المستدرك على الصحيحين
أول كتاب المناسك— حج کا بیان
إِنَّ مِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَغْتَسِلَ إِذَا أَرَادَ أَنْ يُحْرِمَ وَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ مَكَّةَ باب: یہ سنت ہے کہ احرام باندھنے سے پہلے اور مکہ میں داخل ہونے سے پہلے غسل کیا جائے۔
حدیث نمبر: 1655
حدثنا أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن إسحاق الصَّغَاني، حدثنا أحمد بن أبي الطَّيِّب قال: قُرئ على أبي بكر بن عيَّاش وأنا أَنظُر في هذا الكتاب فأقرَّ به: عن يعقوب بن عطاء، عن أبيه، عن ابن عباسٍ قال: اغتَسَلَ رسولُ الله ﷺ ثم لَبِس ثيابَه، فلما أتى ذا الحُلَيفة صلَّى ركعتين، ثم قَعَدَ على بعيرِه، فلمَّا استَوى به على البَيْداء أحرَمَ بالحجّ (1).
هذا حديث صحيح الإسناد، فإنَّ يعقوب بن عطاء بن أبي رباح ممَّن جَمَعَ أئمةُ الإسم حديثه، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح على شرطهما:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے غسل فرمایا اور پھر اپنے کپڑے پہنے، جب آپ ﷺ ذوالحلیفہ پہنچے تو دو رکعت نماز ادا کی، پھر اپنی اونٹنی پر سوار ہوئے، جب اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر بیداء کے مقام پر سیدھی کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے حج کا احرام باندھا۔
یہ حدیث صحیح الاسناد ہے، اور یعقوب بن عطاء بن ابی رباح ان رواۃ میں سے ہیں جن کی احادیث کو ائمہ کرام نے جمع کیا ہے، مگر شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اس کا ایک صحیح شاہد شیخین کی شرط پر بھی مروی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ الشیخ عادل مرشد و رفقاء
(1) حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف يعقوب بن عطاء: وهو ابن أبي رباح.
درجۂ حدیث: یعقوب بن عطاء کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اپنے شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے۔
وأخرجه البيهقي 5/ 33 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (5/ 33) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2432) - ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق" 2/ 120 - 121 - عن محمد بن مخلد، عن محمد بن إسحاق الصغاني، به.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2432) نے محمد بن اسحاق الصغانی کی سند سے روایت کیا ہے۔
ورُويت بعض عباراته من وجه آخر صحيح عن ابن عباس، فقد أخرج أحمد 4/ (2296) و (2528) و 5/ (3149) و (3206) و (3244) و (3525)، ومسلم (1243)، وأبو داود (1752) و (1753)، وابن ماجه (3098)، والنسائي (3740) و (3748) و (3758) من طريق أبي حسان مسلم بن عبد الله الأعرج، عن ابن عباس قال: صلى رسول الله ﷺ الظهر بذي الحليفة، ثم دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن، وسَلَتَ الدمَ، وقلدها نعلين، ثم ركب راحلته، فلما استوت به على البيداء أهلَّ بالحج.
متابعات و شواہد: اس کے کچھ حصے صحیح سند سے ابن عباس ؓ سے مروی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں ظہر پڑھی، پھر اپنی اونٹنی کے کوہان پر نشان لگایا (اشعار کیا)، خون صاف کیا، اسے جوتیاں پہنائیں اور جب بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پکارا۔
وانظر ما سيأتي برقم (1675).
توضیح: اس کے متعلق مزید تفصیل آگے رقم (1675) پر آئے گی۔
وللحديث مفرقًا شواهد ذكرناها في "مسند أحمد" 4/ (2358).
والبيداء: هو طرف ذي الحليفة.
اہم نکتہ: "البيداء": یہ ذوالحلیفہ (مدینہ کی میقات) کا کنارہ ہے۔
درجۂ حدیث: یعقوب بن عطاء کے ضعف کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے، مگر اپنے شواہد کی بنا پر حسن لغیرہ ہے۔
وأخرجه البيهقي 5/ 33 عن أبي عبد الله الحاكم، بهذا الإسناد.
حوالہ / مصدر: اسے بیہقی (5/ 33) نے امام حاکم کی سند سے روایت کیا ہے۔
وأخرجه الدارقطني (2432) - ومن طريقه ابن الجوزي في "التحقيق" 2/ 120 - 121 - عن محمد بن مخلد، عن محمد بن إسحاق الصغاني، به.
حوالہ / مصدر: اسے دارقطنی (2432) نے محمد بن اسحاق الصغانی کی سند سے روایت کیا ہے۔
ورُويت بعض عباراته من وجه آخر صحيح عن ابن عباس، فقد أخرج أحمد 4/ (2296) و (2528) و 5/ (3149) و (3206) و (3244) و (3525)، ومسلم (1243)، وأبو داود (1752) و (1753)، وابن ماجه (3098)، والنسائي (3740) و (3748) و (3758) من طريق أبي حسان مسلم بن عبد الله الأعرج، عن ابن عباس قال: صلى رسول الله ﷺ الظهر بذي الحليفة، ثم دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن، وسَلَتَ الدمَ، وقلدها نعلين، ثم ركب راحلته، فلما استوت به على البيداء أهلَّ بالحج.
متابعات و شواہد: اس کے کچھ حصے صحیح سند سے ابن عباس ؓ سے مروی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ذوالحلیفہ میں ظہر پڑھی، پھر اپنی اونٹنی کے کوہان پر نشان لگایا (اشعار کیا)، خون صاف کیا، اسے جوتیاں پہنائیں اور جب بیداء پہنچے تو حج کا تلبیہ پکارا۔
وانظر ما سيأتي برقم (1675).
توضیح: اس کے متعلق مزید تفصیل آگے رقم (1675) پر آئے گی۔
وللحديث مفرقًا شواهد ذكرناها في "مسند أحمد" 4/ (2358).
والبيداء: هو طرف ذي الحليفة.
اہم نکتہ: "البيداء": یہ ذوالحلیفہ (مدینہ کی میقات) کا کنارہ ہے۔
درج بالا اقتباس المستدرک علی الصحیحین (تخریج و تحقیق: الشیخ عادل مرشد و رفقاء)، حدیث/صفحہ نمبر: 1655 سے ماخوذ ہے۔