کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: حجرِ اسود اللہ کا دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔
حدَّثَناه أبو بكر بن إسحاق الفقيه، أخبرنا الحسن بن علي بن زياد. وحدثنا أبو حفص عمر بن أحمد الفقيه ببُخارَى، حدثنا صالح بن محمد بن حَبِيب الحافظ، قالا: حدثنا سعيد بن سليمان الواسطي، حدثنا عبد الله بن المُؤمَّل قال: سمعتُ عطاءً يحدِّث عن عبد الله بن عمرٍو، أنَّ رسول الله ﷺ قال: "يأتي الرُّكنُ يوم القيامة أعظمَ من أبي قُبَيس، له لسانٌ وشَفَتانِ يتكلَّم عمَّن استَلَمَه بالنِّية، وهو يمينُ الله التي يُصافِح بها خَلْقَه" (1). وقد روي لهذا الحديث شاهدٌ مفسَّر، غير أنه ليس من شرط الشيخين، فإنهما لم يحتجا بأبي هارون عُمارة بن جُوَين العَبْدي:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”حجرِ اسود قیامت کے دن جبلِ ابوقبیس سے بھی بڑا ہو کر آئے گا، اس کی زبان اور دو ہونٹ ہوں گے اور وہ اس شخص کے بارے میں کلام کرے گا جس نے خلوصِ نیت کے ساتھ اس کا استلام کیا ہو، اور یہ اللہ کا وہ (مجازی) دایاں ہاتھ ہے جس سے وہ اپنی مخلوق سے مصافحہ فرماتا ہے۔“
اس حدیث کا ایک مفصل شاہد بھی روایت کیا گیا ہے، مگر وہ شیخین کی شرط پر نہیں ہے کیونکہ انہوں نے ابو ہارون عمارہ بن جوین العبدی سے احتجاج نہیں کیا:
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1699
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره دون قوله: "وهو يمين الله التي يصافح بها خلقه"
تخریج حدیث «حسن لغيره دون قوله: "وهو يمين الله التي يصافح بها خلقه"، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن المؤمّل، قال الذهبي في "التلخيص": عبد الله بن المؤمل واهٍ. عطاء: هو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1699] [ترقيم الشركة 1687]
أخبرَناه أبو محمد عبد الله بن محمد بن موسى العَدْل من أصل كتابه حدثنا محمد بن صالح الكِيلِيني (2)، حدثنا محمد بن يحيى بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن عبد الصمد العَمِّي، عن أبي هارونَ العَبْدي، عن أبي سعيد الخُدْري قال: حَجَجْنا مع عمر بن الخطاب، فلمّا دَخَلَ الطوافَ استقبَلَ الحَجَرَ فقال: إنِّي أعلمُ أنك حَجَرٌ لا تَضَرُّ ولا تَنفَعُ، ولولا أنِّي رأيتُ رسول الله ﷺ قبَّلكَ ما قبَّلتُك. ثم قبَّله، فقال له عليُّ بن أبي طالب: بلى يا أميرَ المؤمنين، إنه يضُرُّ ويَنفعُ، قال: بِمَ قلتَ؟ قال: بكتاب الله ﵎، قال: وأينَ ذلك من كتاب الله؟ قال: قال الله ﷿: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ [الأعراف: 172]، خَلَقَ الله آدمَ ومَسَحَ على ظهره، فقرَّرهم بأنه الربُّ وأنهم العَبيد، وأخذ عُهودَهم ومَوَاثِيقَهم، وكَتَبَ ذلك في رَقٍّ، وكان لهذا الحَجَرِ عينانِ ولسانٌ فقال له: افتحْ فاكَ، قال: فَفَتَحَ فاهُ فأَلقَمَه ذلك الرَّقَّ، وقال: اشْهَدْ لِمَن وافاكَ بالمُوافاةِ يومَ القيامة، وإنِّي أشهدُ لَسمعتُ رسولَ الله ﷺ يقول: "يُؤتى يومَ القيامة بالحَجَر الأسود وله لسانٌ ذَلِقٌ يَشهدُ لمن يَستلمُه بالتوحيد"، فهو يا أميرَ المؤمنين يضرُّ ويَنفعُ، فقال عمر: أعوذُ بالله أن أعيشَ في قومٍ لستَ فيهم يا أبا حسن (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نے سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ حج کیا، پس جب وہ طواف میں داخل ہوئے تو حجرِ اسود کے سامنے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ”میں اچھی طرح جانتا ہوں کہ تو محض ایک پتھر ہے جو نہ نقصان پہنچا سکتا ہے اور نہ نفع، اور اگر میں نے رسول اللہ ﷺ کو تیرا بوسہ لیتے ہوئے نہ دیکھا ہوتا تو میں کبھی تیرا بوسہ نہ لیتا۔“ پھر انہوں نے اسے بوسہ دیا، تو سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے عرض کیا: ”کیوں نہیں اے امیر المومنین! یہ تو نقصان بھی پہنچاتا ہے اور نفع بھی۔“ انہوں نے پوچھا: ”آپ نے یہ کس بنیاد پر کہا؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”اللہ عزوجل کی کتاب کی رو سے۔“ انہوں نے پوچھا: ”کتاب اللہ میں یہ کہاں درج ہے؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿وَإِذْ أَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَأَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى﴾ ”اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا اور انہیں خود ان پر گواہ بنا کر پوچھا کہ کیا میں تمہارا رب نہیں ہوں؟ تو ان سب نے کہا: کیوں نہیں! (ہم گواہی دیتے ہیں)۔“ [سورة الأعراف: 172]، اللہ نے آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کی پشت پر مسح فرمایا، پس ان سے اقرار لیا کہ وہی رب ہے اور وہ سب اس کے بندے ہیں، پھر ان سے عہد و میثاق لیا اور اسے ایک صحیفے میں لکھ دیا، اس وقت اس پتھر کی دو آنکھیں اور ایک زبان تھی، تو اللہ نے اسے فرمایا: اپنا منہ کھول، اس نے اپنا منہ کھولا تو اللہ نے وہ صحیفہ اس کے منہ میں ڈال دیا اور فرمایا: قیامت کے دن اس شخص کی وفاداری کی گواہی دینا جو تیرے پاس آئے۔ اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”قیامت کے دن حجرِ اسود کو لایا جائے گا اور اس کی ایک نہایت فصیح زبان ہوگی جو اس شخص کے حق میں توحید کی گواہی دے گی جس نے اس کا استلام کیا ہوگا“، چنانچہ اے امیر المومنین! یہ نفع بھی پہنچاتا ہے اور نقصان بھی۔“ تب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں ایسی قوم میں زندہ رہوں جس میں اے ابوالحسن (علی) آپ موجود نہ ہوں۔“
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1700
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف جدًّا
تخریج حدیث «إسناده ضعيف جدًّا، عمارة بن جوين أبو هارون العبدي متروك الحديث، وبعضهم كذَّبه.» [ترقيم الرساله 1700] [ترقيم الشركة 1688]