کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: خانۂ کعبہ کی تعمیر اور اس کی بار بار مرمت کا واقعہ۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا سُرَيج بن النُّعمان الجَوهَري، حدثنا حماد بن سَلَمة، عن سِمَاك بن حرب، عن خالد بن عَرْعَرةَ قال: لما قُتِل عثمان ذُعِر الناسُ في ذلك اليوم ذُعرًا شديدًا، وكان سلُّ السيف فينا عظيمًا، فقعدتُ في بيتي، فعَرَضَتْ لي حاجةٌ في السوق، فخرجتُ، فإذا في ظلِّ القصرِ نَفَرٌ جلوسٌ نحوًا من أربعين رجلًا، وإذا سلسلةٌ معروضةٌ على الباب، فأردتُ أن أدخل، فمَنَعَني البواب، فقال القوم: دَعِ الرجلَ، فدخلتُ، فإذا أشرافُ الناس ووجوهُهم، فجاء رجلٌ جميلٌ في حُلَّةٍ ليس عليه قميصٌ ولا عِمَامةٌ، فقَعَدَ، فإذا عليُّ بن أبي طالب، ثم قال: إنَّ إبراهيم لما أراد بناءَ البيت ضاقَ به ذَرْعًا، فلم يَدْرِ ما يَصنَع، فأرسل الله السَّكينةَ، وهي ريحُ خَجُوجٌ، فانطَوتْ، فجعل يبني عليها كلَّ يوم سافًا (1) ومكةُ شديدةُ الحرّ، فلمَّا بلغ موضعَ الحَجَر، قال لإسماعيل: اذهب فالتمِسْ حَجَرًا فضَعْه هاهنا. فجعل يطوف في الجبال، فجاء جبريلُ بالحَجَر فَوَضَعَه، فجاء إسماعيل فقال: مَن جاء بهذا؟ أو من أين هذا؟ أو من أين أُتي بهذا؟ فقال: جاء به مَن لم يتَّكِلْ على بنائي وبنائِكَ، فَبَنَاه. ثم انهَدَمَ، فَبَنَتْه العَمالقةُ، ثم انهَدَمَ فَبَنَتْه جُرْهُم، ثم انهَدَمَ فَبَنَتْه قريش، فلما أرادوا أن يضعوا الحَجَر تشاجروا في وضعِه، فقالوا: أولُ من يَخرج من هذا الباب فهو يضعُه، فخرج رسولُ الله ﷺ من قِبَل باب بني شَيْبَة، فَأَمَرَ بثوبٍ فَبُسِطُ، فَوَضَعَ الحَجَرَ في وَسَطِه، ثم أَمَرَ رجلًا من كلِّ فَخِذٍ من أفخاذ قريشٍ أن يأخذ بناحيةِ الثِّياب، فأخذَه رسولُ الله ﷺ بيدِه فَوَضَعَه (2). قد اتفَقَ الشيخان على إخراج الحديث الطويل عن أيوب السَّخْتِياني وكَثِير بن كثير عن سعيد بن جُبير عن ابن عباس قصةَ بناءِ الكعبة أولَ ما بناه إبراهيمُ الخليل ﵇ (1)، وهذا غيرُ ذاك.
