کتب حدیث ›
المستدرك على الصحيحين › ابواب
› باب: رکن اور مقام (ابراہیم) جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا الرَّبيع بن سليمان، حدثنا أيوب بن سُوَيد، حدثنا يونس بن يزيد، عن الزُّهري، عن مُسافِع الحَجَبي، عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسولُ الله ﷺ: "الرُّكنُ والمَقامُ ياقوتتان من يَواقِيتِ الجَنَّة طَمَسَ الله نُورَهما، ولولا ذلك لأضاءَتا ما بين المشرق والمغرِب" (1).
هذا حديث تفرد به أيوب بن سُويد عن يونس، وأيوب ممَّن لم يحتجّا به، إلّا أنه من أَجِلَّة مشايخ الشام (1). ولهذا الحديث شاهد صحيحٌ:
هذا حديث تفرد به أيوب بن سُويد عن يونس، وأيوب ممَّن لم يحتجّا به، إلّا أنه من أَجِلَّة مشايخ الشام (1). ولهذا الحديث شاهد صحيحٌ:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رکنِ اسود اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا نور ختم کر دیا ہے، اور اگر اللہ ایسا نہ فرماتا تو یہ مشرق و مغرب کے درمیان کی ہر چیز کو روشن کر دیتے۔“
اس حدیث کو ایوب بن سوید نے یونس سے روایت کرنے میں تفرد کیا ہے، اور ایوب ان راویوں میں سے ہیں جن سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، تاہم وہ شام کے جلیل القدر شیوخ میں سے ہیں۔ اور اس حدیث کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے:
اس حدیث کو ایوب بن سوید نے یونس سے روایت کرنے میں تفرد کیا ہے، اور ایوب ان راویوں میں سے ہیں جن سے شیخین نے احتجاج نہیں کیا، تاہم وہ شام کے جلیل القدر شیوخ میں سے ہیں۔ اور اس حدیث کا ایک صحیح شاہد بھی موجود ہے:
حدَّثَناه أبو سعيد أحمد بن يعقوب بن إبراهيم (1) بن مِهْران الثَّقَفي إملاءً من أصل كتابه، حدثنا محمد بن عثمان بن أبي شَيْبة، حدثنا أحمد بن هشام بن بَهْرام المَدائني، حدثنا داود بن الزّبْرِقان، حدثنا أيوب السَّخْتِياني، عن قتادةَ، عن أنسٍ قال: قال رسول الله ﷺ: "الرُّكنُ والمَقامُ ياقوتَتانِ من يَواقِيتِ الجنة" (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”رکنِ اسود اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں۔“
وحدَّثَناه أبو بكر محمد بن أحمد بن بالَويهِ، حدثنا إسحاق بن الحسن بن ميمون، حدثنا عفّان بن مسلم، حدثنا أبو يحيى رجاء بن يحيى (3)، حدثنا مُسافِع ابن شَيْبة، قال: سمعتُ عبد الله بن عمرٍو أنشَدَ بالله ثلاثًا - ووَضَعَ إِصْبَعَيهِ فِي أُذُنيه -: لَسَمعتُ رسول الله ﷺ يقول: "الرُّكنُ والمَقَام ياقوتَتَان من يَوَاقيتِ الجنة، طَمَسَ الله نُورَهما، ولولا ذلك لأضاءتا ما بينَ المَشرِقِ والمَغرِب" (1). وهذا شاهدٌ لحديث الزُّهري عن مُسافِع.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انہوں نے اللہ کی تین بار قسم کھا کر اور اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں رکھ کر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ”رکنِ اسود اور مقامِ ابراہیم جنت کے یاقوتوں میں سے دو یاقوت ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کا نور ختم کر دیا ہے، اور اگر ایسا نہ ہوتا تو یہ مشرق و مغرب کے درمیان کی ہر چیز کو منور کر دیتے۔“
یہ حدیث، زہری کی مسافع سے روایت کردہ حدیث کے لیے شاہد ہے۔
یہ حدیث، زہری کی مسافع سے روایت کردہ حدیث کے لیے شاہد ہے۔
حدثنا عبد الصَّمد بن علي البزَّاز ببغداد، حدثنا جعفر بن محمد بن شاكر، حدثنا الحسن بن موسى الأشْيَب، حدثنا ثابت بن يزيد، عن عبد الله بن عثمان بن خُثَيم، عن سعيد بن جُبَير، عن ابن عباس قال: قال رسولُ الله ﷺ: "إنَّ لهذا الحجر لسانًا وشَفَتَين، يشهَدُ لمن استَلَمَه يومَ القيامةِ بحقٍّ" (2).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”بے شک اس پتھر (حجرِ اسود) کی ایک زبان اور دو ہونٹ ہیں، اور یہ قیامت کے دن اس شخص کے حق میں سچائی کے ساتھ گواہی دے گا جس نے اس کا استلام (بوسہ یا مسح) کیا ہوگا۔“
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی ہے:
اس حدیث کی سند صحیح ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اور اس کا ایک صحیح شاہد بھی ہے: