کتب حدیثالمستدرك على الصحيحينابوابباب: یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أحمد بن أبي الطَّيِّب قال: قُرئ على أبي بكر بن عيَّاش وأنا أَنظُر في هذا الكتاب فأقرَّ به: عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: اغتَسَلَ رسولُ الله ﷺ ثم لَبِس ثيابَه، فلما أتى ذا الحُلَيفة صلَّى ركعتين، ثم قَعَدَ على بعيرِه، فلمَّا استَوى به على البَيْداء أحرَمَ بالحجّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل فرمایا اور پھر اپنے کپڑے پہنے، جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعت نماز ادا کی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، جب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے حج کا احرام باندھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یعقوب بن عطاء بن ابی رباح ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث کو ائمہ کرام نے جمع کیا ہے، مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی مروی ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1655
درجۂ حدیث محدثین: حسن لغيره
تخریج حدیث «حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء: وهو ابن أبي رباح.» [ترقيم الرساله 1655] [ترقيم الشركة 1644]
حدَّثَناه أبو علي الحافظ، أخبرنا عَبْدان الأهوازي، حدثنا محمد بن المثنَّى، حدثنا سهل بن يوسف، حدثنا حُميد، عن بكر بن عبد الله المُزَني، عن ابن عمر قال: إنَّ من السُّنة أن يغتسلَ إذا أراد أن يُحرِمَ، وإذا أراد أن يَدخُل مكةَ (1).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ احرام باندھنے کے ارادے کے وقت اور مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کے وقت غسل کرنا سنت میں سے ہے۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1656
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،أبو علي الحافظ: هو الحسين بن علي، وعبدان الأهوازي: هو عبد الله بن أحمد بن موسى، ومحمد بن المثنى: هو ابن عبيد أبو موسى البصري الحافظ، وسهل بن يوسف: هو الأنماطي، وحميد: هو ابن أبي حميد الطويل.» [ترقيم الرساله 1656] [ترقيم الشركة 1645]
أخبرنا أبو عبد الله محمد بن يعقوب الحافظ، حدثنا محمد بن عبد الوهاب، أخبرنا جعفر بن عَوْن، أخبرنا هشام بن عُروة. وأخبرنا أحمد بن جعفر القَطِيعي، حدثنا عبد الله بن أحمد بن حنبل، حدثني أبي، حدثنا وكيع، عن هشام بن عُرْوة، عن أبيه، قال: حدثني ناجيةُ الخُزاعي، صاحبُ بُدْنِ رسول الله ﷺ: أنه سألَ رسول الله ﷺ: كيف أصنَعُ بما عَطَبَ من بُدْنِي؟ فأَمَرني أن أنحَرَ كلَّ بَدَنةٍ عَطَبَتْ، ثم يُلقَى نَعلُها في دَمِها، ثم يُخَلَّى بينها وبين الناس فيأكلونها (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
رسول اللہ ﷺ کی قربانی کی اونٹنیوں کے نگران ناجیہ خزاعی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! میں ان قربانی کے جانوروں کا کیا کروں جو (راستے میں) زخمی یا نڈھال ہو کر گر جائیں؟ آپ ﷺ نے مجھے حکم دیا کہ ”جو اونٹنی نڈھال ہو کر گر جائے اسے ذبح کر دو، پھر اس کا جوتا (نعل) اس کے خون میں ڈبو کر (اس کی کوہان کے ایک طرف) لگا دو (تاکہ معلوم ہو کہ یہ قربانی کا جانور ہے) اور پھر اسے لوگوں کے لیے چھوڑ دو کہ وہ اسے کھا سکیں۔“
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے، لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح،محمد بن عبد الوهاب: هو ابن حبيب الفرّاء. وهو في "مسند أحمد" 31/ (18943).» [ترقيم الرساله 1657] [ترقيم الشركة 1646]
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، أخبرنا العباس بن الوليد بن مَزْيَد البَيروتي، حدثنا أبي حدثنا الأوزاعي، حدثني عبد الله بن عامر، حدثني نافع، عن ابن عمر: عن رسول الله ﷺ قال: "مَن أَهدَى تطوعًا، ثم ضلَّتْ، فإن شاءَ أبدَلَها وإن شاءَ تَرَكَ، وإن كانت في نَذْرٍ فليُبدِلْ" (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس شخص نے نفلی قربانی کا جانور روانہ کیا اور وہ گم ہو گیا، تو اگر وہ چاہے تو اس کا بدل پیش کرے اور اگر چاہے تو چھوڑ دے، لیکن اگر وہ نذر (واجب) کی قربانی ہو تو اس کا بدل دینا ضروری ہے۔“
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔
حوالہ حدیث المستدرك على الصحيحين / أول كتاب المناسك / حدیث: 1658
درجۂ حدیث محدثین: صحيح موقوفًا
تخریج حدیث «صحيح موقوفًا، وهذا إسناد ضعيف لضعف عبد الله بن عامر - وهو الأسلمي أبو عامر المدني المقرئ - وقد خالف الحفّاظ كمالك بن أنس وشعيب بن أبي حمزة فإنهما روياه عن نافع عن ابن عمر موقوفًا.» [ترقيم الرساله 1658] [ترقيم الشركة 1647]