أخبرنا إبراهيم العَدْل، حدثنا أبي، حدثنا يحيى بن يحيى، أخبرنا محمد بن أبي عَدِي، أخبرنا حُمَيد الطويل، عن أنس بن مالك قال: كان رسولُ الله ﷺ يَعتكِفُ في العَشْر الأواخر من رمضان، فلم يَعتكِفْ عامًا، فلما كان العامُ المقبِلُ اعتَكَفَ عشرين (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه. وله شاهدٌ صحيح:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ اعتکاف نہ فرما سکے، چنانچہ جب اگلا سال آیا تو آپ ﷺ نے بیس دن کا اعتکاف فرمایا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کی۔
حدَّثَناه أبو النَّضر الفقيه، حدثنا عثمان بن سعيد الدّارمي، حدثنا سَهْل بن بَكَّار وموسى بن إسماعيل، قالا: حدثنا حماد بن سَلَمة، عن ثابت، عن أبي رافع، عن أُبي بن كعب: أنَّ النبي ﷺ كان يَعتَكفُ العشرَ الأواخرَ من رمضان، فسافر عامًا فلم يَعتكِف، واعتَكَفَ من العام المُقبِل عشرين ليلةً (2).
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے، ایک سال آپ ﷺ نے سفر کیا تو اعتکاف نہ کر سکے، پھر اگلے سال آپ ﷺ نے بیس راتوں کا اعتکاف فرمایا۔
أخبرنا أبو الحسن أحمد بن محبوب الرَّمْلي بمكة، حدثنا عبد الله بن محمد بن نصر الرَّمْلي، حدثنا محمد بن أبي عمر العَدَني، حدثنا عبد العزيز بن محمد، عن أبي سُهيل بن مالك، عن طاووس، عن ابن عباس، أنَّ النبي ﷺ قال: "ليس على المُعتكِفِ صيامٌ إلَّا أن يَجعَلَه على نفسِه" (1).
هذا حديثٌ صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولفُقهاء أهل الكوفة في ضِدِّ
هذا حديثان أَذكُرُهما، وإن كانا لا يقاومان هذا الخبر في عدالة الرُّواة: الحديث الأول:
هذا حديثٌ صحيح الإسناد على شرط مسلم، ولم يُخرجاه. ولفُقهاء أهل الكوفة في ضِدِّ
هذا حديثان أَذكُرُهما، وإن كانا لا يقاومان هذا الخبر في عدالة الرُّواة: الحديث الأول:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ”اعتکاف کرنے والے پر (صرف اعتکاف کی وجہ سے) روزہ رکھنا لازم نہیں ہے الا یہ کہ وہ اسے (منت مان کر) اپنے اوپر لازم کر لے۔“
اس حدیث کی اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگرچہ فقہائے کوفہ نے اس کے برعکس دو حدیثیں بیان کی ہیں جن کا میں ذکر کروں گا، لیکن وہ راویوں کی عدالت کے پیمانے پر اس روایت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
اس حدیث کی اسناد امام مسلم کی شرط پر صحیح ہیں لیکن شیخین نے اسے روایت نہیں کیا۔ اگرچہ فقہائے کوفہ نے اس کے برعکس دو حدیثیں بیان کی ہیں جن کا میں ذکر کروں گا، لیکن وہ راویوں کی عدالت کے پیمانے پر اس روایت کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔
حدَّثَناه أبو العباس محمد بن يعقوب، حدثنا محمد بن سِنان القَزَّاز، حدثنا أبو علي الحنفي، حدثنا عبد الله بن بُدَيل عن عمرو بن دينار، عن ابن عمر: أنَّ عمرَ نَذَرَ في الجاهلية أن يَعتكِفَ يومًا، فسأل النبيَّ ﷺ، فقال النبيُّ ﷺ: "اعتَكِفْ، وصُمْ يومًا" (1). الحديث الثاني:
حافظ طلحہ بابر
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے دورِ جاہلیت میں ایک دن کے اعتکاف کی منت مانی تھی، پھر انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: ”تم اپنا اعتکاف پورا کرو اور اس دن کا روزہ بھی رکھو۔“
حدَّثَناه أبو علي الحسين بن عليٍّ الحافظ، حدثنا أحمد بن عُمَير الدمشقي، حدثنا محمد بن هاشم، حدثنا سُوَيد بن عبد العزيز، حدثنا سفيان بن حسين، عن الزُّهري، عن عُرْوة، عن عائشة، أنَّ نبيَّ الله ﷺ قال: "لا اعتكافَ إلَّا بصيامٍ" (2). لم يحتجَّ الشيخان بسفيان بن حسين (1) وعبد الله بن بُدَيل.
حافظ طلحہ بابر
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا: ”روزے کے بغیر اعتکاف (درست) نہیں ہے۔“
امام بخاری اور امام مسلم نے سفیان بن حسین اور عبداللہ بن بدیل سے احتجاج نہیں کیا۔
امام بخاری اور امام مسلم نے سفیان بن حسین اور عبداللہ بن بدیل سے احتجاج نہیں کیا۔
أخبرنا أبو القاسم عبد الرحمن بن الحسن القاضي، حدثنا إبراهيم بن الحسين، حدثنا آدم بن أبي إياس، حدثنا وَرْقاء، عن ابن أبي نَجِيح، عن عمرو بن دينار، عن عطاء، عن ابن عباس: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ واحدٍ ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ قال: زاد مسكينًا آخرَ ﴿فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ﴾، وليست بمنسوخة، إلَّا أنه قد وُضِعَ للشيخ الكبير الذي لا يستطيع الصِّيام، وأُمِر أن يُطعِمَ الذي يَعلَم أنه لا يطيقُه (1).
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط الشيخين، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد: ﴿وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ﴾ ”اور وہ لوگ جو اس کی طاقت رکھتے ہوں (مگر روزہ نہ رکھیں) ان پر فدیہ ایک مسکین کا کھانا ہے“ [سورة البقرة: 184] کی تفسیر میں فرمایا: کہ جس نے اپنی خوشی سے نیکی میں اضافہ کیا ﴿فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا﴾ تو اس نے ایک اور مسکین کو کھانا کھلا دیا ﴿فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ﴾ ”تو یہ اس کے لیے بہتر ہے“، انہوں نے فرمایا کہ یہ آیت منسوخ نہیں ہے، بلکہ یہ اس بوڑھے شخص کے حق میں ہے جو روزے کی قدرت نہیں رکھتا، اسے یہ حکم دیا گیا کہ وہ فدیہ میں کھانا کھلائے جب وہ یہ جان لے کہ وہ روزے کی طاقت نہیں رکھتا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث شیخین کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
أخبرنا إسماعيل بن محمد بن إسماعيل الفقيه بالرَّيّ، حدثنا أبو حاتم محمد بن إدريس، حدثنا محمد بن عبد الله الرَّقَاشي، حدثنا وُهَيب، حدثنا خالد الحذَّاء، عن عِكرمة، عن ابن عباسٍ، قال: رُخِّص للشيخ الكبير أن يفطِر ويُطعِم عن كلِّ يومٍ مسكينًا، ولا قضاءَ عليه (2).
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
هذا حديث صحيح على شرط البخاري، ولم يُخرجاه.
حافظ طلحہ بابر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ انتہائی بوڑھے شخص کے لیے یہ رخصت دی گئی ہے کہ وہ روزہ نہ رکھے اور ہر دن کے بدلے ایک مسکین کو کھانا کھلا دے، اور اس پر روزے کی قضا لازم نہیں ہے۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔
یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے لیکن انہوں نے اسے روایت نہیں کیا۔