سال دوبارہ حج لازم ہے۔“ عکرمہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس بارے میں سیدنا ابوہریرہ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہم سے پوچھا تو انہوں نے فرمایا کہ حجاج بن عمرو نے سچ کہا ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا أبو بكر بن أبي دارِم الحافظ بالكوفة، حدثنا محمد بن عثمان بن محمد العَبْسي، حدثنا أبي، حدثنا زيد بن الحُبَاب، حدثنا سفيان الثَّوري، عن جعفر بن محمد، عن أبيه، عن جابرٍ قال: حَجَّ النبيُّ ﷺ حَجَّتينِ قبلَ أن يُهاجِر - يعني - وحَجَّ بعدما هاجَرَ حَجَّةً قَرَنَ معها عُمرةً (1).
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط مسلم، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ہجرت سے قبل دو حج کیے اور ہجرت کے بعد ایک حج کیا جس میں آپ ﷺ نے حج کے ساتھ عمرہ ملایا تھا (یعنی حجِ قران کیا تھا)۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام مسلم کی شرط پر صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب الأُمَويُّ وعليُّ بن عبد الله الحَكِيمي ببغداد، قالا: حدثنا العباس بن محمد الدُّوري، حدثنا رَوح بن عُبادة، حدثنا محمد بن أبي حَفْصة، عن ابن شِهاب، عن أبي سِنان، عن ابن عباس: أنَّ الأقرع بن حابس سألَ رسول الله ﷺ: الحجُّ كلَّ عام؟ قال: "لا بل حَجَّةٌ واحدةٌ، ولو قلتُ: نَعَم، لَوَجَبَتْ، ولو وَجَبَتْ، لم تَسمَعوا ولم تُطيعوا (1) " (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا اقرع بن حابس رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: کیا حج ہر سال فرض ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ زندگی میں صرف ایک بار ہے، اور اگر میں ہاں کہہ دیتا تو یہ ہر سال واجب ہو جاتا، اور اگر ایسا ہو جاتا تو تم نہ اسے سنتے اور نہ اس کی اطاعت کر پاتے۔“