حافظ طلحہ بابر
خالد بن عرعرہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کیا گیا تو اس دن لوگ بہت زیادہ خوفزدہ ہو گئے، اور ہمارے ہاں تلواریں کھینچنے کا معاملہ بہت سنگین ہو گیا، چنانچہ میں اپنے گھر میں بیٹھ گیا۔ پھر مجھے بازار میں ایک کام پڑا تو میں نکلا، کیا دیکھتا ہوں کہ محل کے سائے میں کچھ لوگ بیٹھے ہیں جو قریباً چالیس آدمی تھے، اور دروازے پر ایک زنجیر لگی ہوئی تھی۔ میں نے اندر داخل ہونا چاہا تو دربان نے مجھے روک دیا۔ ان لوگوں نے کہا: ”اس شخص کو چھوڑ دو۔“ پس میں اندر داخل ہو گیا، تو وہاں لوگوں کے شرفاء اور معززین موجود تھے۔ اتنے میں ایک خوبصورت شخص آیا جو ایک جوڑے میں ملبوس تھا، اس پر نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ، وہ بیٹھ گیا، وہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ تھے۔ پھر انہوں نے فرمایا سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے جب بیت اللہ کی تعمیر کا ارادہ کیا تو (نقشے کے معاملے میں) کچھ تنگی محسوس کی، تو اللہ تعالیٰ نے ”سکینہ“ بھیجی جو کہ ایک تیز ہوا تھی، وہ (بیت اللہ کی بنیادوں پر) سمٹ کر دائرہ نما ہو گئی، چنانچہ وہ اس پر روزانہ ایک ردہ (دیوار کی تہہ) چننے لگے جبکہ مکہ میں سخت گرمی تھی، پھر جب وہ حجرِ اسود کے مقام تک پہنچے تو انہوں نے سیدنا اسماعیل علیہ السلام سے فرمایا: جاؤ اور کوئی پتھر تلاش کرو تاکہ میں اسے یہاں رکھ دوں۔ پس وہ پہاڑوں میں گھومنے لگے، اتنے میں جبرئیل علیہ السلام حجرِ اسود لے آئے اور اسے رکھ دیا، جب اسماعیل علیہ السلام آئے تو پوچھا: یہ کون لایا ہے؟ تو ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: اسے وہ ہستی لائی ہے جس نے نہ میری تعمیر پر بھروسہ کیا اور نہ تمہاری، غرض انہوں نے اسے تعمیر کر دیا۔ پھر وہ منہدم ہوا تو عمالقہ نے اسے بنایا، پھر وہ گر گیا تو قبیلہ جرہم نے اسے بنایا، پھر وہ منہدم ہوا تو قبیلہ قریش نے اسے بنایا، پھر جب وہ حجرِ اسود رکھنے لگے تو ان میں جھگڑا ہو گیا، انہوں نے کہا: پہلا شخص جو اس دروازے سے نکلے گا وہی اسے رکھے گا، تو رسول اللہ ﷺ باب بنی شیبہ کی طرف سے نکلے، آپ ﷺ نے کپڑا بچھانے کا حکم دیا اور اس کے بیچ میں حجرِ اسود رکھ دیا، پھر قریش کی ہر شاخ میں سے ایک ایک آدمی کو حکم دیا کہ وہ کپڑے کا گوشہ پکڑ لیں، پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنے دستِ مبارک سے اسے اٹھا کر (اس کی جگہ پر) رکھ دیا۔
شیخین نے اس طویل حدیث پر اتفاق کیا ہے جس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کے سب سے پہلی بار کعبہ تعمیر کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں، البتہ یہ (موجودہ) حدیث اس سے الگ ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1702
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن،من أجل سماك بن حرب وخالد بن عَرْعرة.» [ترقيم الرساله 1702] [ترقيم الشركة 1690]
حدثنا بكر بن محمد بن حَمْدان الصَّيرَفي بمَرْو، حدثنا عبد الصمد بن الفضل، حدثنا مكِّيّ بن إبراهيم، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد. وحدثنا أبو زكريا العَنْبري، حدثنا إبراهيم بن أبي طالب، حدثنا أبو كُرَيب وسَلْم بن جُنادةَ، قالا: حدثنا وكيع، حدثنا سفيان الثَّوري، حدثنا عبيد الله بن أبي زياد، عن القاسم، عن عائشة، عن النبي ﷺ قال: "إنَّما جُعِل رميُ الجِمار والطَّواف والسَّعي بين الصَّفَا والمَرْوة لإقامةِ ذِكرِ الله لا لغيرِه" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”بلاشبہ جمرات کی رمی، بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کے درمیان سعی صرف اللہ تعالیٰ کے ذکر کو قائم کرنے کے لیے مقرر کی گئی ہے۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1703
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف، عبيد الله بن أبي زياد - وهو المكي القداح - حسن الحديث في المتابعات والشواهد، ولم يتابع على رفع هذا الحديث، بل قد اختلف عليه في رفعه ووقفِه، ووَقَفَه غيرُه، كما سيأتي. أبو زكريا العنبري: هو يحيى بن محمد بن عبد الله، وأبو كريب: هو محمد بن العلاء، ...» [ترقيم الرساله 1703] [ترقيم الشركة 1691]